
اسلام آباد: پاکستان میں گرین ایگری مال جیسے جدید زرعی مراکز معیشت کے لیے سنہری مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت یہ مراکز جدید زرعی ٹیکنالوجی اور معیاری زرعی مصنوعات کسانوں تک بروقت پہنچا رہے ہیں۔
گرین ایگری مال کے سی ای او علی سفیان نے بتایا کہ ملک میں 40 سے زائد سائٹس پہلے ہی آپریشنل ہیں اور رواں سال کے اختتام تک یہ تعداد 100 سے تجاوز کر جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرین ایگری مال میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک چھت کے نیچے کام کر رہے ہیں، جس میں فرٹیلائزر، کیڑے مار ادویات، ٹریکٹرز، مشینری اور بینکنگ خدمات بھی شامل ہیں۔ علی سفیان کے مطابق تمام اشیاء اور سہولیات کی بروقت اور مناسب قیمتوں پر فراہمی گرین ایگری مال کا بنیادی مقصد ہے۔
سینئر سیلز آفیسر ڈاکٹر تیمور قریشی کے مطابق گرین ایگری مال کے تحت کسانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار سے کھادوں کے استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔
مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ دوائیں، کھاد اور مشینری گرین ایگری مالز کے ذریعے مناسب قیمتوں پر بروقت فراہم کی جا رہی ہیں۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے یہ انقلابی اقدامات زرعی ترقی، کسانوں کی فلاح اور دیہی معیشت کے استحکام کو نئی تقویت دے رہے ہیں۔
DATE . Mar/11/2026


