
کوئٹہ:بلوچستان کی ترقی کے لئے وفاقی حکومت کے تاریخ ساز اقدامات،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں اربوں روپے کے انفراسٹرکچر، تعلیم، مواصلات اورسماجی تحفظ کے اہم منصوبوں کاسنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔
بلوچستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی وفاقی حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کراچی سےچمن تک 810 کلومیٹر طویل این 25، پاکستان ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ منصوبہ مختلف سیکشنز میں تعمیر کیا جائے گا، جو بلوچستان کو ملک کے بڑے تجارتی مراکز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان ایکسپریس وے پرمنصوبے پر لاگت کا تخمینہ 415 ارب روپے ہے۔یہ منصوبہ دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ منصوبہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
بلوچستان میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے وزیراعظم نے سبی، موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ بگٹی کے اضلاع میں پانچ دانش سکولوں کابھی سنگِ بنیاد رکھا۔ دانش سکولوں کو ڈیڑھ سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ ان منصوبوں کے اخراجات کا پچاس فیصد وفاقی حکومت اور پچاس فیصد بلوچستان حکومت برداشت کرے گی۔ ہر سکول میں 250 سے 400 طلبا اور اتنی ہی تعداد میں طالبات کو معیاری تعلیم کی سہولت میسر ہوگی۔ سکولوں میں اکیڈمک بلاکس، طلباء و طالبات کے لئے دو ہاسٹلز، اساتذہ کی رہائش، آڈیٹوریم، مسجد، ڈسپنسری، کیفیٹیریا اور کھیلوں کے میدان شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نے 55 کلو میٹر طویل آواران–جھل جاؤ شاہراہ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا افتتاح کیا۔ شاہراہ پر روزانہ تین ہزار گاڑیوں کی آمدورفت ہوگی۔ آواران،جھل جاؤ شاہراہ سی پیک کا ایک اہم جزو ہے، جو سندھ اور بلوچستان کو ملانے کے ساتھ مصنوعات کی ترسیل اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں 2 لاکھ 84 ہزار سیلاب متاثرین کے لیے محفوظ، باوقار اور پائیدار گھروں کی تعمیر کا تاریخ ساز منصوبہ جاری ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں 2022 کے سیلاب متاثرین میں امدادی رقوم کے چیکس اوروفاقی حکومت کی جانب سے تعمیر شدہ گھروں کے ملکیتی کاغذات بھی تقسیم کئے۔42 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جبکہ 15 ہزار گھر مکمل کیے جا چکے ہیں۔
رواں سال 57 ہزار گھروں کی تعمیر مکمل کی جائے گی جبکہ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 97 ہزار گھر مکمل ہوں گے۔ تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ خواتین، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کو اس منصوبے میں ترجیح دی جا رہی ہے۔تعمیر کے ہر مرحلے میں شفافیت اور مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
DATE . Jan/9/2026


