قراردادِ پاکستان: مسلمانوں کی علیحدہ قومی شناخت اور جدوجہدِ آزادی کی بنیاد

News Image

لاہور: قراردادِ پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ قومی شناخت اور جدوجہدِ آزادی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق انگریزوں اور ہندوؤں کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک نے ایک علیحدہ ریاست کے مطالبے کو تقویت دی۔

قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کیا تھا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جن کا رنگ، نسل، مذہب اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے، اس لیے انہیں اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک الگ ریاست درکار ہے۔

قراردادِ پاکستان کے حوالے سے ماہر قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل کا کہنا ہے کہ 1937ء کے انتخابات کے بعد دو سالہ کانگریسی حکومت کے تجربے نے مسلمانوں کو رام راج کی حقیقت دکھا دی۔ ان کے مطابق اس تجربے سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔

بیرسٹر شاہدہ جمیل کے مطابق 1940ء میں قرارداد سامنے آئی جس میں یہ بات واضح تھی کہ مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خودمختاری حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں درج نکات کے مطابق اس وقت کی فیڈریشن کی سکیم کو قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قرارداد 1940ء کی روشنی میں انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت مسلمانوں کو نئے سرے سے مذاکرات کرنا تھے تاکہ ان کے سیاسی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیرسٹر شاہدہ جمیل نے کہا کہ اس دور میں ہندو معاشرے میں ذات پات کا نظام تیزی سے ابھرنے لگا تھا اور جو لوگ پہلے مسلمانوں کو برابر سمجھتے تھے وہ اچانک انہیں کمتر سمجھنے لگے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک موقع پر بیان دیا کہ یہ لوگ کیا کریں گے اور کون سا پاکستان حاصل کریں گے، ان میں نہ دم ہے نہ جان۔ بیرسٹر شاہدہ جمیل کے مطابق اس بیان کے جواب میں برصغیر کے مسلمانوں نے نعرہ بلند کیا کہ ڈٹ کر لیں گے پاکستان، بٹ کر رہے گا ہندوستان۔

DATE . Mar/12/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top