
اسلام آباد:صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دو طرفہ تجارت میں اضافے اور سیاحت کے فروغ کےلئے پاکستان اور ایران کے درمیان ریل لنک ترجیحی بنیادوں پرمربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی سے ملاقات میں صدرِ مملکت نےکہا کہ بہتر روابط سے کاروباری افراد اور مسافروں، خصوصاً زائرین، کو سہولت ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید گہرا ہوگا۔
ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے صدر مملکت نے باہمی طور پر قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے اسلام آباد میں حالیہ تکنیکی بات چیت کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان تہران میں جاری مذاکرات کا منتظر ہے۔
صدر آصف علی زرداری نےڈاکٹر لاریجانی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں ۔
صدر مملکت نے حالیہ سیلاب کے بعد ایران کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور ایرانی ریڈ کریسنٹ کی جانب سے بھیجی گئی انسانی امداد پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ایران کے لیے پاکستان کی سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حالیہ جنگ میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی کو سراہا اور رہبرِ اعلیٰ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدرمملکت نے ایران کی جانب سے فلسطینی عوام اور بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے اصولی موقف کو سراہا۔
ڈاکٹر لاریجانی نےصدر مملکت کو رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اس سال کے اوائل میں 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر لاریجانی نے نے حالیہ کامیابیوں میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری اور کامیابی کوسراہا اور کہا کہ پاکستان کی فتح ہماری فتح ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستانی مصنوعات کو ایران میں ترجیحی رسائی دینے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں جس سے 10 بلین ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف کے حصول کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال، سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔
DATE . Nov/26/2025


