صوبوں کے پاس حقیقت میں کون سے فضائی اثاثے ہیں؟

صوبوں کے پاس حقیقت میں کون سے فضائی اثاثے ہیں؟
فوٹو: فائل

گزشتہ ہفتے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے نجی دورے پر لندن جانے کے لیے صوبائی حکومت کے حال ہی میں خریدے گئے گلف اسٹریم جیٹ کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی ملکیت ہے اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی اسی طرح کی سہولیات حاصل ہیں۔

تاہم دیگر تین صوبوں کے حکام سے کیے گئے انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں وزرائے اعلیٰ کے لیے فضائی سفری انتظامات کافی مختلف ہیں۔

17 ستمبر کو ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ لندن میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے طیارہ استعمال کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا، ”بڑی تنقید ہورہی ہے آج مریم نواز کے جہاز پر حالانکہ وہ مریم نواز کا جہاز نہیں ہے وہ وزیر اعلی پنجاب کا جہاز ہے۔“

انہوں نے مزید کہا،”اور یہ بھی آپ کو پتہ ہو چاروں چیف منسٹرز کے پاس جہاز کی یہ سہولت موجود ہے، لیکن تنقید صرف مریم نواز پر ہی کیوں ہو رہی ہے؟“

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی دو روز بعد جیو پاکستان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ کو سرکاری طیارہ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا، ”ہر وزیرِ اعلیٰ کے پاس ایک طیارہ ہے اور ہر وزیرِ اعلیٰ اسے استعمال کرتا ہے۔ انہیں اسے استعمال کرنے کا حق ہے اور انہیں استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن صرف پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کو نشانہ بنانا اور ان سے سوال کرنا، جبکہ دیگر تمام وزرائے اعلیٰ کے پاس بھی طیارے موجود ہیں، ناانصافی ہے۔“

تاہم چاروں صوبوں کے حکام کی جانب سے بیان کیے گئے فضائی اثاثے ایک جیسے نہیں ہیں۔پنجاب کے پاس لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500 ہے، جو اطلاعات کے مطابق 2025 میں پاکستان پہنچا۔ بلوچستان لیئر جیٹ 45XR چلا رہا ہے، جو 2012 سے سروس میں ہے، جبکہ صوبے کے پاس دو ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ سندھ کے پاس 2006 میں تیار کیا گیا لیئر جیٹ 45 اور دو ہیلی کاپٹر ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے پاس 2010 میں خریدا گیا ایک ہیلی کاپٹر ہے اور کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے پریس سیکریٹری صاحبزادہ حسن علی نے دی نیوز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس ایک سنگل انجن یوروکاپٹر ایکیوریل ہیلی کاپٹر(Eurocopter Écureuil helicopter) ہے، جو 2010 میں خریدا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’’صوبائی حکومت کے پاس ایک ہیلی کاپٹر ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ تین مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے زیرِ استعمال ایک اور ہیلی کاپٹر اس سے قبل سیلاب سے بچاؤ کی کارروائیوں کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

صاحبزادہ حسن علی نے بتایا کہ یہ ہیلی کاپٹر تقریباً 700 گھنٹے پرواز کر چکا ہے۔ اس ماڈل کو اب ایئربس H-125 کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے پاس موجود ہیلی کاپٹر AS-350 B3 ویریئنٹ ہے۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے بھی تصدیق کی کہ وزیرِ اعلیٰ کے پاس اپنا کوئی طیارہ نہیں ہے، تاہم انہیں صوبائی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے۔

بلوچستان

دوسری جانب بلوچستان حکومت ایک طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر چلا رہی ہے۔صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ صوبے کے پاس لیئر جیٹ 45XR طیارہ ہے، جو 2012 سے زیرِ استعمال ہے اور اس میں سات مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان ایوی ایشن کے نام سے ایک کمپنی قائم کی ہے، جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور اپنے فضائی اثاثے اس کمپنی کو منتقل کر دیئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کے پاس دو ہیلی کاپٹر بھی ہیں: Mi-171، جو 2016 میں خریدا گیا تھا، اس وقت گراؤنڈ(grounded) ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ 14 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، جبکہ دوسرا Cessna Caravan ہے، جو 2007 میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں آٹھ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

سندھ

صوبائی حکومت کے مطابق سندھ کے پاس بھی ایک فکسڈ وِنگ طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں۔سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کے ترجمان رشید چنا نے دی نیوز کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس 2006 میں تیار کیا گیا لیئر جیٹ 45 طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں۔

رشید چنا نے بتایا کہ دونوں ہیلی کاپٹر 1992 میں صوبائی بیڑے میں شامل کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں تقریباً تین سے چار مسافروں جبکہ دوسرے میں تقریباً چھ سے سات مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

پنجاب

مریم نواز شریف کے لندن دورے کے حوالے سے تنازع کا مرکز بننے والا طیارہ گلف اسٹریم G500 ہے، جو اس سے قبل امریکا میں N144S کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ رجسٹرڈ تھا۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے حال ہی میں تسلیم کیا کہ اس طیارے کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے تھی۔

ایک موقع پر وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ طیارہ مجوزہ کمرشل ایئرلائن ایئر پنجاب کے منصوبوں سے منسلک تھا۔ تاہم بعد میں حکومتی وزرا نے اعتراف کیا کہ یہ طیارہ وزیرِ اعلیٰ کے سرکاری سفری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پنجاب حکومت کے پاس پہلے ہی ایک اور طیارہ ہاکر 400XP موجود تھا۔ ایک حکومتی عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ سابقہ طیارہ اب بھی زیرِ استعمال ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ صوبے کے طیارے کو بین الاقوامی پروازوں کی اجازت ہے، تاہم یہ اجازت صرف دیکھ بھال (مینٹیننس) کے لیے ہے۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بھی تصدیق کی کہ سندھ کے طیارے کو فی الحال صرف دبئی تک بین الاقوامی پرواز کی اجازت ہے، کیونکہ اس میں اس سے زیادہ فاصلے تک پرواز کرنے کی گنجائش نہیں۔ خیبر پختونخوا کے پاس کوئی طیارہ نہیں ہے۔

DATE . 22/Sep/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top