
بیجنگ ()
2030 کے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل میں اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں، تاہم اس وقت دنیا میں 2.3 بلین افراد خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، شمال اور جنوب کی تقسیم وسیع ہو رہی ہے ۔ یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملک امریکہ میں بھی دولت کی تقسیم انتہائی غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔ 2021 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چینی دانش اور عملی تجربات پر مبنی اس “نسخے” نے عالمی ترقی میں ٹھوس پیش رفت کو فروغ دیا ہے۔
شی جن پھنگ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ “ترقی تمام مسائل کے حل کی کلید ہے۔” “عوام کو اولین ترجیح دینا” اور “سب کے لئے فائدہ اور جامعیت” اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر فرد تک پہنچیں اور منصفانہ ترقی یقینی ہو ۔ یہ دونوں اصول جنگل کے قانون کومسترد کرتے ہیں اور کسی بھی ملک کو ترقی کے عمل میں پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ “جدت پر مبنی ترقی” عالمی ترقی میں نئی محرک فراہم کرتی ہے۔ “انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی” اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ترقی کا عمل نہ تو انتہا پسند ہو اور نہ ہی تنگ نظری کا شکار ہو۔ “عمل پر مبنی” نقطہ نظر زبانی وعدوں کو ٹھوس منصوبوں اور اتفاق رائے کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرتا ہے۔
اس وقت دنیا کے 130 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی حمایت کرتے ہیں بلکہ اس میں شریک ہیں اور تقریباً 100 ممالک نے چین کے ساتھ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ چائنا-یو این پیس اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ اور گلوبل ڈویلپمنٹ اینڈ ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن فنڈ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اس انیشی ایٹو نے 23 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ فنڈز جمع کیے ہیں۔ چین نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے گلوبل ڈویلپمنٹ اینڈ ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن فنڈ کو 4 بلین امریکی ڈالرکا فنڈ فراہم کیا ہے۔تاحال، اس انیشی ایٹو کے تحت 1,800 سے زیادہ “چھوٹے مگرخوش آئند” اور عوام پر مبنی کوآپریٹو پراجیکٹس پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے، 2 لاکھ سے زائد لوگوں کو تربیت دی گئی ہے اور 120 سے زیادہ ممالک میں حقیقی طور پر عام لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔
DATE . 2 /Sep/2026
