Dance
SWATI SHARMA – MRS INDIA INTERNATIONAL QUEEN 2026 FINALIST, TALENT ROUND #mrsindia
News
“چینی اسٹائل کی ٹھنڈک” نے عالمی موسمِ گرما کی کھپت کا نقشہ ہی بدل دیا، چینی میڈیا
News
جاپان اور امریکہ کی مشترکہ مداخلت بھی جاپانی ین کی گرتی ہوئی قدر کو نہیں روک سکتی، رپورٹین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتابیجنگ ()امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ “امریکہ اور جاپان کی جانب سے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے نتیجے میں جاپانی کرنسی ین کی قدر میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کو مؤثر انداز میں قابو کیا گیا”۔ دوسری جانب جاپانی وزیر خزانہ ستسوکی کاتایاما نے بھی تصدیق کی کہ جاپان اور امریکہ نے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان کے ساتھ مل کر یہ اقدام کیوں کیا، اور کیا یہ مشترکہ مداخلت واقعی ین کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دے سکتی ہے؟چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے امریکی امور کے ماہر ما وے کے مطابق، امریکہ کی جانب سے جاپان کے ساتھ ین کی شرحِ مبادلہ میں مداخلت کی بنیادی وجہ اس کے اپنے مالیاتی مفادات ہیں۔ جاپان اس وقت امریکی ٹریژری بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی ہولڈر ہے۔ اگر ین کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو جاپانی حکومت شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی شرحِ سود نمایاں طور پر بڑھے گی، جو پہلے سے ہی زیادہ ہے۔ اس تناظر میں مشترکہ مداخلت درحقیقت امریکہ کے اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کی بھی ایک کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ڈالر کے مقابلے میں ین کی نسبتاً مستحکم شرحِ مبادلہ، امریکہ کے جاپان کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی اور بعض صنعتوں کی امریکہ واپسی کے لیے بھی مفید ہے۔ما وے کا کہنا ہے کہ درمیانی اور طویل مدتی لحاظ سے دیکھا جائے تو زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے ذریعے ین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال اپریل میں جاپان نے ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک ہی ماہ میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، لیکن اس کے باوجود جون میں ڈالر کے مقابلے میں ین کی شرحِ مبادلہ دوبارہ 160 سے تجاوز کر گئی۔
Dance
SWATI SHARMA – MRS INDIA INTERNATIONAL QUEEN 2026 FINALIST, TALENT ROUND #mrsindia
News
“چینی اسٹائل کی ٹھنڈک” نے عالمی موسمِ گرما کی کھپت کا نقشہ ہی بدل دیا، چینی میڈیا
News
جاپان اور امریکہ کی مشترکہ مداخلت بھی جاپانی ین کی گرتی ہوئی قدر کو نہیں روک سکتی، رپورٹین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتابیجنگ ()امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ “امریکہ اور جاپان کی جانب سے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے نتیجے میں جاپانی کرنسی ین کی قدر میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کو مؤثر انداز میں قابو کیا گیا”۔ دوسری جانب جاپانی وزیر خزانہ ستسوکی کاتایاما نے بھی تصدیق کی کہ جاپان اور امریکہ نے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان کے ساتھ مل کر یہ اقدام کیوں کیا، اور کیا یہ مشترکہ مداخلت واقعی ین کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دے سکتی ہے؟چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے امریکی امور کے ماہر ما وے کے مطابق، امریکہ کی جانب سے جاپان کے ساتھ ین کی شرحِ مبادلہ میں مداخلت کی بنیادی وجہ اس کے اپنے مالیاتی مفادات ہیں۔ جاپان اس وقت امریکی ٹریژری بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی ہولڈر ہے۔ اگر ین کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو جاپانی حکومت شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی شرحِ سود نمایاں طور پر بڑھے گی، جو پہلے سے ہی زیادہ ہے۔ اس تناظر میں مشترکہ مداخلت درحقیقت امریکہ کے اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کی بھی ایک کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ڈالر کے مقابلے میں ین کی نسبتاً مستحکم شرحِ مبادلہ، امریکہ کے جاپان کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی اور بعض صنعتوں کی امریکہ واپسی کے لیے بھی مفید ہے۔ما وے کا کہنا ہے کہ درمیانی اور طویل مدتی لحاظ سے دیکھا جائے تو زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے ذریعے ین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال اپریل میں جاپان نے ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک ہی ماہ میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، لیکن اس کے باوجود جون میں ڈالر کے مقابلے میں ین کی شرحِ مبادلہ دوبارہ 160 سے تجاوز کر گئی۔
Showbiz
ارمیلا اور رام گوپال ورما نے خفیہ شادی کی تھی، بھارتی صحافی کا انکشاف
Subscribe to Our Newsletter

gravida aliquet vulputate faucibus tristique odio.

Currency

1 United States Dollar equals

277.63 Pakistani Rupee DATE . 3 / Aug/2026
Currency

1 United States Dollar equals

276.89 Pakistani Rupee DATE . 2 / Aug/2026
Currency

ملک بھر کے لاکھوں پنشنرز کو بجٹ میں اضافہ شدہ ادائیگی نہ ہوسکی

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 27-2026 میں پنشنرز کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کے باضابطہ اعلان کے باوجود یکم اگست ...
Stay Connected
TechWire News

2M+ Followers

@techwirenews

1.4M+ Followers

TechWire

4M+ Subscribers

TechWire Podcast

Listen to daily tech news podcast

Sorry, we couldn't find any posts. Please try a different search.

Sorry, we couldn't find any posts. Please try a different search.

جاپان اور امریکہ کی مشترکہ مداخلت بھی جاپانی ین کی گرتی ہوئی قدر کو نہیں روک سکتی، رپورٹین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتابیجنگ ()امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ “امریکہ اور جاپان کی جانب سے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے نتیجے میں جاپانی کرنسی ین کی قدر میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کو مؤثر انداز میں قابو کیا گیا”۔ دوسری جانب جاپانی وزیر خزانہ ستسوکی کاتایاما نے بھی تصدیق کی کہ جاپان اور امریکہ نے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان کے ساتھ مل کر یہ اقدام کیوں کیا، اور کیا یہ مشترکہ مداخلت واقعی ین کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دے سکتی ہے؟چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے امریکی امور کے ماہر ما وے کے مطابق، امریکہ کی جانب سے جاپان کے ساتھ ین کی شرحِ مبادلہ میں مداخلت کی بنیادی وجہ اس کے اپنے مالیاتی مفادات ہیں۔ جاپان اس وقت امریکی ٹریژری بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی ہولڈر ہے۔ اگر ین کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو جاپانی حکومت شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی شرحِ سود نمایاں طور پر بڑھے گی، جو پہلے سے ہی زیادہ ہے۔ اس تناظر میں مشترکہ مداخلت درحقیقت امریکہ کے اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کی بھی ایک کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ڈالر کے مقابلے میں ین کی نسبتاً مستحکم شرحِ مبادلہ، امریکہ کے جاپان کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی اور بعض صنعتوں کی امریکہ واپسی کے لیے بھی مفید ہے۔ما وے کا کہنا ہے کہ درمیانی اور طویل مدتی لحاظ سے دیکھا جائے تو زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے ذریعے ین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال اپریل میں جاپان نے ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک ہی ماہ میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، لیکن اس کے باوجود جون میں ڈالر کے مقابلے میں ین کی شرحِ مبادلہ دوبارہ 160 سے تجاوز کر گئی۔

DATE . 3 / Aug/2026

ارمیلا اور رام گوپال ورما نے خفیہ شادی کی تھی، بھارتی صحافی کا انکشاف

معروف بھارتی فلم ساز رام گوپال ورما اور اداکارہ ارمیلا ماتونڈکر کے درمیان 90 کی دہائی میں ڈیٹنگ کی افواہیں ...

Sorry, we couldn't find any posts. Please try a different search.

Scroll to Top