
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج فنانس ڈویژن میں گوبی پارٹنرز کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت چیئرمین تھامس تساؤ کر رہے تھے جبکہ ان کے ہمراہ مینیجنگ پارٹنر مسٹر نائل اکرم اور انویسٹمنٹ ایسوسی ایٹ مسٹر ابریز عبداللہ بھی موجود تھے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے وینچر کیپیٹل ایکوسسٹم میں گوبی پارٹنرز کی دلچسپی کو سراہا اور ایشیا بھر میں فرم کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو اجاگر کیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے فروغ، مالیاتی منڈیوں کو گہرا کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی تنوع کی حمایت کے لیے پاکستان میں وینچر کیپیٹل اور جدت کے شعبے کو مضبوط بنایا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ خطرہ مول سرمایہ (رسک کیپیٹل) تک رسائی اسٹارٹ اپ کاروباری منظرنامے کی توسیع، جدت کے فروغ اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
وفد نے وزیر کو گوبی کے علاقائی دائرہ کار اور پاکستان میں ٹیکسیلا فنڈ اوّل کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری سے آگاہ کیا، جو 2020 میں شروع کیا گیا تھا اور جس نے فن ٹیک، ای کامرس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں اسٹارٹ اپس کی معاونت کی ہے۔
ملاقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ وینچر کیپیٹل کی شمولیت نے پاکستان میں اضافی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مالی شمولیت بڑھانے اور ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
گوبی پارٹنرز نے ٹیکسیلا فنڈ دوم کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جس کا مجوزہ ہدف 50 ملین امریکی ڈالر ہے۔ یہ فنڈ فن ٹیک، لاجسٹکس، ہیلتھ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر سروسز جیسے اعلیٰ امکانات کے حامل شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ فرم نے اپنے سرمائے سے فنڈ کو اینکر کرنے اور ملکی و بین الاقوامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شمولیت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران وفد نے پاکستان میں وینچر کیپیٹل کے لیے سازگار فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دی کہ ملکی مالیاتی اداروں کو وینچر کیپیٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی میں زیادہ شرکت کی ترغیب دی جائے اور مقامی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے وینچر کیپیٹل و پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کی سرمایہ کاری کو ٹیکس پاس تھرو اسٹیٹس دینے پر غور کیا جائے۔
وزیرِ خزانہ نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا جائے گا، کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جائے گا اور ٹیکس پالیسی و سرمایہ کاری میں سہولت کے حوالے سے اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مقامی سرمائے کو متحرک کرنا مضبوط، پائیدار اور جدت پر مبنی ترقیاتی ماڈل کی بنیاد ہے۔
ملاقات کا اختتام پاکستان کے ترقی پذیر وینچر کیپیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی نظام کی حمایت میں باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔
DATE . Feb/12/2026


