
واشنگٹن:سکھ فار جسٹس تنظیم نے بھارت میں عیسائی برادری کو درپیش مظالم کے خلاف اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کے تحت شمال مشرقی بھارت میں ایک محفوظ عیسائی وطن “ٹرمپ لینڈ” کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے اس مجوزہ خطے کا نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
سکھ فار جسٹس، جو اس وقت عالمی خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کر رہی ہے، نے باضابطہ طور پر “ٹرمپ لینڈ” کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے کو امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا جائے ۔ تنظیم کے رہنما ءگرپتونت سنگھ پنوں نے اس معاملے میں امریکی صدر سے براہِ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذہبی آزادی اور دنیا بھر میں مظلوم مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب دنیا کرسمس منا رہی تھی، اس وقت بھارت میں عیسائی برادری کو منظم تشدد، حملوں اور جبر کا سامنا تھا۔
انہوں نے کہاکہ مودی دورِ حکومت میں نہ صرف عیسائیوں بلکہ بھارتی پنجاب میں سکھوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق یہ مجوزہ خطہ “سیون سسٹرز اسٹیٹس” کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں عیسائی آبادی مقامی اور تاریخی طور پر علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ ان ریاستوں میں ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، منی پور، تریپورہ اور آسام شامل ہیں، جہاں اکثریتی آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ٹرمپ لینڈ” کو ایک محفوظ عیسائی کوریڈور کے طور پر تجویز کیا گیا ہے تاکہ لاکھوں عیسائیوں کو پناہ دی جا سکے جو مبینہ طور پر بھارتی ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی کے بھارت میں بائیبل کی تبلیغ کو جرم بنایا جا رہا ہے، گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے، عیسائی بستیوں پر حملے ہو رہے ہیں اور لوگوں کو بے گھر اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔
سکھ فار جسٹس تنظیم نے بھارت میں ہونے والے پرتشدد واقعات کو ہندوتوا نظریے کے تحت ایک منظم منصوبہ قرار دیا۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں بھارت کو ہندو ریاست قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بھارت میں رہنے والوں سے رام کو خدا ماننے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حضرت عیسیٰؑ پر ایمان رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے اپیل کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واحد عالمی رہنما ءہیں جن کے پاس اس صورتحال میں مداخلت کی جرات، اختیار اور وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ فار جسٹس دنیا بھر میں عالمی خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کر رہی ہے، جسے مودی حکومت نے غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک آزاد خالصتان اور ایک محفوظ عیسائی وطن “ٹرمپ لینڈ” مستقبل میں جنوبی ایشیا میں امریکہ کے مضبوط اور وفادار اتحادی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سکھ فار جسٹس تنظیم نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جمہوری عمل کی حمایت کرے۔
DATE . Dec/27/2025


