
نیویارک: طالبان دور میں افغانستان دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کی جیت ہوئی ہے۔اقوام متحدہ نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کو سنگین خطرہ قرار دے دیا۔افغان طالبان رجیم میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر اقوام متحدہ نے ہوشربا رپورٹ جاری کردی ۔یہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک دستاویز ہے، جس میں29 مئی 2024 سے 11 نومبر 2025 تک کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی غیر موجود گی سے متعلق طالبان کے دعوے ناقابلِ اعتبار ہیں۔مختلف ممالک مسلسل اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں۔رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان میں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ، جماعت انصاراللہ سمیت دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ۔ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی نے پاکستان پر حملے کیے جو بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان میں تقریباً 600 حملے کیے، جن میں سے کئی پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیے۔ٹی ٹی پی نے اپنے اہداف میں توسیع کرتے ہوئے فوج سے منسلک ادارے اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی شامل کر لیے ہیں۔ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں سے خطے کی سلامتی، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کے باعث خطہ، افغانستان کو عدم استحکام کا منبع سمجھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی سرحد پار دہشت گردی کے باعث سرحدی بندشوں سے افغان معیشت کو یومیہ تقریباً 10 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔افغان طالبان رجیم میں افغانستان میں بنیادی سہولیات، روزگار، معاشی اور سماجی نظام شدید متاثر ہے۔اکتوبر 2023 کے بعد افغان باشندوں کی واپسی نے افغانستان کی معیشت اور سروسز پردباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔اب تک 4.5 ملین سے زیادہ افغانیوں کو واپس کیا جا چکا ہے جس نے معاشی اور سماجی دباؤ کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مؤثر اور قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پاکستان نے 16مئی 2025کو انسداد دہشتگردی کی کامیاب کارروائی میں داعش کے ترجمان دہشت گرد سلطان عزیز اعظّام کو گرفتار کیا۔داعش کے ترجمان اور تنظيم کے میڈیا وِنگ الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی دہشتگرد سلطان عزیز اعظّام کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے گرفتار کیا۔الاعظائم فاؤنڈیشن داعش خراسان کی بھرتی اور پراپیگنڈا سرگرمیوں کی مرکزی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔داعش خراسان کو دبایا گیا ہے مگر خطرہ ختم نہیں ہوا،داعش خراسان افغانستان کے اندر اور باہر شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔افغانستان سے سرگرم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ پورے خطہ کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان سے دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ پاکستان مضبوط شواہد کیساتھ عالمی برادری کو افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے متعلق آگاہ کر چکا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔
DATE . Dec/20/2025


