بیجنگ ()
23 سے 25 ستمبر تک چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کا چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ایک دوسرے کے ملک کا سرکاری دورہ ہے، جو چین امریکہ تعلقات کی تاریخ میں ایک بے مثال پیش رفت ، تاریخی سنگ میل اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصی طیارے کے واشنگٹن کے اینڈریوز ایئر فورس بیس پہنچنے کے بعد صدر شی جن پھنگ نے اپنے تحریری خطاب میں کہا کہ چین اور امریکہ کے عوام کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ روابط اور باہمی مفادات کا گہرا امتزاج موجود ہے، اور دونوں ملکوں کو “حریف کے بجائے شراکت دار” ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ “چینی قوم کی عظیم نشاۃ الثانیہ” اور ” امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا” کے اہداف ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے کامیابیاں پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ یہ اس دورے کے حوالے سے چینی قیادت کی بنیادی سمت کا تعین بھی ہے اور دوطرفہ تعلقات کے بارے میں چین کے مسلسل مؤقف کی واضح تجدید بھی۔
سربراہانِ مملکت کی سفارت کاری کی تزویراتی رہنمائی ہمیشہ سے چین امریکہ تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے دوران مستحکم پیش رفت کے لیے ایک “لنگر” کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ رواں سال مئی میں دونوں ممالک کے سربراہان نے بیجنگ میں “چین امریکہ تعمیری اسٹریٹجک استحکام” پر مبنی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس سے دوطرفہ تعلقات کے لیے نئی سمت متعین ہوئی۔ صدر شی جن پھنگ نے اس تصور کی وضاحت “چار استحکام” کے ذریعے کی: تعاون پر مبنی مثبت استحکام، متوازن حدود کے اندر مسابقت پر مبنی صحت مند استحکام، اختلافات کو قابو میں رکھنے والا معمول کا استحکام اور پرامن مستقبل کی ضمانت دینے والا دائمی استحکام ۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ چین اور امریکہ کے رہنماؤں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو “آج کی دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں “صرف بہتر بنایا جا سکتا ہے، خراب نہیں”۔ یہ محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم تزویراتی فیصلہ ہے۔ اختلافات کو نظرانداز نہیں کیا گیا، تاہم تعاون کی اہمیت کو اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی مشترکہ سوچ چین امریکہ تعلقات کی بنیاد ہے، جس کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات مختلف نشیب و فراز کے باوجود مجموعی طور پر استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس دورے نے دنیا کی توجہ اس لیے بھی حاصل کی کہ ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور ٹریک سے نہ اترنے والے چین امریکہ تعلقات اب محض دوطرفہ دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ آج کی دنیا میں ایک اہم عالمی عوامی اثاثہ بن چکے ہیں۔
یہ عالمی معیشت کے ہموار آپریشن سے متعلق ہے۔ چین اور امریکہ کی مجموعی اقتصادی پیداوار دنیا کے ایک تہائی سے زیادہ ہے جبکہ دونوں ممالک کی اشیا کی تجارت دنیا کی مجموعی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اگر دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے اور تعلقات پٹڑی سے اترتے ہیں تو عالمی صنعتی اور سپلائی چین، تجارتی قواعد اور حتیٰ کہ مالیاتی نظام بھی متاثر ہوں گے۔ اس کی قیمت صرف دونوں بڑی طاقتوں کو نہیں بلکہ عالمی صنعتی چین میں شامل چھوٹی اور درمیانے درجے کی معیشتوں کو زیادہ ادا کرنا پڑ سکتی ہے، کیونکہ ان کا حجم محدود اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ان کے لیے چین امریکہ استحکام کوئی خالی نعرہ نہیں بلکہ واضح تجارتی آرڈرز اور زیادہ مستحکم مالیاتی توقعات کا معاملہ ہے۔
یہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو “کسی ایک فریق کا انتخاب نہ کرنے” کی آزاد گنجائش بھی فراہم کرتا ہے۔ بڑی طاقتوں کے تعلقات مستحکم ہوں تو یہ ایک ایسا قیمتی عالمی عوامی اثاثہ ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ جب بڑی طاقتوں کے تعلقات کشیدہ ہو کر قابو سے باہر ہوتے ہیں تو چھوٹے ممالک اکثر کشمکش کے مرکز میں آ جاتے ہیں اور کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب چین اور امریکہ رابطہ برقرار رکھتے ہیں اور اختلافات قابو میں رہتے ہیں تو یہ ممالک دونوں کے ساتھ معمول کے سیاسی، اقتصادی اور عوامی و ثقافتی روابط برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنی تزویراتی خودمختاری قائم رکھ سکتے ہیں۔یہ “غیر جانبدار” رہنے کی گنجائش بیشتر ملکوں کے لیے ایک انتہائی قیمتی اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔
یہ اختلافات کے وقت تزویراتی یقین دہانی بھی فراہم کرتا ہے۔ تائیوان کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔ یہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق ہے، چین امریکہ تعلقات کا سب سے اہم اور حساس بنیادی مسئلہ ہے اور ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں بڑی طاقتیں اختلافات کو تعمیری انداز میں حل کرتے ہوئے غلط اندازوں اور حادثاتی صورتحال سے کس حد تک بچ سکتی ہیں، اس کا اثر پورے خطے بلکہ دنیا پر پڑتا ہے۔چین۔امریکہ سربراہانِ مملکت کی ملاقات کی اہمیت بڑی حد تک اسی میں ہے کہ اس نے “اختلافات کو قابو میں رکھنے والے معمول کے استحکام” کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی سیاسی ضمانت فراہم کی ہے۔ رواں سال مئی میں بیجنگ ملاقات کے دوران جب چین امریکہ تعلقات کے “تھوسی ڈائڈس ٹریپ” سے نکلنے اور تاریخ، دنیا اور عوام کے سوالات کا سامنا کرنے جیسے معاملات زیر بحث آئے تو صدر شی جن پھنگ نے واضح طور پر کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین امریکہ تعلقات کے اس بڑے جہاز کو درست سمت میں چلانے اور اس کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ 2026 کو ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنے والا ایک تاریخی اور علامتی سال بنایا جا سکے۔ حالیہ دورۂ امریکہ میں دونوں فریقوں نے اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر مزید اتفاق کیا۔ تجارت اور معیشت کے شعبے میں دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے نئے دور میں نئے مشترکہ انتظامات طے پائے۔ صدر شی جن پھنگ نے اسے “دونوں ممالک کی صنعتوں، عام لوگوں اور حتیٰ کہ عالمی معیشت کے لیے بھی اچھی خبر” قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ “تعاون ایک دو طرفہ راستہ ہے” اور مل کر “تعاون کی فہرست طویل اور مسائل کی فہرست مختصر” کرنی چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے، دونوں فریقوں نے تعمیری بات چیت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں مسابقت موجود ہے، وہاں تعاون کی بھی مزید گنجائش ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے اور ٹیکنالوجی پر انسانی کنٹرول کو برقرار رکھنا چاہیے ۔ عوامی اور ثقافتی روابط کے شعبے میں چین نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین آنے اور تبادلۂ تعلیم میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دو پانڈے “پھینگ پھینگ” اور “فوشوانگ” اٹلانٹا چڑیا گھر میں منتقل کیے جائیں گے ۔ یہ نمایاں اور قابلِ مشاہدہ نتائج “چار استحکام” کو عملی شعبوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔
دنیا یہ توقع رکھتی ہے کہ چین اور امریکہ ایک دوسرے کی جانب بڑھیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے۔ جب چین بارہا فعال انداز میں سمت درست کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو استحکام، تعاون اور مشترکہ کامیابی کے مستقبل کی جانب لے جانے کی کوشش کرتا ہے تو دنیا کی یہ خواہش بھی ہے کہ دوسری جانب سے ان کوششوں کا ٹھوس اور ذمہ دارانہ اقدامات کے ذریعے جواب دیا جائے گا، صرف زبانی طور پر نہیں۔
چین امریکہ سربراہانِ مملکت کی ملاقات کے شاندار نتائج برآمد ہوئے اور دونوں رہنماؤں نے چین امریکہ تعلقات کی نئی سمت کے مفہوم کو مزید وسعت دینے اور “احترام، انصاف اور برابری کی بنیاد پر تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات” کی مشترکہ تعمیر پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے نتائج یقیناً اہم ہیں، تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کے رہنماؤں کا اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ اور بات چیت برقرار رہنا بذاتِ خود دنیا کے لیے ایک اہم مثبت پیش رفت ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ اس ملاقات کی کامیابی سے چین کے گردونواح میں بعض ایسے عناصر کو مایوسی ہو سکتی ہے جو چین امریکہ اختلافات کو ہوا دے کر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بعض مغربی ممالک اور علاقائی ممالک میں ایسی قوتیں بھی مایوس ہو سکتی ہیں جو چین امریکہ اختلافات سے جغرافیائی سیاسی فوائد حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ جو چیز کسی تنگ نظر آدمی کو ہر وقت فکرمند رکھے، وہ ضرور اچھی چیز ہو گی۔ اتنی سادہ بات، جو سمجھنے والے ہیں وہ سمجھتے ہیں۔آخرکار، امن اور تعاون کے لیے یقین دہانی کو ایک قدم آگے بڑھانا اور محاذ آرائی و تقسیم کے لیے گنجائش کو ایک قدم کم کرنا ، ایسی پیش رفت واقعی پوری دنیا کی توجہ اور خیرمقدم کی مستحق ہے۔
DATE . 26/Sep/2026

