آزاد کشمیر انتخابات: ایکدوسرے پر الزامات کے بعد پی پی اور ن لیگ میں مفاہمتی اجلاس، محاذ آرائی مزید بڑھنے نہ دینے پر اتفاق

آزاد کشمیر انتخابات: ایکدوسرے پر الزامات کے بعد پی پی اور ن لیگ میں مفاہمتی اجلاس، محاذ آرائی مزید بڑھنے نہ دینے پر اتفاق
یہ ملاقات میرپور کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان کئی دنوں سے جاری تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد ہوئی۔ فوٹو فائل

اسلام آباد: آزاد کشمیر کے جاری انتخابات کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے جمعرات کو مظفرآباد میں ملاقات کی تاکہ انتخابی دھاندلی کے الزامات سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو قابو میں رکھا جا سکے۔

یہ ملاقات میرپور کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان کئی دنوں سے جاری تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد ہوئی، جس میں پیپلز پارٹی نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھایا تھا۔

ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد اس تنازع کو وفاقی اتحادی حکومت میں دونوں جماعتوں کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہونے سے روکنا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ ملاقات وفاقی سطح پر ہونے والی مشاورت کے بعد ترتیب دی گئی۔ 

اگرچہ ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کو ایوانِ صدر اور وزیر اعظم آفس دونوں کی تائید حاصل تھی، تاہم دی نیوز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل راٹھور اور نیئر بخاری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں رانا ثناء اللہ اور امیر مقام سے ملاقات کی۔ اس گفتگو سے آگاہ ذرائع کے مطابق دونوں جانب کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران اور میرپور کے نتائج کے اعلان کے بعد دیے گئے بیانات پر ایک دوسرے کے سامنے کھل کر اپنے تحفظات اور شکایات پیش کیں۔ 

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ منظم انتخابی دھاندلی کے اپنے الزام کے حق میں شواہد پیش کرے۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے اعتراضات چار حلقوں ایل اے 5، ایل اے 9، ایل اے 11اور ایل اے 12سے مخصوص ہیں، جہاں ان کے خیال میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب پیپلز پارٹی نے اپنے اعتراضات چار حلقوں تک محدود رکھے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے باقی نو نشستوں کے نتائج کو عملاً تسلیم کر لیا ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) نے پانچ اور پیپلز پارٹی نے چار نشستیں حاصل کیں۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ موجودہ سیاسی محاذ آرائی کو مزید بڑھنے نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی اسے آزاد کشمیر کے انتخابات کے باقی مراحل پر منفی اثر ڈالنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ 

ملاقات میں باقی ماندہ حلقوں، خصوصاً مظفرآباد میں، پولنگ کے روز سیکورٹی کے انتظامات پر بھی اتفاقِ رائے ہوا۔ 

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا اطراف میں کسی بھی فرد کو اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، تاکہ پرامن، منظم اور شفاف پولنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس ملاقات کو دونوں اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس تنازع کو قابو میں لانے کی پہلی سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو وفاقی حکومت میں شراکت داری کے باوجود سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا تھا۔ 

DATE . July/31/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top