یورپی یونین کے سفیر کی وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سے ملاقات، اصلاحات پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

News Image

اسلام آباد: یورپی یونین کے سفیر برائے پاکستان رائمونڈاس کاروبلس نے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات کی جس میں انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات اور ان کے مؤثر نفاذ کے فریم ورک پر جاری تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے انسانی حقوق کے شعبے میں یورپی یونین کی مسلسل شمولیت اور تعاون کو سراہتے ہوئے وزارتِ انسانی حقوق اور یورپی یونین کے وفد کے درمیان “پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ کا منصوبہ – مرحلہ دوم / ای یو حقوقِ پاکستان دوم” کے تحت قریبی اشتراک کو اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام حکومتی انسانی حقوق کے ڈھانچوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، انسانی حقوق کی تعلیم و آگاہی، کاروبار اور انسانی حقوق، اور مؤثر پالیسی نفاذ کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے نومبر 2025 میں منعقد ہونے والے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کے دوران زیرِ بحث آنے والے امور پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والی بات چیت سے سفیر کو آگاہ کیا اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزیر نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق (NAP-HR) پر بھی تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ اس پر قانونی و پالیسی اصلاحات، انصاف تک رسائی، انسانی حقوق کی ترجیحات کے نفاذ، بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں کی تکمیل، قومی اداروں کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مؤثر نگرانی اور رابطہ کاری کے نظام کے ذریعے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اہم قانون سازی اور ادارہ جاتی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے تحفظِ اقلیت ایکٹ، 2025 کی منظوری اور کمیشن کو فعال بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد، بااختیار اور مؤثر ادارہ جاتی نظام کے قیام کے حکومتی عزم پر زور دیا۔

یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان میں کی جانے والی اہم قانونی اصلاحات کو سراہا جن میں پاکستان پینل کوڈ میں وہ ترامیم شامل ہیں جن کے تحت بعض جرائم میں سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرتے ہوئے عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہے۔

انہوں نے قومی کمیشن برائے تحفظِ صحافیان و میڈیا پروفیشنلز کے قیام کی بھی تعریف کی اور قومی انسانی حقوق کمیشنز کی آزادی اور مؤثر فعالیت کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کو سراہا۔

وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، 2025 کی منظوری کا بھی ذکر کیا جس کے تحت شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے مختلف صوبوں میں کیے گئے چائلڈ لیبر سرویز سے بھی آگاہ کیا۔

سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مسلسل شراکت داری کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کیا اور انسانی حقوق کے ایجنڈے کے فروغ میں پاکستان کی معاونت جاری رکھنے پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے پاکستان۔یورپی یونین انسانی حقوق مکالمے کے تحت تعمیری روابط اور مثبت نتائج کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

DATE . Jan/16/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top