
اسلام آباد : مستقبل میں امریکی ڈالر کے 250 روپے سے نیچے جانے کی پیش گوئی سامنے آگئی۔
تفصایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ڈالر 250 روپے سے نیچے جانے کے قوی امکانات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں بہتری کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ، عالمی سطح پر JF-17 طیاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ 46 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً 185 ہزار پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر 290 روپے سے کم ہو کر تقریباً 281 روپے پر آ گیا ہے، یعنی تقریباً 9 روپے کی کمی ہوئی ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ مسترد کیا کہ روپے کی موجودہ استحکام وقتی ہے اور کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حقیقی قدر 250 روپے سے کم ہے۔
ملک بوستان نے پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے، جو اب تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کی باتیں ہو رہی تھیں، جبکہ اب توقعات 250 روپے یا اس سے بھی کم کی طرف جا رہی ہیں۔
DATE . Jan/17/2026

