مودی کی ناکام خارجہ پالیسی اور تعلیمی غفلت کے باعث بھارتی شہری عالمی سطح پر مشکلات کا شکار

News Image

نئی دہلی: نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعوے ایک بار پھر کھوکھلے ثابت ہو گئے ہیں، جہاں مودی حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی اور تعلیمی شعبے میں مجرمانہ غفلت کے باعث بھارتی شہری دنیا بھر میں سخت پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ بھارتی جعلی ڈگری اسکینڈل امریکی ویزا پالیسی اور تعلیمی جانچ کے عمل میں سختی کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے۔

بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق سخت امریکی پابندیوں کے باعث امریکا میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 75 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی شہریوں کے لیے امریکی ویزا کا حصول نہایت مشکل ہو چکا ہے جبکہ ملازمت اور دیگر مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔

دی اکنامک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر سختی کے باعث ویزا مسترد ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جریدے نے بھارتی ناقص خارجہ پالیسی کے باعث ویزا پابندیوں پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں تقریباً 72 فیصد ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والے بھارتی شہری اب شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح 2025 کے دوران امریکا سے تقریباً 3 ہزار 800 افراد کو ملک بدر کیا گیا جن میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی شہریوں کی تھی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارتی جعلی ڈگری مافیا کے انکشافات کے بعد ویزا پالیسی میں سختی ناگزیر ہو چکی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی دوغلی پالیسیاں اور جعلی ڈگری اسکینڈل کی عالمی بازگشت بھارت کی مزید رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق نااہل مودی کی تصویری نمائش، بلند و بانگ دعوؤں اور دکھاوے پر مبنی ناقص سفارتکاری اب دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکی ہے-

DATE . Jan/22/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top