مشرق وسطیٰ کے سلامتی امور کا کنٹرول مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے، چین

مشرق وسطیٰ کے موجودہ سیکورٹی ڈھانچے میں خامیاں ہیں، چینی نمائندہ

اقوام متحدہ ()
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لے نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے امور کا کنٹرول خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔
سن لے نے کہا کہ چین عرب لیگ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں سلامتی کونسل اور علاقائی سلامتی کے امور میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے میں عرب لیگ کی حمایت کرتا ہے اور ساتھ ہی علاقائی مسائل کو علاقائی ذرائع سے حل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ سیکورٹی ڈھانچے میں خامیاں ہیں اور اس میں اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے۔ سن لے نے کہا کہ چین مشترکہ، جامع ،تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیکورٹی ڈھانچے کی تشکیل میں علاقائی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ، مشرق وسطیٰ کے عوام کا ہے اور اس کے سیکورٹی امور کا کنٹرول خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے نے کہا کہ چین امن و سلامتی پر بات چیت کو بہتر بنانے، علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل نو اور اپنے مستقبل اور تقدیر کو مضبوطی سے سنبھالنے میں علاقائی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا مرکز ہے۔ عالمی برادری کو “دو ریاستی حل” کو نافذ کرنے اور جلد از جلد ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے لئے ناقابل واپسی اقدام کرنا چاہیے۔

DATE . 25/Sep/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top