
اسلام آباد:وزیرِ اعظم سے انڈونیشیاء کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری روسن روئیسلانی کی سربراہی میں پانچ رکنی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیاء کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات، باہمی تعاون اور مستقبل میں معاشی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیاء کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار ہیں۔ انہوں نے انڈونیشیاء کے صدر پرابووو سوبیانتو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرابووو سوبیانتو کا گزشتہ سال پاکستان کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ وزیرِ اعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے اٹھاون ویں اجلاس کے دوران انڈونیشیئن صدر کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان انڈونیشیاء کے ساتھ معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے اور ساورن ویلتھ فنڈ کے ماڈل کے حوالے سے انڈونیشیاء کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔
انڈونیشیاء کے وزیر برائے سرمایہ کاری نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور بہترین میزبانی پر وزیرِ اعظم اور حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور وزیرِ اعظم کو انڈونیشیاء کے صدر پرابووو سوبیانتو کا نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انڈونیشیاء کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے 2027 تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ م
لاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیرِ اعظم کے معاونین خصوصی طارق فاطمی اور ہارون اختر سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
DATE . Feb/11/2026


