“زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ

بیجنگ () چین کی تجارتی وزارت نے نام نہاد ” زائد پیداواری صلاحیت ” کے مسئلے پر چینی موقف کے عنوان سے ایک دستاویز جاری کی۔ اس میں حقائق و واقعات اور مضبوط منطق کے ذریعے مغرب کی جانب سے مسلسل دہرائے جانے والے “چین کی زائد پیداواری صلاحیت” کے بیانیے کی منظم انداز میں نفی کی گئی۔ یہ دستاویز محض ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ ایک ایسی “وضاحتی کتاب” ہے جو دھند کو چاک کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ” زائد پیداواری صلاحیت ” کے لفظ کے پیچھے مغرب کی دہری پالیسی اور سیاسی چال بازی چھپی ہوئی ہے۔
ایک ہی پیمانہ، دو الگ الگ معیار
مغرب کے سیاست دانوں کی جانب سے چین کے پیداواری و معاشی معاملات پر استعمال ہونے والے ” زائد پیداواری صلاحیت ” کے معیار کو تین جملوں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ پیداوار اپنے ملک کی طلب سے زیادہ ہو، برآمدات کا حجم زیادہ ہو، اور صنعتی پالیسی کو حکومتی حمایت حاصل ہو۔ اگر واقعی یہی پیمانہ مغرب کی صنعتوں کے لیے استعمال کیا جائے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ امریکی کمپنی بوئنگ کے طیارے، انٹیل اور این ویڈیا کے چپس، ہالی ووڈ کی فلمیں، اور دوا سازی کی بڑی کمپنیاں اپنی مقامی ضرورت سے کہیں زیادہ پیداوار کرتی ہیں ، پوری دنیا کو بیچتے ہیں، اور طویل عرصے سے سرکاری آرڈرز، تحقیق و ترقی پر ٹیکس کی چھوٹ، زرعی سبسڈیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اسی طرح جرمنی کی گاڑیاں، فرانس کی شراب اور لگژری مصنوعات، اور سوئٹزرلینڈ کی گھڑیاں بھی بڑی حد تک برآمدات پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ انہیں اپنی حکومتوں یا یورپی یونین کی صنعتی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے۔ایپل کا آئی فون اور ٹیسلا ہمیشہ سے ہی عالمی منڈی کے لیے صلاحیت طے کرتے ہیں، امریکہ خود صرف ایک مارکیٹ کا حصہ ہے، اور یہ کمپنیاں بھی مختلف ٹیکس مراعات سے مستفید ہوتی ہیں۔ مغربی سیاست دانوں کے منطق کے مطابق ان سب کو بھی “صلاحیت سے زیادہ پیداوار کی برآمد” قرار دیا جانا چاہیے۔ ایک اسکالر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر مقامی طلب سے زیادہ پیداوار کو غلط سمجھا جائے تو کیا بوئنگ کو اپنے طیاروں کی پیداوار کم کر دینی چاہیے؟ کیا امریکی سویا بین کے کاشتکاروں کو بھی اپنی پیداوار محدود کر دینی چاہیے؟
معاشیات میں ” زائد پیداواری صلاحیت ” کی تعریف کبھی ایسی نہیں رہی
سنجیدہ معاشیات میں ” زائد پیداواری صلاحیت ” کا فیصلہ ایک سنجیدہ معیار سے ہوتا ہے۔ میکرو سطح پر دیکھا جاتا ہے کہ کیا پوری صنعت کی پیداواری صلاحیت مستقل طور پر طلب سے زیادہ ہے۔ عام استعمال ہونے والا اشاریہ ” پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح” ہے ، عام طور پر ترقی یافتہ معیشتوں میں 75 فیصد سے 80 فیصد کے درمیان اس کا معقول وسطی نقطہ سمجھا جاتا ہے اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ معیار عالمی مارکیٹ کی طلب کے تحت ہونی چاہیے، صرف ایک ملک کی سرحدوں کے اندر بیٹھ کر نہیں کی جانی چاہیے۔ اسی معیار کے مطابق دیکھا جائے تو 2024 میں چین کی مقررہ حجم کی صنعتی کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح تقریباً 75 فیصد جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت میں یہ شرح تقریباً 76 فیصد رہی، جو مکمل طور پر ایک معمول کی سطح ہے۔ڈبلیو ٹی او اور آئی ایم ایف نے بھی ” زائد پیداواری صلاحیت ” کے لیے کوئی متفقہ سرکاری معیار طے نہیں کیا، نہ ہی اس میں “برآمدات یعنی زیادہ پیداوار” والا کوئی اصول ہے۔ اس کے باوجود مغربی سیاست دان ایک ہی بیانیہ دہراتے ہیں: برآمدات زیادہ ہوں تو زائد پیداواری صلاحیت، حکومتی معاونت ملے تو منڈی میں بگاڑ، اور قیمت مغربی مصنوعات سے کم ہو تو ڈمپنگ۔ یہ مؤقف سنجیدہ معاشی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہے جس میں معاشی اصطلاحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مغرب علمی اصطلاحات کے پیچھے کیوں چھپتا ہے؟
لفظ ” زائد پیداواری صلاحیت ” کو بار بار دہرانے کی وجہ یہ ہے کہ علمی اصطلاح سننے میں غیر جانبدار تکنیکی فیصلہ لگتی ہے، جس سے ایک ایسی “مسلمہ حقیقت ” کا احساس پیدا ہوتا ہے جس پر بحث مشکل ہو جائے، جیسے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ “مجھے ڈر ہے کہ تم مجھ سے سستے ہو گے”۔ ایک بار یہ لفظ نکالا جائے تو بحث میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ “پہلے اس کی تردید ثابت کرو تب ہی جواب دو”، اور ایک مبہم اصطلاح کی تردید کرنا اس بات کو ظاہر کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ “میں دراصل تجارتی تحفظ پسندی چاہتا ہوں”۔ درحقیقت مغرب اپنی معاشی خواہشات کو غیر جانبدار معاشی اصولوں کا لبادہ پہنانا چاہتا ہے۔ اینٹی سبسڈی تحقیقات، اضافی محصولات اور دیگر تجارتی پابندیوں کے لیے ایک ایسا جواز درکار ہوتا ہے جو بظاہر تحفظ پسندی نہ لگے، اور “زائد پیداواری صلاحیت” کی اصطلاح یہی کردار ادا کرتی ہے۔اسی لیے چینی دستاویز نے بجا طور پر اسے “تجارتی اور اقتصادی مسائل کو سیاسی رنگ دینے والا بیانیہ” قرار دیا ہے۔
چین نہ تو الفاظ کی اس سیاسی بازیگری کا حصہ بنتا ہے، نہ مغربی برانڈز کی عالمی فروخت کو “زائد پیداواری صلاحیت” قرار دیتا ہے، اور نہ ہی یہ سمجھتا ہے کہ چینی مصنوعات کی عالمی مقبولیت خود بخود اسی زمرے میں آتی ہے۔ جب مغرب چین پر ” زائد پیداواری صلاحیت ” کہتا ہے تو وہ ایک سیاسی پیمانہ استعمال کرتا ہے، معاشی پیمانہ نہیں۔ اگر یہی پیمانہ مغرب کے لیے استعمال کیا جائے ان کا بیانیہ وہیں دم توڑ دیتا ہے۔عالمی معیشت کی صحت مند ترقی کا اصل راستہ اصطلاحات کی جنگ میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ عام فہمی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ برآمدات کا مطلب زائد پیداواری صلاحیت نہیں، کم قیمت کا مطلب ڈمپنگ نہیں، اور عالمی نظریے سے طلب و رسد کے معقول توازن کی کوشش کرنا ہی وہ سمت ہونی چاہیے جس میں سب مل کر آگے بڑھیں۔ تحفظ پسندی صرف عالمی تجارتی نظام کو بگاڑے گی، عالمی سپلائی چین کی حفاظت و استحکام اور صنعتی تعاون کی صحت مند ترقی کے لیے نقصان دہ ہو گی، اور عالمی معاشی ترقی کے لیے طویل مدتی خطرہ بنے گی۔ صرف کھلے تعاون اور باہمی فائدے پر مبنی رویہ اختیار کر کے اختلافات و تنازعات کو حل کرنا ہی سیدھا راستہ ہے۔

Date . 29/ July/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top