
اسلام آباد:قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے امریکہ کے سفارت خانے کی پولیٹیکل قونصلرشیلی اے ڈبلیو سیکسن کی قیادت میں تین رکنی وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بین الاقوامی سیاست، عالمی و علاقائی معیشت، اقتصادی ترقی، معاشی خوشحالی، امن و استحکام، سیکیورٹی صورتحال اور وسائل کے مؤثر استعمال سمیت مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مؤثر سفارتی حکمتِ عملی اور دور اندیشی کے باعث پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔
سیدال خان ناصر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاکھوں قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں اور اربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے مزید تعاون فراہم کرنا چاہیے، کیونکہ دہشت گردی نے پاکستان کی معاشی اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے معاشی، اقتصادی اور سماجی تعلقات کو مزید فروغ دے سکتی ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی وفود کے تبادلوں پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
امریکی وفد کے ارکان نے قائم مقام چیئرمین سینیٹ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم اور مؤثر ہو رہے ہیں۔
امریکی پولیٹیکل قونصلر نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں میں موجود مواقع سے آگاہ کریں گے تاکہ تجارتی، معاشی اور پارلیمانی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
آخر میں امریکی وفد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے۔
DATE. Jan/28/2026


