
کراچی: میر رضا کیس میں پولیس تفتیش کا ایک اور تضاد سامنے آگیا ، لاش ملنے کے مقام کے قریب مسجد کے سی سی ٹی وی کیمروں کی 5 گھنٹوں کی فوٹیج غائب پائی گئی۔
پولیس نے اس کی وجہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بتائی تھی لیکن اب کے الیکٹرک نے جوڈیشل کمیشن کو تصدیق کی ہے کہ ان 5 گھنٹوں کے دوران مسجد خضرا کی بجلی بحال تھی اور کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی ۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے کمیشن رپورٹ پبلک کرنے اور جائے وقوع کے قریب مسجد خضرا کی5 گھنٹے کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہونے کے معاملے پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کے جوابات موصول ہوگئے ہیں۔ کمیشن کے رجسٹرار سینئر افسران کے جوابات کی نقول اہلخانہ اور فوکل پرسن سندھ حکومت کو فراہم کریں۔
حکم نامے کے مطابق مسجد خضرا کی سی سی ٹی وی سے متعلق پولیس نے بتایا تھا کہ 28 جولائی کو شام 5 سے رات 10 بجے کے درمیان بجلی کی عدم فراہمی کے باعث فوٹیج ریکارڈ نہیں ہوسکی۔
تاہم کے الیکٹرک نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی کہ ان اوقات میں مسجد خضرا کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری تھی اور علاقے میں کوئی فالٹ، لوڈ شیڈنگ یا تعطل رپورٹ نہیں ہوا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے سے متعلق اہل خانہ نے درخواست دائر کی تھی لیکن کمیشن کی تشکیل سندھ حکومت کی درخواست پر کی گئی۔ کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ بھی سندھ حکومت کو کرنا چاہیے لہٰذا رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
آخری سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ کمیشن نے کارروائی کے دوران کاشف افتخاراور ڈی ایس پی سراج لاشاری کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے پر رابطے کے لئے قائم ای میل اور واٹس ایپ نمبرغیرفعال ہوگئے ہیں۔
میر رضا کیس سے متعلق معلومات پر ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش بھی واپس لے لی گئی ہے۔
کمیشن نے اعتماد کرنے پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کے تعاون کو بھی سراہا ہے۔
DATE . 9/Oct/2026
