
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چودھری نے آئی ایم او اسمبلی کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عالمی بحری امور میں پاکستان کے مضبوط اور فعال کردار کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی عالمی اہمیت رکھتی ہے اور خطے میں بحری تجارت کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیر بحری امور نے بتایا کہ پورٹ ڈیجیٹلائزیشن اور گرین پورٹ ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں پاکستان نمایاں اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی پورٹ کمیونٹی سسٹمز کے ذریعے بحری تحفظ اور آپریشنز کی شفافیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنید انوار چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان میرین اکیڈمی کی اپ گریڈیشن اور میرین یونیورسٹی کے قیام کا عمل جاری ہے، جس سے ملکی سمندری شعبے میں افرادی قوت کی تربیت کے معیار میں بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق جہازوں کی ٹریفک مینجمنٹ، ماحولیاتی آلودگی کے ردعمل اور ساحلی نگرانی کے نظام میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
خطاب میں وزیر بحری امور نے واضح کیا کہ پاکستان کے “میری ٹائم وژن 2047 اور 2147” کے منصوبے عالمی معیار خصوصاً آئی ایم او کی گائیڈلائنز کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین شپ ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے اور سیفررز کی فلاح و بہبود اور تربیت کے لیے بھی مضبوط حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
جنید انوار چودھری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی بحری پالیسی میں ایک فعال اور ذمہ دار ملک کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کرے گا۔
DATE . Nov/26/2025


