
مختلف ملکوں کی فوجوں کی جنگی صلاحیت اور جائزہ پیش کرنے والے ادارےگلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کے بعد تینوں ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیےکی مشترکہ فوجی طاقت نمایاں ہوگئی ہے۔
گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ مختلف فوجی طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی شراکت داری میں جوڑنےکی کوشش ہے۔
تینوں کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ فعال فوجی اہلکار، 3 ہزار 415 فوجی طیارے، 6 ہزار 46 ٹینک اور 344 بحری اثاثے موجود ہیں۔
پاکستان تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال اہلکاروں اور جوہری صلاحیت کے ساتھ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ترکیےکے پاس 192 بحری اثاثوں کے ساتھ ڈرونز، میزائلز، سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر سمیت مضبوط دفاعی صنعت ہے۔
سعودی عرب تقریباً 63 ارب 90 کروڑ ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کے ساتھ سب سے بڑا مالی حصہ فراہم کرتا ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت بھی نمایاں ہے۔
تینوں ممالک کا مشترکہ دفاعی بجٹ تقریباً 124 ارب 40 کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔
DATE . 13/ Aug/2026
