
حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملے اور ایران کی جانب سے مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور تیل کی قیمتیں بلند رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 37 سینٹ، یعنی 0.35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 106.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 95 سینٹ، یعنی 1.01 فیصد اضافے کے بعد 95.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلن کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے اور سعودی عرب و ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان حملوں کے تبادلے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے تقریباً 10 روز قبل حملوں کے لیے مختلف حکمت عملی استعمال کرنا شروع کی تھی۔
واضح رہے کہ ستمبر میں ایران کے علاوہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔
اس اضافے میں سعودی عرب کی برآمدات کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل کی برآمدات صفر پر آگئیں۔
DATE . 15/Oct/2026
