
صدیوں بعد پہلی بار دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے دنیا کے نقشوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
جی ہاں افریقا کی زیر قیادت ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس کے تحت دنیا کے نقشے میں ممالک کو ان کے تناسب کے مطابق درست انداز سے دکھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دنیا کے نئے نقشے جسے ایکول ارتھ ورلڈ میپ کا نام دیا گیا ہے، کو اپنانے کے لیے ایک قرارداد پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔
یہ نیا نقشہ ممالک اور براعظموں کے حقیقی رقبے کو برقرار رکھتے ہوئے دکھاتا ہے۔
ویسے اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ابھی دنیا کے نقشے کے لیے مرکٹر پروجیکشن نامی نقشہ بنانے کے طریقے کو استعمال کیا جاتا ہے، جسے 1569 میں ایک جغرافیہ دان اور کارٹوگرافر جیرارڈس مرکٹر نے متعارف کرایا تھا۔
مرکٹر اور ایکول ارتھ نقشے میں فرق
مرکٹر پروجیکشن میں قطبین کے قریب اور خط استوا سے دور موجود زمینیں نسبتاً بڑی دکھائی دیتی ہیں۔
ایکوئل ارتھ نقشہ ممالک اور براعظموں کے رقبے کو ایک دوسرے کے مقابلے میں درست تناسب سے دکھاتا ہے۔
مرکٹر پروجیکشن کو بنیادی طور پر ملاحوں کی نیوی گیشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا مگر اس میں یورپ، روس، گرین لینڈ اور شمالی امریکا استوائی خطوں کے مقابلے میں کافی بڑے نظر آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق زمین کے گول سطح کو مکمل طور پر ایک ہموار نقشے پر منتقل کرنا ممکن نہیں، اس لیے ہر عالمی نقشے میں کسی نہ کسی قسم کی تبدیلی یا تحریف ہوتی ہے، تاہم مختلف نقشہ جاتی طریقے سمت، شکل، فاصلے یا رقبے میں سے مختلف خصوصیات کو درست رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بصری عدم توازن افریقا کے بارے میں لوگوں کے تصور کو متاثر کرتا ہے۔
مثال کے طور پر افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے، لیکن مرکٹر نقشے پر دونوں خطے بعض اوقات تقریباً ایک ہی حجم کے دکھائی دیتے ہیں۔
دنیا کے نقشے مختلف کیوں نظر آتے ہیں؟
جیسا سب کو معلوم ہے کہ زمین گول ہے جبکہ کاغذ یا اسکرین پر نقشہ ہموار اور مستطیل ہوتا ہے، اس لیے زمین کی سطح کو مکمل طور پر درست انداز کے ساتھ ایک نقشے پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
اس لیے مختلف نقشہ جاتی پروجیکشنز میں سمت، شکل، فاصلے اور رقبے جیسی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔
مرکٹر پروجیکشن کو ملاحوں کی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ایک سمت میں مسلسل چلنے والی کمپاس لائنیں سیدھی نظر آتی ہیں، مگر خط استوا سے دور واقع زمینیں بڑی دکھائی دیتی ہیں۔
ایکول ارتھ نقشہ کیسے تیار کیا گیا؟
ایکول ارتھ نے اس کے لیے ایک مختلف طریقہ کار کو اختیار کیا ہے۔
اسے 2018 میں کارٹوگرافر Bojan Šavrič، یو ایس نیشنل پارک کے ٹام پیٹرسن اور موناش یونیورسٹی Bernhard Jenny نے تیار کیا تھا۔
اس میں خطوں کے حجم کو ان کے درست تناسب میں دکھایا جاتا ہے، تاکہ رقبے کی درست نمائندگی کے ساتھ نقشے کی ظاہری شکل بھی متوازن اور جانی پہچانی محسوس ہو۔
اس میں موجود سیدھی افقی لکیریں یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں کہ مختلف مقامات خط استوا کے شمال یا جنوب میں کتنی دور واقع ہیں۔
ٹوگو اس نقشے کے لیے مہم کیوں چلا رہا ہے؟
ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ دڈوسے نے افرقین گروپ کو بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بحث صرف نقشہ سازی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق دنیا کے بارے میں لوگوں کے تصورات سے بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نقشہ لوگوں کے تصورات تشکیل دیتا ہے اور ابتدائی تعلیمی برسوں میں بچوں کے ذہن میں ایسے نقشے مرتب کرتا ہے جو جغرافیائی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی نقشے میں افریقا کے حقیقی حجم کو تسلیم کیا جائے۔
مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے؟
اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو ٹوگو کی جانب سے 2027 کی پہلی سہ ماہی میں اس حوالے سے ایک اجلاس منتقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اس اجلاس میں یونیسکو، افریقی یونین اور گوگل میپس سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کو مدعو کرکے اس فیصلے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
تو بنیادی طور پر قرارداد ایک طویل ادارہ جاتی تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگی اور راتوں رات دنیا کے نقشے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔
DATE . 4 / Sep/2026
