
بیجنگ ()
جاپان کی وزارتِ دفاع نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے نظام سے لیس سیٹلائٹ تیار کرے گی، تاکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی جنگی صلاحیت اور نام نہاد “جوابی حملے کی صلاحیت” میں اضافہ کیا جا سکے۔ جاپان کے اخبار “ٹوکیو شمبون” نے حال ہی میں اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ یہ اقدام “ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال” کا باعث بن سکتا ہے، جو جاپان کے “خاص دفاعی” اصول کے منافی ہے۔ اس اعلان نے جاپان کی جانب سے عسکری توسیع کی پرانی راہ پر دوبارہ چلنے کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے: مصنوعی ذہانت کو آخر کس سمت جانا چاہیے؟
ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ نیک ہوتی ہے نہ بد، لیکن اسے استعمال کرنے والے انسانوں کے اپنے مؤقف اور مقاصد ہوتے ہیں ۔ مصنوعی ذہانت تو انسانیت کے لیے مستقبل کا دروازہ کھولنے کی کنجی ہونی چاہیے تھی، مگر جاپان اسے عسکریت پسندی کی اسی پرانی راہ پر واپس لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو ایک آلے اور ہتھیار میں بدل کر عسکری توسیع کے مقصد میں استعمال کرنا ایک ایسا مقصد ہے جس میں “ذہانت” جتنی ترقی یافتہ ہو گی، اتنی ہی خطرناک ہو گی۔
یہ ہرگز مبالغہ آرائی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر فضائی حملوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے اہداف کی نشاندہی کی گئی تھی ۔ ایسی خبریں بھی آئی تھیں کہ امریکی فوج کے مصنوعی ذہانت کے نظام کی غلط نشاندہی کے باعث ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول پر بمباری ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں بے گناہ معصوم بچے اور شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ یوں الگورتھم کی ایک چھوٹی سی غلطی کی قیمت معصوم جانوں کی صورت میں ادا کی گئی ۔ جان لینے یا معاف کرنے کا اختیار مشین کے حوالے کر دینا، انسانی تحفظ کی بنیادی حدود کو براہِ راست چیلنج کرنا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ رائے عامہ اور لوگوں کے تصورات کے میدان میں بھی یہ ٹیکنالوجی بدنیت عناصر کے ہاتھوں جھوٹ کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے ایک آلے میں تبدیل کی جا رہی ہے، تاکہ تضادات پیدا کیے جائیں اور نفرت کو بھڑکایا جائے۔جاپان کے اخبار “آساہی شمبون”کی ایک تحقیق کے مطابق جاپان میں دائیں بازو کے عناصر CrowdWorks جیسے بڑے آن لائن فری لانس پلیٹ فارمز کے ذریعے طویل عرصے سے چین مخالف ویڈیوز تیار کرنے کے لیے لوگوں کو کام دے رہے ہیں۔ کام دینے والے افراد اپنی ضروریات کے ساتھ ایک تفصیلی “طریقۂ کار” بھی فراہم کرتے ہیں۔ کام حاصل کرنے والے شخص کو صرف اے آئی سافٹ ویئر میں چند سادہ ہدایات درج کرنا ہوتی ہیں اور چند ہی منٹوں میں کسی کو بدنام کرنے والی ویڈیو تیار ہو جاتی ہے۔تاریخ کو مسخ کرنے والی 30 سیکنڈ کی ایک اے آئی ویڈیو کی قیمت 5000 ین ہے؛ چین کے خلاف مواد کے لیے ہر ہزار بار دیکھے جانے پر 1000 ین کا انعام دیا جاتا ہے، جو عام ویڈیوز سے تین گنا زیادہ ہے، اور مقررہ تعداد سے زیادہ دیکھے جانے پر مزید انعام بھی ملتا ہے۔ آسان شرائط اور زیادہ منافع کے تحت، تاریخی حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت نہ رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس جعل سازی کی پیداواری لائن میں دھکیل دیا گیا ہے۔ یہ کوئی عوامی سرگرمی نہیں۔ جاپان کی وزارتِ خارجہ کے بجٹ کے عوامی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2015 سے اب تک جاپان نے “بیرون ملک اسٹریٹجک معلومات کی ترسیل” کے نام پر 56 ارب ین سے زائد رقم خرچ کی ہے، جس میں تاریخی معلومات اور تصوارات کو مسخ کرنے اور جارحیت پر مبنی جرائم کی شدت کو کم ظاہر کرنے جیسے امور شامل ہیں۔
درسی کتب میں ردوبدل، یاسوکونی شرائن پر حاضری ، عجائب گھروں کی معلومات میں تبدیلی ، جاپان میں دائیں بازو کی قوتیں اپنے تاریخی جرائم کو چھپانے کے لیے مسلسل نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں ۔ لیکن اے آئی کے دور میں ان ہتھکنڈوں سے پیدا ہونے والا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے ۔اے آئی سے تیار ہونے والا جھوٹا مواد انتہائی کم لاگت پر بڑے پیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہےاور الگورتھم اسے مخصوص صارفین تک براہ راست پہنچاتا ہے جہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ جھوٹ ایک بار عوامی ڈیٹا کے ذخیرے میں شامل ہو جائے تو اگلی جنریشن کے بڑے اے آئی ماڈلز انہیں حقیقت سمجھ کر سیکھ لیتے ہیں اور پھر ان کی بنیاد پر تخلیقات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح جھوٹ “علم” کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ جاپان کا سرکاری اے آئی نظام “گینائی” امریکی بڑے ماڈلز سے منسلک ہے اور مئی 1947 سے اب تک کی سرکاری دستاویزات کو اس کے لیے ڈیٹا بنایا گیا ہے۔ یہ معاملہ تشویش کا باعث اس لیے ہے کہ اس سے تعصب پر مبنی سرکاری بیانیے کو بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے اور بڑھاوا مل سکتا ہے، اور یک طرفہ نیز غلط بیانات کو ایک بظاہر غیر جانبدار بیانیے میں بدلا جا سکتا ہے۔
جنریٹو ماڈلز کی آؤٹ پٹ اکثر پورے یقین کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اور فطری طور پر ایک ساکھ کا تاثر رکھتی ہے، جس کے باعث عام آدمی کے لیے اس کے پیچھے چھپے مؤقف اور ڈیٹا کی آلودگی کو بھانپنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے “مصنوعی ذہانت بھلائی کے لیے” کے تصور کو محض ایک اپیل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے قابلِ عمل ادارہ جاتی انتظامات کی صورت میں نافذ کرنا ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مستند تاریخی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے اور تربیتی ڈیٹا کی سورسنگ اور صفائی کو یقینی بنایا جائے؛ تاریخ سے متعلق جعلی مواد کی بڑے پیمانے پر تیاری کے خلاف قانونی “ریڈ لائن ” کھینچی جائے؛ اور مصنوعی ذہانت کی بین الاقوامی گورننس میں انصاف کی آخری حد کو برقرار رکھا جائے۔
چین ہمیشہ اس موقف پرقائم رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بھلائی کے لیے استعمال ہونا چاہیئے اور چین اس پر عمل درآمد بھی کرتا رہا ہے: چین میں اے آئی ٹیکنالوجی زیادہ تر طب، تعلیم اور بزرگوں کی دیکھ بھال جیسے عوامی بہبود کے شعبوں میں استعمال ہوتی ہے، جس کا مقصد عوام کی زندگی کو حقیقی معنوں میں بہتر بنانا ہے۔ ساتھ ہی چین مصنوعی ذہانت کی عام رسائی کو فروغ دے رہا ہے اور اوپن سورس تعاون اور تکنیکی مدد کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی کے فوائد پہنچا رہا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی طاقتور ہو گی، انسانی اقدار کے ذریعے اس کی درستی اتنی ہی ضروری ہو گی۔ صرف اسی صورت میں کہ ٹیکنالوجی کو ہمیشہ انسانی اقدار کی رہنمائی کے تحت رکھا جائے تو مصنوعی ذہانت واقعی پوری انسانیت کے لیے بھلائی کا ذریعہ بن سکتی ہے، نہ کہ خطرے کا نیا سرچشمہ۔
DATE . 9/Sep/2026
