
نئی دہلی:ہندوتوا نظریہ کے زیرِ تسلط بھارت جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتہاء پسند اور نفرت انگیز ڈوول ڈاکٹرائن کی بدولت بھارت خطے میں ریجنل ڈسرپٹر کے طور پر ابھرا ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل کشیدگی اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت خطے میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق، بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے ’ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026‘ کے دوران ایک بیان میں کہا: “تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے اور ہر نوجوان کے اندر بدلہ کی آگ ہونی چاہیے۔ بدلہ خود ایک طاقت ہے، ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔”
بھارت میں اپوزیشن کے کئی رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے اس بیان کی شدید مذمت کی۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈوول نے نفرت اور فرقہ وارانہ تشدد کو مسلمانوں کے خلاف معمول بنا دیا ہے، اور صدیاں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کے مطالبات محض اقلیتوں کے خلاف تشدد کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اجیت ڈوول کا یہ غصہ اور نفرت انگیز بیان اُن کی ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے اور ڈوول ڈاکٹرائن کا محور پراکسیز کے ذریعے پاکستان اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ مستند شواہد سے یہ بھی واضح ہے کہ بھارت میں مندروں، خاص طور پر سومنات، کو متعدد ہندو حکمرانوں نے حملوں کے ذریعے نقصان پہنچایا۔
ماہرین نے کہا کہ آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے، اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اس پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
DATE . Jan/14/2026


