News

قراردادِ پاکستان: مسلمانوں کی علیحدہ قومی شناخت اور جدوجہدِ آزادی کی بنیاد

لاہور: قراردادِ پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ قومی شناخت اور جدوجہدِ آزادی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق انگریزوں اور ہندوؤں کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک نے ایک علیحدہ ریاست کے مطالبے کو تقویت دی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کیا تھا کہ مسلمان ایک […]

قراردادِ پاکستان: مسلمانوں کی علیحدہ قومی شناخت اور جدوجہدِ آزادی کی بنیاد Read More »

ایران جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیں گے: کینیڈین وزیراعظم کا اعلان

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہےکہ کینیڈا ایران جنگ میں کبھی حصہ نہیں لے گا۔ ایک بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ ایران جنگ پر کینیڈا کا مؤقف واضح ہے، کینیڈا ایران جنگ میں کبھی حصہ نہیں لےگا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ایرانی جوہری پروگرام

ایران جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیں گے: کینیڈین وزیراعظم کا اعلان Read More »

پاکستان کیساتھ مذاکرات میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی: آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)  نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، آیندہ چند دنوں میں بات چیت کو حتمی شکل دے دیں گے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 25 فروری سے 11 مارچ تک ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا۔ عالمی

پاکستان کیساتھ مذاکرات میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی: آئی ایم ایف Read More »

best name for dog 10

WB Pushes Animated ‘The Cat in the Hat’ Pic to Nov 2026 Inside the 2026 “The Cat in the Hat”: New Universe, New Cast, and a Teaser Dropping Tomorrow And hey, sometimes it’s about that satisfying sound when you call it out at the dog park! Whether you’re drawn to names ending in a cute

best name for dog 10 Read More »

چینی سرزمین پر شجرکاری کی مہم عروج پر پہنچ گئیرضاکارانہ شجرکاری کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری بیجنگ () 12 مارچ کو چین کاقومی یوم شجرکاری منایا جاتا ہے ۔ خوشگوار موسم بہار شجرکاری کا درست وقت ہے۔ وسیع وعریض چینی سرزمین پر شجرکاری کی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے ۔ شہر کے پارکس سے لے کر دیہی پہاڑوں تک، سرکاری اہلکاروں سے لے کر عام شہریوں تک، رضاکارانہ شجرکاری کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہتی ہیں ۔جب ایک ایک پودے کو زرخیز زمین میں لگایا جاتا ہے تو خوبصورت چین کی تعمیر میں نئی زندگی کی بنیاد رکھی جا تی ہے ۔شجر کاری ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد سے، صدر شی جن پھنگ ہر سال دارالحکومت بیجنگ میں کارکنوں اور شہریوں کے ساتھ درخت لگانے کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ اپریل 2025 میں، صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں رضاکارانہ درخت لگانے کی ایک سرگرمی کے موقع پر تاکید کی کہ تمام علاقوں اور محکموں کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں، اہل کاروں اور عام شہریوں کو متحرک اور منظم کرنا چاہیے تاکہ وہ شجر کاری اور سبزہ کاری میں فعال حصہ لیں، سبز ترقی کے تصور پر عمل کریں، اور ماحولیاتی ثقافت کو فروغ دیں۔چینی طرز کی جدیدیت انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی پر مبنی جدیدیت ہے، جس میں سبز ترقی کی خصوصیات زیادہ واضح ہیں۔ سب لوگوں کی جانب سے درخت لگا کر سبزے کو بڑھانے کی بھر پور کوشش اسی جدید راستے کی عملی نمائندگی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین میں 127 ملین مو زمین کو سبز بنانے کا کام مکمل ہو چکا تھا ۔ جس میں 53.45 ملین مو رقبے پر نئے جنگلات لگائے گئے جبکہ 73.9 ملین مو تباہ شدہ چراگاہوں کی بحالی کی گئی ۔ اس وقت ملک بھر جنگلات کا رقبہ 25.09 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا کے نئے سبز علاقے کے رقبے میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے جس نے چین کو دنیا کا سب سے تیز اور زیادہ سبز ہ بڑھانے والا ملک بنا دیا ہے ، جبکہ مصنوعی جنگلات کے رقبے کے اعتبار سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ریگستانی اور ریتیلی زمینوں کے رقبے ،دونوں میں مسلسل کمی آرہی ہے ، اور دنیا میں چین پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں زمین کی بگڑتی حالت کو روک کر اس میں “صفر اضافہ ” حاصل کیا گیا ہے ۔صحرائے تکلمکان کے گرد ‘سبز اسکارف’ باندھنے سے لے کر کورچن کے ریتیلے علاقے میں دوبارہ گھاس کے میدانوں کا منظر تخلیق کرنے تک، اور سیہانبہ میں ‘ویران زمین کو جنگل میں بدلنے’ کا سبز معجزہ تخلیق کرنے سے لے کر ” تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ پروگرام ” میں نمایاں کامیابی کے حصول تک ، پورے چین پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ سبز رنگ نمایاں نظر آتا ہے اور لوگ ماحول کی مسلسل بہتری کے باعث خوشی کو براہِ راست اور حقیقی طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ آسمان زیادہ نیلا ہے ، پہاڑ سبز ہیں ، پانی صاف ہے اور کھڑکی کھولیں تو سبز مناظر ،پرندوں کی آوازیں اور پھولوں کی خوشبو کے احساس کا عمومی منظر اب ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں یومِ شجرکاری منایا جاتا ہے، مگر چین ایک نئے اور اختراعی انداز میں “رضاکارانہ شجرکاری” کے تصور کو نئی شکل دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی سرگر می نہیں، بلکہ عوامی شرکت کا ایک جدت سے بھرپور جشن بھی ہے ۔ اگر روایتی طور پر پودے لگانے کے لیے “پہاڑ پر بیلچہ اٹھا کر شدید پسینہ بہانا” ضروری تھا ، تو آج کے چین میں بعض اوقات صرف انگلیوں کی جنبش بھی درخت لگانے میں حصہ ڈال سکتی ہے ۔ٹیکنالوجی نے شجرکاری کو نئی پرواز دی ہے۔ ڈرونز پر مشتمل “فضائی شجرکاری ٹیمیں”دشوار گزار ڈھلوانوں پر درستگی کے ساتھ پودے اگاتی ہیں۔ جنگلاتی ماہرین تھری ڈی ڈیٹا پلیٹ فارم کے ذریعے دور بیٹھ کر جنگلات کی افزائش کی نگرانی کرتے ہیں۔2017 میں شروع ہونے والی “قومی رضاکارانہ شجرکاری ویب سائٹ” پر اب تک 465 ملین سے زیادہ وزٹس ہو چکے ہیں ۔ ضوابط کے مطابق عوام اپنی ذمہ داری مختلف طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں جن میں شجرکاری اور سبز کاری ، پرورش اور دیکھ بھال ، قدرتی تحفظ، پودے لگانا اور ان کی پرورش ، سہولیات کی تعمیر، فنڈز اور سامان کا عطیہ، رضاکارانہ خدمات اور دیگر اقسام شامل ہیں۔سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ دو طریقوں کا انتخاب ہے ۔ یا محنت کریں یا مالی تعاون ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی مقامی حالت کے مطابق جدت کے عملی تجربات کیے جا رہے ہیں۔بیجنگ میں شہری اگر اپنے گھر کے صحن، چھت، دیواروں وغیرہ کی جگہوں پر 3 مربع میٹر پودے یا سبز چیزیں اگائیں، یا ‘صحن میں ایک درخت’ ، یا 1 مربع میٹر بالکونی میں سبزیاں لگائیں، تو یہ سب 3 درخت لگانے کے برابر شمار کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے گھر کی بالکونی میں چند پودے رکھنا بھی درخت لگانے کی ذمہ داری پورا کرنے کے مترادف ہے ، یوں شجرکاری کا یہ کام واقعی عام لوگوں کے گھروں تک پہنچ گیا ہے۔ملک گیر سطح پر درخت لگانا اور سبزہ بڑھانا ،لوگوں کی شراکت اور اشتراک پر منحصر ہے ۔ سبز ے کی توسیع اور ماحول کی بہتری نہ صرف لوگوں کی زندگی کے معیار کو بڑھاتی ہے بلکہ لوگوں کے خیالات اور تصورات کو بھی بدل رہی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھ رہی ہے کہ سبز ہ زندگی کی علامت ہے، سبز ہ خوشی ہے، سبز ہ بڑھا نے کا مقصد فوائد میں اضافہ کرنا ہے ، اور سبز ہ کا تحفظ دولت کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ یہ نیا طرز زندگی اور نئے تصورات لوگوں کے دلوں میں بس گئے ہیں جو ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے اتفاق رائے اور مشترکہ قوت پیدا کرتے ہیں۔خوبصورت چین کی تعمیر پر عوام کا اعتماد اور ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کے لیے ان کا پختہ عزم یقینی طور پر خوبصورت چین کی نئی تصویر پیش کرے گا، اور انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدید کاری کے خاکے کو قدم بہ قدم حقیقت بنائے گا۔

Date . Mar/11/2026

چینی سرزمین پر شجرکاری کی مہم عروج پر پہنچ گئیرضاکارانہ شجرکاری کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری بیجنگ () 12 مارچ کو چین کاقومی یوم شجرکاری منایا جاتا ہے ۔ خوشگوار موسم بہار شجرکاری کا درست وقت ہے۔ وسیع وعریض چینی سرزمین پر شجرکاری کی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے ۔ شہر کے پارکس سے لے کر دیہی پہاڑوں تک، سرکاری اہلکاروں سے لے کر عام شہریوں تک، رضاکارانہ شجرکاری کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہتی ہیں ۔جب ایک ایک پودے کو زرخیز زمین میں لگایا جاتا ہے تو خوبصورت چین کی تعمیر میں نئی زندگی کی بنیاد رکھی جا تی ہے ۔شجر کاری ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد سے، صدر شی جن پھنگ ہر سال دارالحکومت بیجنگ میں کارکنوں اور شہریوں کے ساتھ درخت لگانے کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ اپریل 2025 میں، صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں رضاکارانہ درخت لگانے کی ایک سرگرمی کے موقع پر تاکید کی کہ تمام علاقوں اور محکموں کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں، اہل کاروں اور عام شہریوں کو متحرک اور منظم کرنا چاہیے تاکہ وہ شجر کاری اور سبزہ کاری میں فعال حصہ لیں، سبز ترقی کے تصور پر عمل کریں، اور ماحولیاتی ثقافت کو فروغ دیں۔چینی طرز کی جدیدیت انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی پر مبنی جدیدیت ہے، جس میں سبز ترقی کی خصوصیات زیادہ واضح ہیں۔ سب لوگوں کی جانب سے درخت لگا کر سبزے کو بڑھانے کی بھر پور کوشش اسی جدید راستے کی عملی نمائندگی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین میں 127 ملین مو زمین کو سبز بنانے کا کام مکمل ہو چکا تھا ۔ جس میں 53.45 ملین مو رقبے پر نئے جنگلات لگائے گئے جبکہ 73.9 ملین مو تباہ شدہ چراگاہوں کی بحالی کی گئی ۔ اس وقت ملک بھر جنگلات کا رقبہ 25.09 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا کے نئے سبز علاقے کے رقبے میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے جس نے چین کو دنیا کا سب سے تیز اور زیادہ سبز ہ بڑھانے والا ملک بنا دیا ہے ، جبکہ مصنوعی جنگلات کے رقبے کے اعتبار سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ریگستانی اور ریتیلی زمینوں کے رقبے ،دونوں میں مسلسل کمی آرہی ہے ، اور دنیا میں چین پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں زمین کی بگڑتی حالت کو روک کر اس میں “صفر اضافہ ” حاصل کیا گیا ہے ۔صحرائے تکلمکان کے گرد ‘سبز اسکارف’ باندھنے سے لے کر کورچن کے ریتیلے علاقے میں دوبارہ گھاس کے میدانوں کا منظر تخلیق کرنے تک، اور سیہانبہ میں ‘ویران زمین کو جنگل میں بدلنے’ کا سبز معجزہ تخلیق کرنے سے لے کر ” تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ پروگرام ” میں نمایاں کامیابی کے حصول تک ، پورے چین پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ سبز رنگ نمایاں نظر آتا ہے اور لوگ ماحول کی مسلسل بہتری کے باعث خوشی کو براہِ راست اور حقیقی طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ آسمان زیادہ نیلا ہے ، پہاڑ سبز ہیں ، پانی صاف ہے اور کھڑکی کھولیں تو سبز مناظر ،پرندوں کی آوازیں اور پھولوں کی خوشبو کے احساس کا عمومی منظر اب ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں یومِ شجرکاری منایا جاتا ہے، مگر چین ایک نئے اور اختراعی انداز میں “رضاکارانہ شجرکاری” کے تصور کو نئی شکل دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی سرگر می نہیں، بلکہ عوامی شرکت کا ایک جدت سے بھرپور جشن بھی ہے ۔ اگر روایتی طور پر پودے لگانے کے لیے “پہاڑ پر بیلچہ اٹھا کر شدید پسینہ بہانا” ضروری تھا ، تو آج کے چین میں بعض اوقات صرف انگلیوں کی جنبش بھی درخت لگانے میں حصہ ڈال سکتی ہے ۔ٹیکنالوجی نے شجرکاری کو نئی پرواز دی ہے۔ ڈرونز پر مشتمل “فضائی شجرکاری ٹیمیں”دشوار گزار ڈھلوانوں پر درستگی کے ساتھ پودے اگاتی ہیں۔ جنگلاتی ماہرین تھری ڈی ڈیٹا پلیٹ فارم کے ذریعے دور بیٹھ کر جنگلات کی افزائش کی نگرانی کرتے ہیں۔2017 میں شروع ہونے والی “قومی رضاکارانہ شجرکاری ویب سائٹ” پر اب تک 465 ملین سے زیادہ وزٹس ہو چکے ہیں ۔ ضوابط کے مطابق عوام اپنی ذمہ داری مختلف طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں جن میں شجرکاری اور سبز کاری ، پرورش اور دیکھ بھال ، قدرتی تحفظ، پودے لگانا اور ان کی پرورش ، سہولیات کی تعمیر، فنڈز اور سامان کا عطیہ، رضاکارانہ خدمات اور دیگر اقسام شامل ہیں۔سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ دو طریقوں کا انتخاب ہے ۔ یا محنت کریں یا مالی تعاون ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی مقامی حالت کے مطابق جدت کے عملی تجربات کیے جا رہے ہیں۔بیجنگ میں شہری اگر اپنے گھر کے صحن، چھت، دیواروں وغیرہ کی جگہوں پر 3 مربع میٹر پودے یا سبز چیزیں اگائیں، یا ‘صحن میں ایک درخت’ ، یا 1 مربع میٹر بالکونی میں سبزیاں لگائیں، تو یہ سب 3 درخت لگانے کے برابر شمار کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے گھر کی بالکونی میں چند پودے رکھنا بھی درخت لگانے کی ذمہ داری پورا کرنے کے مترادف ہے ، یوں شجرکاری کا یہ کام واقعی عام لوگوں کے گھروں تک پہنچ گیا ہے۔ملک گیر سطح پر درخت لگانا اور سبزہ بڑھانا ،لوگوں کی شراکت اور اشتراک پر منحصر ہے ۔ سبز ے کی توسیع اور ماحول کی بہتری نہ صرف لوگوں کی زندگی کے معیار کو بڑھاتی ہے بلکہ لوگوں کے خیالات اور تصورات کو بھی بدل رہی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھ رہی ہے کہ سبز ہ زندگی کی علامت ہے، سبز ہ خوشی ہے، سبز ہ بڑھا نے کا مقصد فوائد میں اضافہ کرنا ہے ، اور سبز ہ کا تحفظ دولت کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ یہ نیا طرز زندگی اور نئے تصورات لوگوں کے دلوں میں بس گئے ہیں جو ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے اتفاق رائے اور مشترکہ قوت پیدا کرتے ہیں۔خوبصورت چین کی تعمیر پر عوام کا اعتماد اور ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کے لیے ان کا پختہ عزم یقینی طور پر خوبصورت چین کی نئی تصویر پیش کرے گا، اور انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدید کاری کے خاکے کو قدم بہ قدم حقیقت بنائے گا۔ Read More »

چین کے خصوصی ایلچی اس وقت مشرق وسطی کی دورے پر ہیں، چینی وزارت خا رجہامن کے لیے چین کی کوششیں جاری رہیں گی، تر جمانبیجنگ () چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای حالیہ دنوں ایران کی صورتِ حال کے حوالے سے سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے ایک بار پھر خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت اور تبادلۂ خیال کیا ہے۔گو جیاکھون نے کہا کہ لڑائی کے آغاز کے پہلے دن سے ہی چین نے واضح طور پر فوری جنگ بندی، لڑائی کے خاتمے، مذاکرات و مکالمے کی طرف واپسی اور سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی ایلچی اس وقت خطے کے مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مخلص دوست کی حیثیت سے چین تنازعہ میں شریک فریقین سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط رکھے گا اور کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ جنوبی کوریا میں موجود امریکی تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم کے ایک حصے کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جانے کے بارے میں گو جیاکھون نے کہا کہ چین کی جانب سے تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم کی جنوبی کوریا میں تعیناتی کی مخالفت کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔

Date . Mar/11/2026

چین کے خصوصی ایلچی اس وقت مشرق وسطی کی دورے پر ہیں، چینی وزارت خا رجہامن کے لیے چین کی کوششیں جاری رہیں گی، تر جمانبیجنگ () چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای حالیہ دنوں ایران کی صورتِ حال کے حوالے سے سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے ایک بار پھر خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت اور تبادلۂ خیال کیا ہے۔گو جیاکھون نے کہا کہ لڑائی کے آغاز کے پہلے دن سے ہی چین نے واضح طور پر فوری جنگ بندی، لڑائی کے خاتمے، مذاکرات و مکالمے کی طرف واپسی اور سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی ایلچی اس وقت خطے کے مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مخلص دوست کی حیثیت سے چین تنازعہ میں شریک فریقین سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط رکھے گا اور کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ جنوبی کوریا میں موجود امریکی تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم کے ایک حصے کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جانے کے بارے میں گو جیاکھون نے کہا کہ چین کی جانب سے تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم کی جنوبی کوریا میں تعیناتی کی مخالفت کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔ Read More »

عسکریت پسندی کا پرانا راستہ جاپان کے لئے خود کو تباہ کرنے کا راستہ ہے، چینی وزارت دفاعبیجنگ () اطلاعات کے مطابق جاپان نے حال ہی میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کے حامل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعیناتی شروع کی ہے۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے اور یہ پڑوسی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ چین کی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل جیانگ بن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی دائیں بازو کی قوتوں نے واضح طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جارحانہ ہتھیار نصب کیے ہیں، جن کی رینج جاپانی سرزمین کی حدود سے کہیں زیادہ ہے، اور یوں جاپان نے اپنا ” صرف دفاعی حکمت عملی” کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی “نئی طرز کی عسکریت پسندی” صرف ایک خطرناک علامت نہیں بلکہ ایک کھلا حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم جاپان کو سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ عسکریت پسندی کا پرانا راستہ جاپان کے لئے خود کو تباہ کرنے کا راستہ ہے۔ اگر جاپان طاقت کے ذریعے چین کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتا ہے، تو اسے شدید دھچکا لگے گا اور مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی میکانزم کے 16 ماہرین نے ان دنوں ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کی، جس میں جاپان کی جانب سے ” کمفرٹ ویمن” کا شکار ہونے والی خواتین کو سچائی، انصاف اور معاوضے کے حصول کے حق سے محروم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ باضابطہ معافی مانگے، مکمل معاوضہ فراہم کرے اور نصابی کتب میں متعلقہ تاریخی ریکارڈ کو درست کرے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے 11 تاریخ کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جاپانی عسکریت پسندی کی جانب سے ایک سنگین تاریخی جرم ہے، اور اس کا ثبوت ناقابل تردید ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میکانزم نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری کی جانب سے عدل و انصاف کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہم جاپان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہرائی سے خوداحتسابی کرے اور ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جیسے تاریخی مسائل کو ایماندارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں حل کرے۔

Date . Mar/11/2026

عسکریت پسندی کا پرانا راستہ جاپان کے لئے خود کو تباہ کرنے کا راستہ ہے، چینی وزارت دفاعبیجنگ () اطلاعات کے مطابق جاپان نے حال ہی میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کے حامل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعیناتی شروع کی ہے۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے اور یہ پڑوسی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ چین کی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل جیانگ بن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی دائیں بازو کی قوتوں نے واضح طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جارحانہ ہتھیار نصب کیے ہیں، جن کی رینج جاپانی سرزمین کی حدود سے کہیں زیادہ ہے، اور یوں جاپان نے اپنا ” صرف دفاعی حکمت عملی” کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی “نئی طرز کی عسکریت پسندی” صرف ایک خطرناک علامت نہیں بلکہ ایک کھلا حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم جاپان کو سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ عسکریت پسندی کا پرانا راستہ جاپان کے لئے خود کو تباہ کرنے کا راستہ ہے۔ اگر جاپان طاقت کے ذریعے چین کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتا ہے، تو اسے شدید دھچکا لگے گا اور مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی میکانزم کے 16 ماہرین نے ان دنوں ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کی، جس میں جاپان کی جانب سے ” کمفرٹ ویمن” کا شکار ہونے والی خواتین کو سچائی، انصاف اور معاوضے کے حصول کے حق سے محروم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ باضابطہ معافی مانگے، مکمل معاوضہ فراہم کرے اور نصابی کتب میں متعلقہ تاریخی ریکارڈ کو درست کرے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے 11 تاریخ کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جاپانی عسکریت پسندی کی جانب سے ایک سنگین تاریخی جرم ہے، اور اس کا ثبوت ناقابل تردید ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میکانزم نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری کی جانب سے عدل و انصاف کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہم جاپان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہرائی سے خوداحتسابی کرے اور ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جیسے تاریخی مسائل کو ایماندارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں حل کرے۔ Read More »

چین عالمی ترقی کے لیے قابل قدر استحکام فراہم کرتا ہے، چین میں متعدد ممالک کے سفراءبیجنگ () رواں سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سال چین کی 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں نظرثانی کے لیے پیش کردہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا خاکہ مختلف حلقوں کی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ چین میں مالدیپ کے سفیر فضیل نجیب کا کہنا ہے کہ چین کی مجموعی ترقی میں تسلسل اور استحکام کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ میں اس حقیقت سے دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوں کہ چین ہمیشہ سے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کررہا ہے۔ چین میں کرویشیا کے سفیر ڈاریو میہلین کا کہنا ہے کہ ہمیں واضح احساس ہے کہ چین تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں منتقل ہورہا ہے، جس میں صنعتی ترقی اور تکنیکی جدت پر زور دیا جا رہا ہے، اور یہ دراصل سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی مسلسل کامیابیوں کی ایک جھلک ہے۔ چین میں گھانا کے سفیر کوجو بونسو نے کہا کہ ہم توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ عالمی سبز ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ چین کے دو اجلاسوں نے دنیا کے سامنے چین کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور گھانا کو چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس سال کے دو اجلاسوں سے ملنے والا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ چینی حکومت عوام کے ذریعہ معاش نیز لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کو اپنے پالیسی فوکس کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا میں رابرٹ مورس یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر انتھونی مورٹی نے کہا کہ جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ ہے کہ چینی صدر اور چینی حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مسلسل بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض مباحث میں بچوں کی پرورش کرنے والی ماؤں کے لیے انشورنس کوریج اور فلاحی سہولتوں کی فراہمی جیسے اقدامات زیرِ غور آئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پالیسی چینی خاندانوں کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتی ہے کہ حکومت ان خاندانوں کے معاشی بوجھ کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ پولینڈ کے سابق وزیر اقتصادیات پیوٹر ووزنیک نے کہا کہ چین جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ ان کے مطابق گاڑیوں کی صنعت اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اگر کوئی الیکٹرک کار خریدنے پر غور کر رہا ہے تو چینی برانڈ اس کا پہلا انتخاب ہو گا۔ جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف دی ویسٹرن کیپ کے وائس چانسلر میٹ مادیبا نے کہا کہ چین کی تکنیکی خود انحصاری عالمی سطح پر ایک قابل قدر تجربہ بن رہی ہے۔

Date . Mar/11/2026

چین عالمی ترقی کے لیے قابل قدر استحکام فراہم کرتا ہے، چین میں متعدد ممالک کے سفراءبیجنگ () رواں سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سال چین کی 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں نظرثانی کے لیے پیش کردہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا خاکہ مختلف حلقوں کی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ چین میں مالدیپ کے سفیر فضیل نجیب کا کہنا ہے کہ چین کی مجموعی ترقی میں تسلسل اور استحکام کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ میں اس حقیقت سے دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوں کہ چین ہمیشہ سے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کررہا ہے۔ چین میں کرویشیا کے سفیر ڈاریو میہلین کا کہنا ہے کہ ہمیں واضح احساس ہے کہ چین تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں منتقل ہورہا ہے، جس میں صنعتی ترقی اور تکنیکی جدت پر زور دیا جا رہا ہے، اور یہ دراصل سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی مسلسل کامیابیوں کی ایک جھلک ہے۔ چین میں گھانا کے سفیر کوجو بونسو نے کہا کہ ہم توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ عالمی سبز ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ چین کے دو اجلاسوں نے دنیا کے سامنے چین کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور گھانا کو چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس سال کے دو اجلاسوں سے ملنے والا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ چینی حکومت عوام کے ذریعہ معاش نیز لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کو اپنے پالیسی فوکس کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا میں رابرٹ مورس یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر انتھونی مورٹی نے کہا کہ جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ ہے کہ چینی صدر اور چینی حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مسلسل بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض مباحث میں بچوں کی پرورش کرنے والی ماؤں کے لیے انشورنس کوریج اور فلاحی سہولتوں کی فراہمی جیسے اقدامات زیرِ غور آئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پالیسی چینی خاندانوں کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتی ہے کہ حکومت ان خاندانوں کے معاشی بوجھ کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ پولینڈ کے سابق وزیر اقتصادیات پیوٹر ووزنیک نے کہا کہ چین جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ ان کے مطابق گاڑیوں کی صنعت اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اگر کوئی الیکٹرک کار خریدنے پر غور کر رہا ہے تو چینی برانڈ اس کا پہلا انتخاب ہو گا۔ جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف دی ویسٹرن کیپ کے وائس چانسلر میٹ مادیبا نے کہا کہ چین کی تکنیکی خود انحصاری عالمی سطح پر ایک قابل قدر تجربہ بن رہی ہے۔ Read More »

Scroll to Top