بیجنگ ()
حال ہی میں چند میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورپی یونین کے بعض رکن ممالک ایک مشترکہ دستاویز تیار کر رہے ہیں، جس میں یورپی کمیشن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یورپی طرز کا “سیکشن 301” طریقہ کار تشکیل دینے کے عمل کو تیز کرے اور چین کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے۔
اس حوالے سے چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ رپورٹس میں جس طریقہ کار کا ذکر کیا گیا ہے، وہ تحفظ پسندانہ اور یک طرفہ اقدامات کی ایک واضح مثال ہے۔ اس سے نہ صرف مسائل کے حل میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اس کے منفی اثرات خود یورپی فریق پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ چین اور یورپ کے درمیان تجارت اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام میں بھی خلل پڑے گا۔ترجمان نے کہا کہ اگر یورپی یونین عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قواعد کی خلاف ورزی میں پہل کرتی ہے تو اس سے قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپی فریق ایک طرف چین کے ساتھ بات چیت اور مشاورت جاری رکھے اور دوسری طرف چین کے خلاف دباؤ اور سخت اقدامات میں اضافہ کرے تو اس سے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچے گا، مذاکرات کے مجموعی عمل میں خلل پڑے گا اور چین۔یورپ اقتصادی و تجارتی تعاون کے مجموعی مفادات متاثر ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ چین یورپی جانب سے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی صحیح راہ اپنانے پر زور دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یورپی فریق چین کی کمپنیوں یا مصنوعات کے خلاف امتیازی پابندیوں اور محدود اقدامات پر اصرار کرتا ہے تو چین اس کا دوٹوک اور فیصلہ کن جواب دے گا اور اپنے صنعتی شعبے کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔
DATE . 30/Sep/2026

