
فلپائن بحری مسائل پیدا کرکے تعاون کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، رپورٹ
بیجنگ () فلپائن کے 2سرکاری جہاز جان بوجھ کر چین کے ہوانگ یئن جزیرے کے پانیوں میں داخل ہوئے، جس پر چائنا کوسٹ گارڈ نے قانون کے مطابق انہیں وہاں سے ہٹانے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ تین روز قبل رن آئی ریف پر چائنا کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کو جان بوجھ کر اشتعال دلانے اور ان پر حملہ کرنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب فلپائن نے بحری مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فلپائن کی دونوں اشتعال انگیز کارروائیاں چین- آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلپائن بحری مسائل پیدا کرکے بات چیت اور تعاون کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رن آئی ریف پر فلپائن کی اشتعال انگیزی اور حملے کے جواب میں چین نے ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس میں دکھایا گیا ہے کہ فلپائنی اہلکاروں نے چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے کے لیے سب سے پہلے چپوؤں اور لمبی لاٹھیوں سمیت مختلف اوزار استعمال کیے، جبکہ چینی اہلکاروں نے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔
رواں سال چین- آسیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی پانچویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ چین اور آسیان کے آٹھ رکن ممالک کے درمیان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے سے لے کر چین -آسیان فری ٹریڈ ایریا 3.0 کے اپ گریڈ شدہ پروٹوکول پر دستخط تک، دونوں فریقوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو نمایاں فروغ ملا ہے۔ چین- آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ آسیان ممالک چین کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون گہرا کرنے اور رواں سال جلد از جلد ” بحیرہ جنوبی چین میں ضابطہ اخلاق ” طے کرنے کے خواہاں ہیں۔فلپائن میں مارکوس انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی دائیں بازو کی قوتوں نے بیرونی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت تیز کر دی ہے اور بحیرہ جنوبی چین میں بار بار اشتعال انگیز اقدامات کیے ہیں، جس سے علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، آسیان ممالک بیرونی طاقتوں کے مذموم عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے بھی نشاندہی کی ہے کہ خطے سے باہر کے بعض ممالک کا بحیرہ جنوبی چین سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فلپائن کی اشتعال انگیز سازشوں کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور آسیان ممالک میں بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے دانش مندی اور صلاحیت موجود ہے۔ دونوں فریق باہمی تعاون کو ایشیا بحرالکاہل کے علاقائی تعاون کا نمونہ بنانے اور تبدیلیوں سے دوچار دنیا میں مسلسل خوشحالی اور استحکام کے لیے نئی قوت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
DATE . 24/July/2026
