خواتین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے ساختی رکاوٹوں کا خاتمہ ضروری ہے: سینیٹر بشریٰ بٹ

News Image

اقوام متحدہ: سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا ہے کہ خواتین اور بچیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو صرف قوانین کے وجود سے نہیں ناپا جانا چاہیے بلکہ اس بات سے جانچا جانا چاہیے کہ آیا امتیاز اور ساختی رکاوٹیں خواتین کو ان قوانین سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہیں یا نہیں۔

“تمام خواتین اور بچیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے اور مضبوط بنانے” کے موضوع پر منعقدہ پہلی وزارتی گول میز نشست سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بٹ نے کہا کہ انصاف کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب امتیاز یہ طے کرتا ہے کہ کون قانونی تحفظ تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اور بچیوں کے لیے انصاف تک رسائی صرف قانونی خلا کی وجہ سے نہیں بلکہ گہرے سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی امتیاز کے باعث بھی مسدود رہتی ہے۔

وہ اس وقت پاکستانی وفد کی سربراہ کے طور پر نیویارک میں جاری کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کے 70ویں اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

خواتین کو درپیش متعدد رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ وراثت میں عدم مساوات، نقل و حرکت پر پابندیاں، مالیاتی نظام سے محرومی، کام کی جگہ پر ہراسانی، نقصان دہ روایتی رسومات اور اداروں کے اندر امتیازی رویے ایسے عوامل ہیں جو اجتماعی طور پر یہ طے کرتے ہیں کہ انصاف قابلِ حصول ہوگا یا دسترس سے باہر رہے گا۔

سینیٹر بشریٰ بٹ نے کہا کہ اسی لیے پاکستان کا نقطۂ نظر صرف قانونی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ امتیاز کو صنفی مساوات اور خواتین کے بااختیار بنانے کی راہ میں ایک نظامی رکاوٹ کے طور پر دور کرنے پر بھی مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں دیے گئے مساوات اور وقار کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں پاکستان اپنے قانون سازی کے ڈھانچے کو خواتین اور بچیوں کی عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غیرت کے نام پر جرائم، جبری شادی، کام کی جگہ پر ہراسانی، گھریلو تشدد اور جنسی جرائم سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جو تحفظ کو مضبوط بنانے اور انصاف تک رسائی بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ انصاف کا انحصار اختیار اور خودمختاری پر بھی ہوتا ہے۔ سینیٹر بٹ کے مطابق معاشی اور تعلیمی بااختیاری خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کے قابل بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے لاکھوں خواتین کو مالی تحفظ فراہم کیا ہے اور ان کی معاشی خودمختاری کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے تعلیمی وظائف، ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں اور ڈیجیٹل شمولیت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا جن کا مقصد حقوق سے آگاہی بڑھانا اور انصاف کے حصول کے لیے اعتماد پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی شمولیت کی پالیسیاں، خواتین کے لیے روزگار کے کوٹے، کاروباری معاونت اور سیاست سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی صنفی مساوات اور خواتین و بچیوں کو بااختیار بنانے میں معاون اقدامات ہیں۔

سینیٹر بٹ نے کہا کہ امتیاز کے خاتمے کے لیے تین سطحوں پر پیش رفت ضروری ہے: ایسے قوانین جو تحفظ فراہم کریں، ایسے ادارے جو انصاف فراہم کریں، اور ایسا معاشرہ جو اس عمل کو ممکن بنائے۔ انہوں نے قانونی آگاہی، نفاذ کی صلاحیت اور متاثرین و زندہ بچ جانے والوں کے لیے خدمات میں مسلسل سرمایہ کاری پر زور دیا۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وعدوں کو منظور کیے گئے قوانین سے نہیں بلکہ دور کی گئی رکاوٹوں سے پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف اسی وقت حقیقی معنوں میں قائم ہوتا ہے جب ہر عورت بلا خوف و امتیاز قانون کے سامنے کھڑی ہو سکے۔

DATE . Mar/11/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top