
نیویارک: سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو موجودہ دور کے سب سے سنگین انسانی حقوق کے مسائل میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مضبوط قوانین، مؤثر اداروں اور سماجی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ ہر شکل میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ کیا جا سکے، بشمول ڈیجیٹل ماحول میں ہونے والی زیادتیوں کے۔
خواتین کے خلاف تشدد کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بشریٰ نے کہا کہ تشدد دنیا بھر میں خواتین کی آواز کو خاموش کرتا ہے، ان کے مواقع کو محدود کرتا ہے اور ان کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدسلوکی گھروں، کام کی جگہوں، آن لائن ماحول، تنازعات زدہ علاقوں اور مقبوضہ علاقوں میں جاری ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو ایک نظامی مسئلہ قرار دیا جو عدم احتساب کے باعث برقرار رہتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ سیاسی عزم اور مربوط اقدامات کے ذریعے اسے روکا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر بشریٰ نے کہا کہ ملک نے اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر قانونی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کو جرم قرار دینے، انسدادِ زیادتی کے قوانین کو مضبوط بنانے، جبری شادی اور وراثت سے محرومی کو غیر قانونی قرار دینے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف تحفظات کو ادارہ جاتی شکل دینے والی قانون سازی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی بھی تیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ردِعمل کو قومی اور صوبائی کمیشن برائے مقامِ نسواں، خصوصی عدالتوں، کرائسس سینٹرز اور دارالامان جیسے مراکز کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین پولیس ڈیسک، موبائل پولیسنگ سروسز اور قومی ہیلپ لائنز سمیت اولین سطح پر تحفظ کے نظام کے فروغ کو بھی اجاگر کیا۔
سینیٹر بشریٰ نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی سے لیس سیف سٹی منصوبے اور ڈیجیٹل سیفٹی ایپلی کیشنز خواتین اور لڑکیوں کے لیے نگرانی، رپورٹنگ اور امدادی نظام کو مزید مؤثر بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تشدد خواتین کی سیکھنے، کام کرنے اور قیادت کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے اور انہیں باوقار زندگی گزارنے سے محروم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف انسانی حقوق کا بحران ہے بلکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور امن کے قیام میں بھی ایک بڑی کمی ہے۔
عالمی سطح پر تیز تر پیش رفت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ان اقدامات کا خاکہ پیش کیا جنہیں انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ان میں انصاف کے نظام کو تیز رفتار عدالتوں، قانونی معاونت اور نفسیاتی و بحالی خدمات کے ذریعے مضبوط بنانا؛ تعلیم اور ایسی حکمت عملیوں کے ذریعے نقصان دہ سماجی رویوں میں تبدیلی لانا جن میں مردوں اور لڑکوں کی شمولیت ہو؛ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی بدسلوکی کے خلاف نگرانی اور احتساب کو یقینی بنانا؛ خواتین کے معاشی تحفظ کے نظام کو وسعت دینا تاکہ انحصار میں کمی آئے؛ اور ادارہ جاتی صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہے، جن میں زیادہ خواتین پولیس افسران، تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کی تقرری بھی شامل ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سینیٹر بشریٰ نے اس امر پر زور دیا کہ وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ نسلوں کی لڑکیاں زیادہ آزادی اور بغیر خوف کے زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عزم یہ ہونا چاہیے کہ قانون سازی کی جائے، تحفظ فراہم کیا جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے، اور ان ڈھانچوں کو تبدیل کیا جائے جو تشدد کو برقرار رہنے دیتے ہیں۔
DATE . Mar/13/2026


