لاہور مین ہول حادثہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ذمہ داروں کو فوری گرفتار اور 2 ملازمین کو برطرف کرنے کاحکم

News Image

لاہور:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور مین ہول واقعہ پر غفلت کامظاہرہ کرنےوالےپراجیکٹ ڈائریکٹر ، منیجر ،کنسلٹنٹ ،سیفٹی انچارج اورعلاقے کے واسا انچارج کوفوری گرفتار کرنےاور 2سرکاری ملازمین کوفوری برطرف کاحکم دے دیا۔وزیراعلیٰ نے اعلی سطح اجلاس میں کہا کہ کمشنر،اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام ادارے واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ لواحقین کو ایک کروڑ روپے امداد دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صدارت میں لاہور میں پیش آنے والے افسوسناک مین ہول حادثے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہیں واقعے کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ واقعہ کی جگہ پر تعمیراتی کام جاری تھا اور انتہائی اندھیرے کے باعث ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں۔ ماں اور بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر مقیم تھیں جبکہ جائے وقوعہ پر رکشہ پارکنگ کے لیے ٹوکن دیا جاتا تھا۔

بریفنگ میں بتایاگیا کہ تعمیراتی مقام پر شدید شور کی وجہ سے کسی کو خاتون کی آواز سنائی نہ دے سکی، تاہم ریسکیو حکام نے بروقت کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ بتایا گیا کہ سیوریج لائن انتہائی اونچی ہے اور پانی کا بہاؤ مسلسل بدلتا رہتا ہے، جس کے باعث تلاش کے عمل میں مشکلات پیش آئیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فوری طور پر واقعے کی کوئی واضح شہادت نہیں ملی، تاہم ماں کی لاش گزشتہ روز اور بچی کی لاش آج برآمد کر لی گئی ہے۔

بریفنگ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور سائٹ پر موجود تمام افراد واقعے کے ذمہ دار ہیں، جن میں سپر وائزر، کنسلٹنٹ اور انجینئر شامل ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں تو اس المناک حادثے سے بچا جا سکتا تھا، جبکہ تعمیراتی سائٹ کے ساتھ کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پر ان کا دل انتہائی دکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی سائٹ پر انتہائی مجرمانہ غفلت برتی گئی اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے آج تک سائٹ کا دورہ بھی نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محض پینافلیکس لگا کر سائٹ بند کر دی گئی جبکہ روشنی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر متعلقہ اداروں کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر اجلاس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ چھوڑا جائے، اس کے باوجود غیر قانونی پارکنگ اور حفاظتی اقدامات پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا واقعہ ناقابلِ برداشت ہے۔

مریم نواز نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ورثاء کو تحقیقات کے لیے تھانے میں بند کرنا بہت بڑی زیادتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی غفلت اور نااہلی کے باعث دو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور واقعے کو ایسے پیش کیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ واقعے کے فوری بعد سیف سٹی کیمروں سے مدد کیوں نہیں لی گئی اور لڑکی کے والد کے بیانات کی بنیاد پر ورثاء کو تھانے میں بند کیوں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کے ذمہ دار پراجیکٹ ڈائریکٹر، منیجر اور کنسلٹنٹ کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے علاقے کے واسا انچارج کو بھی فوری گرفتار کرنے اور ملازمت سے برخاست کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی اور ہدایت کی کہ کسی بھی تعمیراتی سائٹ پر روشنی اور حفاظتی انتظامات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

DATE . Jan/30/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top