
لاہور:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے اصلاحات کا جامع پلان طلب کرلیا۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی زیر ِصدارت خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں ایف آئی آر کا آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ ہرپولیس سٹیشن کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کے لئے انہوں نے فنڈز کی منظوری دی ۔ پنجاب بھر میں 14ہزار باڈی کیم اور700پینک بٹن لگائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹریفک پولیس ون ایپ اورسیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی آغاز کیا ۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نےپولیس میں اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم،مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب پولیس اصلاحات نہیں کی گئیں تو پھر کبھی نہیں ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور نہ کرے ۔خواتین تھانے نہیں آسکتیں تو شکایات کے ازالے کےلئے موبائل پولیس اُن کے پاس جائے۔
انہوں نے کہا کہ شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل کی بجائے حوصلہ افزائی اورمدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچے ڈر سے بولتے نہیں،کسی کو تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کی حفاظت اور خیال نہ رکھنے والے والدین کیلئے قوانین متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ پولیس مشکل میں ان کی مدد کرے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کیلئے ضابطہ اخلاق اورٹریننگ ضروری ہے۔ عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔وی آئی پی کے راستے سے عوام کو ہٹانے کیلئے تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پنجاب ہے،کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں غریب کو کو ئی پوچھنے والا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو سامنے لایا جائے۔کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سکھائی جائے اور سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اورای ٹیگ انفارمیشن سسٹم لایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کو ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارنے اور پولیس سے متعلق چھوٹی شکایات دو سے تین گھنٹے کے اندر حل کر کے ازالے کے احکامات بھی جاری کئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاغذات اورشناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا سسٹم متعارف کرایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ کےدوران بتایا گیا کہ پنجاب میں جرائم میں مجموعی طورپر 48فیصد اوربڑے جرائم میں 80فیصد تک کمی ہوئی۔ ساہیوال اورگجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کال نہ ہونے کے برابرہے۔ پراپرٹی کے جھگڑے کم ہونے سے کرائم میں کمی آئی ہے۔
DATE . Feb/16/2026


