جی 20 گروپ کے وزرائے تجارت کی کانفرنس کا امریکہ میں انعقادخوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفتواشنگٹن ()جی 20 گروپ کے وزرائے تجارت کی کانفرنس امریکی شہر ملواکی میں منعقد ہوئی، جس میں جی 20 کے ارکان اور مہمان ملک پولینڈ کے وزرائے تجارت اور متعلقہ نمائندوں نے شرکت کی۔ تمام فریقوں نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت، حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت سے نمٹنا، جبری مشقت کے خاتمے اور سب سے زیادہ مراعات یافتہ قوم کے اصول میں ترمیم سمیت دیگر امور شامل تھے۔ کانفرنس میں خوراک سے متعلق امور پر

اعلامیے پر اتفاق ہوا، جبکہ دیگر امور پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔چین کے نائب وزیر تجارت اور بین الاقوامی تجارتی نمائندے لی چھنگ گانگ نے کانفرنس میں شرکت اور خطاب کیا۔
لی چھنگ گانگ نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی ہے کہ جی 20 گروپ کو بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کی روشنی میں معیشت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں عالمی اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور گلوبل گورننس کو بہتر بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یک طرفہ پسندی سے نمٹنے کے لیے چین جی 20 کے ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ کثیرالجہتی پسندی پر عمل پیرا ہوں، عالمی تجارتی تنظیم کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کریں، سب سے زیادہ مراعات یافتہ قوم کے اصول کا تحفظ اور اسے مضبوط بنائیں اور عالمی تجارت کے لیے استحکام اور سازگار ماحول فراہم کریں۔ لی چھنگ گانگ نے مزید کہا کہ جی 20 کو اجتماعی اقدامات کے ذریعے کھلے پن کے نظام کو برقرار رکھنا چاہیے، پائیدار ترقی کے ذریعے عالمی تقسیم کو کم کرنا چاہیے اور ڈیجیٹل اور سمارٹ تعاون کے ذریعے ترقی کی نئی توانائی کو جاری رکھنا چاہیے۔
کانفرنس کے دوران لی چھنگ گانگ نے امریکہ، یورپی یونین، سعودی عرب، روس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، ارجنٹینا،آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور پولینڈ سمیت مختلف وفود کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں اور مختصر تبادلۂ خیال بھی کیا۔

DATE . 3/Oct/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top