صحافیوں کے تحفظ کے لیے عالمی معیار کے کمیشن نے عملی کام کا آغاز کردیا

News Image

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کے قائم کردہ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز نے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ یہ اہم اقدام صحافیوں کے مسائل کے مؤثر حل اور ان کے آزادانہ و خودمختارانہ کام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کی ذاتی کاوشوں سے کمیشن کے ممبران کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، جس کے بعد کمیشن نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس کمال الدین ٹیپو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمیشن کے دائرہ کار، ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومت نے اس کمیشن کی تشکیل کے دوران عالمی معیار اور بہترین عالمی پریکٹسز کو مدنظر رکھا تاکہ صحافیوں کو ہر ممکن مؤثر اور شفاف تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

کمیشن نے ابتدائی طور پر شکایات کا نظام وضع کردیا ہے جبکہ قواعد و ضوابط کی تشکیل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ کمیشن اپنے تمام معاملات مکمل شفافیت کے ساتھ چلائے گا اور ڈیجیٹائزیشن کی پالیسی کے تحت ویب پورٹل سمیت جدید تکنیکی ذرائع استعمال کرے گا۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور آگاہی میں اضافے کے لیے ٹریننگز اور سیمنارز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

اجلاس میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق کمیشن نے بھی شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی نمائندہ صحافتی تنظیموں کے بورڈ ممبران، جن میں نواز رضا، خلیل احمد، طاہر حسن، نوید اکبر، حسن عباس، تمثیلہ قریشی اور نادیہ صبوحی شامل ہیں، بھی اجلاس کا حصہ تھے۔ کمیشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے آزادانہ اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کے قائم کردہ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز نے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ یہ اہم اقدام صحافیوں کے مسائل کے مؤثر حل اور ان کے آزادانہ و خودمختارانہ کام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کی ذاتی کاوشوں سے کمیشن کے ممبران کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، جس کے بعد کمیشن نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس کمال الدین ٹیپو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمیشن کے دائرہ کار، ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومت نے اس کمیشن کی تشکیل کے دوران عالمی معیار اور بہترین عالمی پریکٹسز کو مدنظر رکھا تاکہ صحافیوں کو ہر ممکن مؤثر اور شفاف تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

کمیشن نے ابتدائی طور پر شکایات کا نظام وضع کردیا ہے جبکہ قواعد و ضوابط کی تشکیل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ کمیشن اپنے تمام معاملات مکمل شفافیت کے ساتھ چلائے گا اور ڈیجیٹائزیشن کی پالیسی کے تحت ویب پورٹل سمیت جدید تکنیکی ذرائع استعمال کرے گا۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور آگاہی میں اضافے کے لیے ٹریننگز اور سیمنارز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

اجلاس میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق کمیشن نے بھی شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی نمائندہ صحافتی تنظیموں کے بورڈ ممبران، جن میں نواز رضا، خلیل احمد، طاہر حسن، نوید اکبر، حسن عباس، تمثیلہ قریشی اور نادیہ صبوحی شامل ہیں، بھی اجلاس کا حصہ تھے۔ کمیشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے آزادانہ اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

DATE . Nov/26/2025

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top