کینٹن فیئر کا سترسالہ سفر چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ عالمی تعاون کے دروازے کھول رہی ہے، چینی میڈیابیجنگ () چین کے شہر گوانگ چو میں ایک سو چالیسواں چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر (کینٹن فیئر) منعقد ہو رہا ہے۔ سروس روبوٹس کے سیکشن میں غیر ملکی تاجروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ وینزویلا کے ایک تاجر رافیل نے بیٹ ہاتھ میں لیا اور انسان نما روبوٹ کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلا۔ کچھ راؤنڈز کے بعد، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جس ٹیکنالوجی کو صرف تصور کیا جا سکتا تھا ، اب اسے آزمایا جا سکتا ہے، اور وہ اس پراڈکٹ کو اپنے ساتھیوں کو تجویز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نمائش کنندہ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ روبوٹ صرف اسٹیج پر پرفارم کرنے والا نہیں، بلکہ صنعتی معائنے اور عوامی رہنمائی جیسے حقیقی کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ کے بہت سے خریداروں نے میلے کے پہلے دن ہی بڑی مقدارمیں خریداری پر بات چیت شروع کی ہے۔ یہ منظر ایک سو چالیسویں کینٹن فیئر کی سب سے زندہ مثال ہے۔اس سال کینٹن فیئر کے قیام کے ستر سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اپنے آغاز میں کینٹن فیئر میں صرف 9600 مربع میٹر کا ہال تھا اور 1200 غیر ملکی خریدار ، نمائش میں ہلکی صنعت اور روزمرہ استعمال کا سامان تھا۔ آج اس میلے کا کل رقبہ 15.5 لاکھ مربع میٹر ہے، جس میں 32 ہزار کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار غیر ملکی خریدار کاروبار کے لیے موجود ہیں۔ چین کی وزارت تجارت اورریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ میلے میں نئی مصنوعات کا تناسب 23.2 فیصد اور سبز مصنوعات کا تناسب 26 فیصد ہے اور یہ دونوں نئے ریکارڈز ہیں۔ 64 فیصد نمائش کنندہ کمپنیوں نے صنعتی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو عملی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ خصوصی اورجدید مصنوعات کے حامل اداروں، اختراعی، سنگل آئٹم چیمپئن، اور ہائی ٹیک انٹرپرائزز کی تعداد 11,000 سے زیادہ ہے۔ ماضی کی چین کی روایتی مینو فیکچرنگ اب نئی معیار ی پیداواری قوتوں کے اظہار والی “ذہین مینوفیکچرنگ میں تبدیل ہو گئی ہے ۔مصنوعی ذہانت کے بارے میں لوگ عام طور پر بڑے ماڈلز اور کمپیوٹیشنل طاقت کے مقابلے جیسے موضوعات پر توجہ دیتے ہیں۔ موجودہ کینٹن فیئر میں مصنوعی ذہانت تحقیقی اداروں سے نکل کر ایسی حقیقی پراڈکٹ بن گئی ہے جس پر معاہدے کیے جا سکتے ہیں،اس کی ترسیل ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ اسمبلنگ اور چھانٹنے کا کام کرنے والا انسان نما روبوٹ ہو، یا اسمارٹ گلاسز ، یہ سب ایک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف چند بڑی ٹیک کمپنیوں کا کھیل نہیں رہی۔ چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کا بنیادی مقصد صرف ذہین ڈیوائسز بنانا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پوری پیداواری چین کو تبدیل کرنا ہے۔ مصنوعات کے ڈیزائن، سافٹ پراڈکشن سے لے کر بیرون ملک گاہکوں کے لیے حسب ضرورت تیاری تک، پوری چین میں معیار اور کارکردگی دونوں کی بہتری کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانے مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری لائنوں کو بہتر بناتے ہیں اور بیرونی مارکیٹ کے مطابق مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ جامع فوائد پر مبنی یہ ڈیجیٹل تبدیلی ہی چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی بین الاقوامی مسابقتی طاقت کی بنیاد ہے۔ ٹیکنالوجی اب صرف شاندار مظاہروں کے لیے نہیں، بلکہ عالمی مارکیٹ میں مختلف ممالک اور شعبوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرتی ہے اور اختراعی صلاحیت کو قابل تجارت مصنوعاتی حل میں بدل رہی ہے۔کینٹن فئیر میں نمائشی ہال میں مختلف ممالک کے تاجروں کی مسلسل آمد عالمگیریت پر بحث کے لیے ایک زندہ وضاحت فراہم کرتی ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ میں “ڈی کپلنگ” اور “ڈی رسکنگ” جیسے بیانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں، لیکن آرڈرز جھوٹ نہیں بولتے۔ تقریباً 200 ممالک اور علاقوں کے خریداردوردور سے گوانگ چو پہنچے ہیں۔ وہ اسٹالز پر پیرامیٹرز پوچھتے ہیں، ماڈلز طے کرتے ہیں اور طویل مدتی تعاون پر بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے عملی انتخاب سے باہمی فائدے والے تجارتی تعاون کی توثیق کر رہے ہیں۔ کینٹن فیئر ستر سال کی مشکلات کے باوجود کبھی بند نہیں ہوا جو خود کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا زندہ ثبوت ہے۔سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کرنے والا یہ دو طرفہ تعاون، بیرونی دنیا کے لیے چین کے کھلے پن کا مستقل عمل ہے۔ ستر سال کے دوران کینٹن فیئر نے صرف اشیا کا لین دین ہی نہیں دیکھا، بلکہ چین کے عالمگیریت کو قبول کرنے اور تمام ممالک کے ساتھ اختراعی فوائد بانٹنے کے مستقل عزم کو بھی دیکھا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اس سال کے کینٹن فیئرکے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ اپنے قیام کے گزشتہ ستر سال میں کینٹن فئیر نے چین اور بیرونی دنیا کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ چین کے اعلیٰ معیارکی کھلے پن کو وسعت دینے اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ نئی صورتحال میں، چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ہاتھ ملا کر کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا تحفظ کرنے، عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم اور ہموار بنانے، بین الاقوامی تجارت میں باہمی فائدے کے تعاون کے دائرے کو بڑھانے، جامع اور سب کے لیے فائدہ مند اقتصادی عالمگیریت کوفروغ دینے اور دنیا کی ترقی و خوشحالی کے لیے مسلسل نئی طاقت فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔ایک روبوٹ جو بیڈمنٹن کھیل سکتا ہے اور کارخانے میں کام بھی کر سکتا ہے، اس کے پیچھے عوامی جمہوریہ چین کے ستر سال کی بیرونی تجارتی کوششوں اور کھلے پن کے جذبے کی وراثت ہے ۔کینٹن فیئر کی تبدیلیاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ چین کی نئے معیارکی پیداواری قوت بند کمرے میں خود کو بہتر کرنے کا عمل نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لئے باہمی فائدے پرمبنی اختراعی طاقت ہے۔ تبدیلیوں سے بھرپور اس دنیا میں اگر تمام فریق میلے کو ایک پل اور ذہین مینوفیکچرنگ کو ایک ذریعہ کے طور پردیکھتے ہیں، اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو برقرار رکھتے ہیں، تو ہم یقیناً تکنیکی ترقی کے فوائد کا اشتراک کر سکیں گے اور مل کر ترقی کے مزید مواقع پیدا کر سکیں گے۔