بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، چینی نا ئب صدر

مشترکہ سلامتی کے ذریعے دیرپا امن قائم کیا جائے،ہان زینگ

اقوام متحدہ ()
چین کے نائب صدر ہان زینگ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عام مباحثے سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں ہان زینگ نے نشاندہی کی کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا اور اس کے بعد گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سویلائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیے گئے ، جن سے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی گئی۔ موجودہ بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور بہت سے عالمی چیلنجز ابھر رہے ہیں۔ ہان زینگ نے اس حوالے سے چار تجاویز پیش کیں۔ پہلی، جنگ عظیم دوم کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ سلامتی کے ذریعے دیرپا امن قائم کیا جائے۔ دوسری، عالمی ترقی کے چیلنجوں کے پیش نظر کھلے پن اور تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جائے۔ تیسری، تہذیبوں کے درمیان تبادلے اور باہمی سیکھ کو فروغ دیتے ہوئے بات چیت اور مکالمے کے ذریعے اتحاد اور باہمی اعتماد کو بحال کیا جائے اور چوتھی، کثیرالجہتی پر قائم رہتے ہوئے عدل و انصاف کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
چینی نائب صدر نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین نے 1971 میں اقوام متحدہ میں اپنی قانونی نشست دوبارہ بحال کی۔ 55 برسوں سے چین ہنگامہ خیز دنیا میں استحکام لانے والی قوت رہا ہے اور پرامن ترقی کی راہ پر ثابت قدم رہا ہے۔ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر بنی نوع انسان کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ نیویارک میں قیام کے دوران، ہان زینگ نے بلغاریہ، سربیا، قبرص، گھانا اور کریباتی کے صدور سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔

DATE . 27/Sep/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top