
چین کا مجموعی باکس آفس 27.5 ارب یوآن سے تجاوز کر چکا ہے، رپورٹ
بیجنگ ()
2026ء کی گرمیوں میں، موسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ چینی سنیما بھی عروج پر ہے۔ 25 اگست تک، پری سیل سمیت چین کا مجموعی باکس آفس 27.5 ارب یوآن سے تجاوز کر چکا ہے۔ سمر فلم سیزن کے دوران مسلسل 46 روز تک یومیہ باکس آفس 100 ملین یوآن سے زیادہ رہا۔یہ رونق صرف گھریلو سنیما گھروں تک ہی محدود نہیں، بلکہ “آل وشز کم ٹرو ” ، ” ایک بار مشرق وسطیٰ میں ” ، اور “ڈیئر یو” سمیت کئی چینی فلمیں بیک وقت بیرون ملک سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی ہیں اور دنیا بھر کے ناظرین کی پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ چینی سنیما اپنی منفرد کہانیوں کے ذریعے نہ صرف چینی عوام کی روزمرہ زندگی کی کہانیاں بلکہ دنیا کو دیکھنے کے چینی انداز کو بھی عالمی سنیما کے اس کھلے پلیٹ فارم تک پہنچا رہا ہے۔ چائنا فلم ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025ء میں چینی فلموں کا اوورسیز باکس آفس ایک ارب یوآن سے تجاوز کر گیا، اور یہ فلمیں 46 ممالک اور علاقوں میں پیش کی گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر چینی فلموں کی بڑھتی ہوئی توجہ کی سب سے براہِ راست وجہ چینی ثقافت کا منفرد مشرقی حسن اور چینی طرز کی ان اقدار کا اظہار ہے جو چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذریعے انسانی جذبات اور احساسات کو اجاگر کرتی ہیں۔
مذکورہ تینوں فلموں ہی کو مثال کے طور پر لیا جائے تو: “آل وشز کم ٹرو” میں آسمان سے اترے ہوئے بلند مرتبہ دیوتا نہیں بلکہ چند عام انسان مل کر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔ ” ایک بار مشرق وسطیٰ میں ” میں کسی بڑے تاریخی بیانیے کی بات نہیں بلکہ جنگ کے دھوئیں کے درمیان ہر روز تیار ہونے والا وہ کھانا ہے جس کے بغیر زندگی کا سفر ممکن نہیں؛ “ڈیئر یو” میں صرف رومانوی افسانہ نہیں، بلکہ سمندر پار اجنبیوں کی ایک دوسرے کے لیے حمایت کی کہانی ہے۔ ان فلموں میں کوئی بلند مقام پر کھڑا ہو کر فیصلے سنانے والا منصف نہیں، آسمان سے اتر کر سب کو بچانے والا کوئی نجات دہندہ نہیں اور نہ ہی چادر اوڑھے کوئی سپر ہیرو ہے۔ یہاں صرف عام لوگ ہیں جو مل کر مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں، ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور مشکل میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
ماضی میں چینی فلموں میں کنگ فو اور پانڈا جیسے علامتی عناصر زیادہ دکھتے تھے، آج چینی فلموں میں لوگ چینی جمالیات اور مشرقی اساطیر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، چینی لوگوں کے کھانے کے احترام، رشتوں کی پاسداری اور جنگ کی مخالفت کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں۔ فلموں کے موضوعات متنوع ہو تے جارہے ہیں ، فلمی زبان اور بصری اظہار مزید نفیس ہو رہا ہے، لیکن ان کی کلید چینی ثقافت کی روح ہی ہے۔ جنگ مخالف سوچ، انسانی تعلقات، وفاداری اور جدوجہد جیسے بڑے تصورات کو کھانے سے سجی میزوں اور ایک دوسرے کو بھیجے گئے خطوط میں تبدیل کرنا ہی چینی طرز کی کہانی بیان کرنے کا ایک اہم راز ہے۔ اس کامیابی نے صرف باکس آفس کو نہیں جیتا بلکہ چین اور بیرون ملک ناظرین کے دلوں میں حقیقی جذباتی ہم آہنگی بھی پیدا کی ہے۔
چینی سنیما میں مسلسل معیاری فلموں کی آمد کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مکمل اور مؤثر فلم انڈسٹری چین کا نتیجہ ہے۔ چھنگ دو شہر کے ٹھیان فو چھانگ داؤ ڈیجیٹل کلچر اینڈ کریٹیو پارک میں ایک اینی میشن فلم کی منصوبہ بندی سے لے کر تیاری اور بعد ازاں تشہیر و تقسیم تک تمام مراحل ایک دوسرے سے قریبی مربوط ہیں۔دریائے یانگسی کے ڈیلٹا میں ہانگ چو، ووشی اور شنگھائی جیسے شہر ہائی پریسیژن مڈل اور پوسٹ پروڈکشن کا کام کرتے ہیں، ہینگ دیان اور شیانگ شان کے فلم اسٹوڈیوز شوٹنگ کا کام سنبھالتے ہیں، اور چھنگ داؤ شہر ورچوئل پروڈکشن کرتا ہے۔۔۔ ملک بھر میں پھیلی ہوئی یہ فلم انڈسٹری چین چینی سنیما کی مسلسل اعلیٰ معیاری ترقی کی مضبوط بنیاد ہے۔
معیاری فلموں کی مسلسل آمد نے صرف سینما گھروں کی باکس آفس آمدنی میں اضافہ نہیں کیا بلکہ اس سے وابستہ ثقافتی تخلیقی مصنوعات، سیاحت اور ثقافتی سیاحت کے شعبوں کو بھی فروغ ملا ہے۔ فلمی ٹکٹس کھانے پینے، ثقافتی تخلیقی مصنوعات اور ثقافتی و سیاحتی پروڈکٹس کےکوپنز میں تبدیل ہو رہے ہیں، سینما گھر غیر مادی ثقافتی ورثے اور فلم سازی کے تجرباتی مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ فلموں میں دکھائے جانے والے ریستورانوں کی کہانیوں نے چینی کھانوں میں دلچسپی کو فروغ دیا، روایتی غیر مادی ثقافتی ورثے نے لوگوں میں تجربات کا جوش پیدا کیا اور فلموں کی شوٹنگ کے مقامات مقبول سیاحتی مراکز بن گئے۔”فلم پلس” معیشت مسلسل کھپت کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور ترقی کے نئے راستے کھول رہی ہے۔ چائنا فلم ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 چینی فلموں کی پوری انڈسٹری چین کی پیداواری مالیت 817.259 ارب یوآن تک پہنچ گئی اور چین کی فلمی صنعت کا باکس آفس ملٹی پلائر تقریباً 1:15.77 ہے، یعنی باکس آفس سے حاصل ہونے والی ہر ایک یوآن کی آمدنی کے نتیجے میں فلم سے متعلق اپ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم انڈسٹریز میں تقریباً 15.77 یوآن کی آؤٹ پٹ ویلیو پیدا ہوتی ہے۔ یہ دونوں اشاریے عالمی سطح پر سرفہرست ہیں۔
چینی فلموں کے عالمی سطح پر ہٹ ہونے اور “فلم پلس” معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ، چینی فلمی مارکیٹ بھی عالمی فلموں کے لیے ایک کشش کا مرکز بن گئی ہے۔ پی ڈبلیو سی کے مطابق، 2024ء سے 2029ء تک چین کی فلمی آمدنی کی مجموعی سالانہ ترقی کی شرح 5.25 فیصد تک پہنچ جائے گی، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ 2029ء تک، عالمی فلمی آمدنی میں چین کا حصہ بڑھ کر 22 فیصد ہو جائے گا۔ 2026ء سے اب تک، درآمدی فلموں کی تعداد، ریلیز کا تناسب اور بیک وقت پریمیئر کا حجم بڑھ رہا ہے، اور غیر ملکی فلم ساز “چینی مارکیٹ کے مطابق ڈھالنے” کو ترجیح دے رہے ہیں۔
2026 ء چین میں “فلمی معیشت کے فروغ کا سال” ہے۔سال بھر ناظرین کو فلمیں دیکھنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کم از کم 1.2 ارب یوآن کی سبسڈی دی جائے گی۔ مختلف شہروں کے درمیان فلم انڈسٹری چین کے مؤثر تعاون نے ایک فلمی ٹکٹ کو کھانے پینے، ثقافتی سیاحت اور ثقافتی تخلیقی مصنوعات سمیت مختلف اقسام کی کھپت سے جوڑ دیا ہے، جبکہ ملکی اور غیر ملکی فلمیں ایک ہی اسٹیج پر مسابقت کے ساتھ ایک دوسرے کی تکمیل بھی کر رہی ہیں۔ چینی سنیما کی مقبولیت صرف باکس آفس تک محدود نہیں۔ چینی طرز کی کہانیوں کے ذریعے دلوں کو چھونا، مکمل فلم انڈسٹری چین کے ذریعے پروڈکشن کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا اور “فلم پلس” کے ذریعے اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، چینی سنیما کو تیزی سے عالمی فلمی صنعت کے کھلے اور باہمی مربوط نظام کا حصہ بنا رہا ہے۔
DATE . 26 / Aug/2026
