📢 خطرے کو بھانپ لیجیے اس سے پہلے کہ افسوس کرتے رہ جائیں!

▪️آپ کا بچہ کن لڑکوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے؟
▪️آپ کا بچہ کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے؟
▪️آپ کے بچے کے پاس پیسے، موبائل، گھڑی جیسی چیزیں کہاں سے آتی ہیں اور کیوں آتی ہیں؟
▪️آپ کے بچے کو بائیک کون دیتا ہے اور کیوں دیتا ہے؟
▪️آپ کے بچے پر خرچے کون کررہا ہے اور کس لیے کررہا ہے؟
▪️آپ کا بچہ کن لوگوں کے ساتھ پکنک منانے جاتا ہے؟
▪️آپ کے بچے کو ہوٹلوں میں کھانے کون کھلا رہا ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟
ایسے کئی سارے سوالات ہیں جو کہ والدین کے ذہن میں آنے چاہییں اور ان کے جوابات تلاش کرکے ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرلینا چاہیے۔
ہم اپنی اولاد کے حوالے سے بڑی ہی غفلتوں کا شکار ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی انجان بن جاتے ہیں۔ اور ہماری یہی غفلتیں اور غلطیاں جہاں ہمارے بچوں کی دنیا اور آخرت برباد کردیتی ہیں تو وہاں ہمارے لیے بدنامی اور افسوس کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
یہ باتیں یقینًا تلخ ہیں، لیکن معاشرے کے بڑھتے اخلاقی زوال کے پیشِ نظر اس معاملے کو نظر انداز کردینا بڑے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے پر خرچے کرنے والے مفت میں خرچے کررہے ہیں؟ آپ کے بچے کو مفت میں اپنے ساتھ سیر وتفریح کے لیے لے جانے والا آدمی مخلص ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا بچہ اپنی عمر سے بڑے لڑکوں اور افراد کے ساتھ کیوں وقت گزارتا ہے؟ آپ کیسے والدین ہیں کہ جو معاشرے کی بگڑتی صورتحال دیکھنے کے باجود بھی اپنے بچوں کے بارے میں حساس نہیں ہیں؟ نجانے ہم کیوں ایسی باتوں میں بلاوجہ کا اچھا گمان کیے بیٹھے ہیں؟ ہم کس قدر سادہ یا کس قدر غافل لوگ ہیں!
اس موضوع سے متعلق میرے لیے اگرچہ کھل کر بات کرنا مشکل ہورہا ہے لیکن اشاروں کنایوں میں لکھی گئی اس مختصر تحریر کو بہت کچھ سمجھیں اور اپنے بچوں کی طرف بڑھنے والے خطرات کا ادراک کریں۔
آخر میں درد مندانہ گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی فکر کریں، ان پر نظر رکھیں، شفقت کے ساتھ ان کی خبر گیری کریں، یہ آپ کا سرمایہ ہے، اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔

آپ کا خیر خواہ
حافظ محمد نوید ھاشمی

DATE . 17/Sep/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top