
راولپنڈی:شمالی وزیرستان کے عمومی علاقے بویا کے قریب 19 دسمبر 2025ء کو سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج نے ایک بزدلانہ اور سفاک دہشت گرد حملہ کیا۔حملے میں چار دہشتگرد ہلاک جبکہ چار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کیمپ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ناکامی کے بعد حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کیمپ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دیوار منہدم ہو گئی اور قریبی شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا، جس میں ایک مسجد بھی شامل ہے۔ اس وحشیانہ کارروائی کے باعث مقامی آبادی کے گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ خواتین اور بچوں سمیت پندرہ شہری شدید زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آرکاکہناہے کہ فوجی جوانوں نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے تمام چار دہشت گرد مارے گئے۔تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے چار بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہداء میں حوالدار محمد وقاص (عمر 42 سال، ضلع کوٹلی)، نائیک خانویز (عمر 38 سال، ضلع مانسہرہ)، سپاہی سفیان حیدر (عمر 25 سال، ضلع وہاڑی) اور سپاہی رفعت (عمر 32 سال، ضلع لیہ) شامل ہیں، جنہوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
آئی ایس پی آرکاکہناہے کہ یہ گھناؤنی دہشت گردی کی کارروائی افغانستان میں موجود خوارج کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جو افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ان خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
DATE . Dec/20/2025


