
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں موجود سنجیدہ اور نسبتاً حقیقت پسند سیاسی رہنما سمجھی جانے والی شخصیات پر مشتمل حلقہ سمجھتا ہے کہ اگر پارٹی نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے زیادہ لچک دار سیاسی حکمتِ عملی اختیار کی ہوتی تو اس کیلئے تیزی سے محدود اور سکڑتے سیاسی میدان کو روکا جا سکتا تھا، بلکہ ممکنہ طور پر سیاسی ماحول کو سازگار بھی کیا جا سکتا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا مہم چلانے والوں، بیرونِ ملک سے سرگرم پارٹی کے ہمدرد یوٹیوبرز اور وی لاگرز، نیز ملک چھوڑ کر جانے والے بعض رہنماؤں نے پارٹی کو مسلسل بڑھتی محاذ آرائی پر مبنی سیاسی بیانیے کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ متعدد مواقع پر پارٹی کے پاس کشیدگی کم کرنے، سیاسی رابطوں کے راستے دوبارہ کھولنے اور حالات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت کرنے کے مواقع موجود تھے۔ تاہم، یہ مواقع بار بار ضائع ہوئے، کیونکہ تحمل یا زیادہ حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے حامی رہنمائوں کو خود پارٹی کے سوشل میڈیا حامیوں کے حلقے کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تنقید کا مرکز پارٹی کے سخت گیر عناصر ہیں اور جن کا اثرورسوخ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث پارٹی کیلئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر نظرِثانی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس جائزے کے مطابق، حقیقت پسندانہ طرزِ عمل کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کو بے وفا یا سمجھوتہ کرنے والا قرار دیے جانے کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ محاذ آرائی کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والی آوازیں اکثر پارٹی کے عوامی بیانیے پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً، پارٹی کی سیاسی سمت مسلسل کشیدگی بڑھانے کی طرف مائل رہی ہے، حالانکہ پارٹی کے حقیقت پسند عناصر کی رائے میں حالات ایسے تھے جس میں کشیدگی کم کرنا اور سیاسی روابط بحال کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم تھا۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ان خدشات کو مزید گہرا کر گیا ہے۔ چونکہ یہ صوبہ پارٹی کی واحد صوبائی حکومت تھا، اس لیے حالیہ دھچکے نے پارٹی کے اندر اس کی سیاسی حکمتِ عملی کے موثر ہونے اور فیصلہ سازی پر سخت گیر آوازوں کو اثرانداز ہونے کی اجازت دینے کے نتائج کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پارٹی کے ان حلقوں کیلئے بنیادی سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے حالیہ سیاسی دھچکے پر کیا ردِعمل دینا چاہیے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا وہ وہ سیاسی گنجائش دوبارہ حاصل کر سکتی ہے جسے اس نے بتدریج کھو دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس مقصد کیلئے پارٹی کے محاذ آرائی پر مبنی طرزِ عمل کا ازسرِنو جائزہ لینا اور کشیدگی بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے بجائے سیاسی روابط قائم کرنے کیلئے زیادہ آمادگی دکھانا ضروری ہوگا۔
بیرونِ ملک مقیم مبصرین اور سوشل میڈیا کارکنوں کا کردار خاص طور پر تشویش کا باعث بن کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ ان کے پلیٹ فارمز نے پی ٹی آئی کو عوامی سطح پر وسیع موجودگی برقرار رکھنے میں مدد دی ہے، تاہم پارٹی کے اندر موجود ناقدین کا خیال ہے کہ آن لائن بیانیے نے قیادت کیلئے دستیاب سیاسی گنجائش کو بتدریج محدود کر دیا ہے۔
ان کے مطابق، سیاسی فیصلوں کی بنیاد سوشل میڈیا مہمات کے دباؤیا ایسے بااثر مبصرین کے ردِعمل پر نہیں ہونا چاہئے جو لازماً زمینی سطح پر سیاسی پیشرفت کے براہِ راست نتائج کا سامنا نہیں کرتے۔ ذرائع کے مطابق، تنقید کا دائرہ پارٹی کے ان رہنمائوں تک بھی پھیلتا ہے جنہوں نے بحران سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل سیاسی راستہ پیش کیے بغیر سخت گیر بیانیے کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔ پی ٹی آئی کی نسبتاً حقیقت پسند قیادت کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ طے کرے آیا وہ اپنے سیاسی بیانیے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر سکتی ہے، پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کیلئے گنجائش محفوظ بنا سکتی ہے اور ایسی حکمتِ عملی اپنا سکتی ہے جو محاذ آرائی کے بجائے سیاسی بحالی کو ترجیح دے۔
صوبائی حکومت سے محرومی نے پارٹی کے اندر جاری اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی کی سیاسی تنہائی ناگزیر تھی یا بار بار مواقع گنوانے، اور اس کے ساتھ پارٹی کے اپنے سخت گیر عناصر اور آن لائن حامیوں کے دبائو نے اسے موجودہ صورتحال تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
DATE . 22/Oct/2026
