
نیویارک:اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سلامتی صورتِ حال پر مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تنازعے کا واحد حل سیاسی مکالمہ، مفاہمت، فوری جنگ بندی اور شہریوں کا تحفظ ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کدوگلی میں یونیسف کے امن دستوں پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی اور اسے جنگی جرم قرار دیا۔ انہوں نے شہید ہونے والے بنگلہ دیشی امن اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
عثمان جدون نے اجلاس میں سوڈان کے وزیرِ اعظم کامل ادریس کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس سوڈان کی درخواست پر پاکستان سمیت متعدد رکن ممالک کی حمایت سے منعقد ہوا، جو زمینی حقائق کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے خلاف ورزیوں، امن دستوں کے اغواء اور اقوامِ متحدہ کے اثاثوں پر قبضے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ کاردوفان میں الجنینہ اور الفاشر جیسے مظالم دہرائے جانے کا خدشہ ہے۔ عثمان جدون نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بندوقیں خاموش ہوں اور امن و استحکام کی امید دوبارہ زندہ کی جائے۔ پاکستان اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
DATE . Dec/23/2025


