News

ڈیجیٹل ترقی کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی ناگزیر ہے: شزہ فاطمہ خواجہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں مکمل اعتماد پیدا کرنے کے لیے ملک میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 32 سے زائد سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا […]

ڈیجیٹل ترقی کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی ناگزیر ہے: شزہ فاطمہ خواجہ Read More »

پاکستان میں گرین ایگری مال کے ذریعے جدید زرعی سہولت کاری کا نیا باب

اسلام آباد: پاکستان میں گرین ایگری مال جیسے جدید زرعی مراکز معیشت کے لیے سنہری مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت یہ مراکز جدید زرعی ٹیکنالوجی اور معیاری زرعی مصنوعات کسانوں تک بروقت پہنچا رہے ہیں۔ گرین ایگری مال کے سی ای او علی سفیان نے بتایا کہ ملک میں 40

پاکستان میں گرین ایگری مال کے ذریعے جدید زرعی سہولت کاری کا نیا باب Read More »

چین کے دو اجلاس 1.4 ارب چینی عوام کے معاملاتِ زندگی کا قومی فورم ہیں، چینی میڈیابیجنگ () جب مغربی ممالک میں انتخابی موسم آتا ہے تو میڈیا کی سرخیاں، سڑکوں پر گرم بحث اور عالمی توجہ امیدواروں اور ووٹنگ کے عمل پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ کسی ملک کی سمت کا تعین کرنے والا اہم واقعہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چین میں ہر سال بہار میں منعقد ہونے والے دو اجلاس بھی ایک اہم ترین سیاسی واقعہ ہوتے ہیں جن پر پورے ملک کی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ ان کی حیثیت اور اہمیت مغربی انتخابات سے کسی طور کم نہیں، مگر طویل عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ انہیں دانستہ طور پر غلط انداز میں پیش کرنے اور کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔ بعض مغربی میڈیا ادارے نظریاتی تعصب کے تحت دو اجلاس کو “ربڑ اسٹیمپ” قرار دیتے ہیں اور انہیں محض “رسمی کارروائی” کا نام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کا سنجیدہ مطالعہ کرنے والے بین الاقوامی مبصرین اس سطحی تعصب کو بہت پہلے ترک کر چکے ہیں اور دو اجلاسوں کو چین کو سمجھنے کا پہلا راستہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں سے چین کی ترقی کی سمت، پالیسی سازی کی منطق اور عوامی فلاح و بہبود کی ترجیحات واضح ہوتی ہیں۔ یہ چین کے سیاسی نظام اور سماجی نظم و نسق کو سمجھنے کا سب سے براہِ راست اور معتبر ذریعہ ہے۔ 1.4 ارب چینی عوام کے لیے، دو اجلاسوں سے آنے والے اشارے ان کی روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور ان کی اہمیت کسی “سیاسی جشنِ بہار” سے کم نہیں۔دو اجلاس سے مراد قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاس ہیں۔ آپ اسے چین کی سالانہ قومی ترقیاتی کانفرنس بھی سمجھ سکتے ہیں، مگر اس کا دائرہ کہیں وسیع، موضوعات زیادہ عملی اور اثرات زیادہ دور رس ہوتے ہیں۔دو اجلاسوں کے نمائندے اور مندوبین مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں: وہ گاؤں کے سی پی سی پارٹی سکریٹری جو کسانوں کو غربت سے نکالنے میں مدد کرتے ہیں، وہ سائنسدان جو تکنیکی رکاوٹیں توڑتے ہیں، وہ اداکار جو ناظرین میں مقبول ہیں، اور وہ کمیونٹی کارکن جو روزمرہ زندگی کے مسائل سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں ۔دو اجلاسوں کے دوران، ہزاروں نمائندے اور مندوبین حکومتی ورک رپورٹ پر غور کرتے ہیں، بجٹ کے مسودے کا جائزہ لیتے ہیں، قانونی ترمیم پر بحث کرتے ہیں، اور قومی اور عوامی معاملات کے ہر پہلو پر تجاویز پیش کرتے ہیں۔ یہ بات چیت اور مباحثے آخر کار مخصوص پالیسیوں، قوانین اور مالیاتی انتظامات میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو آنے والے ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک چین کی ترقی کی سمت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔عام چینی شہریوں کے لیے دو اجلاس کبھی بھی دور کا سیاسی تماشا نہیں ہوتے بلکہ یہ ہر فرد کی زندگی سے جڑے “عوامی فلاح و بہبود کا اجتماع” ہے۔ رہائش کی قیمتوں، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال سے لے کر بزرگوں کی دیکھ بھال، روزگار اور آمدورفت جیسے مسائل سے لے کر روزمرہ زندگی کے دیگر معاملات تک، نمائندوں اور مندوبین کی ہر تجویز عوامی زندگی کی حقیقتوں سے جڑی ہوتی ہے اور لوگوں کی توقعات کا جواب دیتی ہے۔ اس سال کے دو اجلاسوں میں پیش کی جانے والی متعدد تجاویز اس قدر عملی ہیں کہ انہیں حقیقی معنوں میں عوامی زندگی سے جڑا ہوا کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم کے میدان میں والدین کے ذہنی دباؤ،طلبہ کے تعلیمی بوجھ میں کمی اور ان کی پرائمری سے ثانوی اور اعلیٰ اسکول میں منتقلی کے دوران پیش آنے والے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ سماجی ہمدردی کے حوالے سے ایک نمائندے نے پالتو جانوروں کے تحفظ کے قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ۔صحت اور بزرگوں کی نگہداشت کے شعبے میں بعض ارکان نے سینئر نرسوں کو نسخہ لکھنے کا اختیار دینے اور طبی وسائل کو بہتر بنانے کی تجویز دی تاکہ مریضوں کو علاج میں سہولت ہو، جبکہ ایک نمائندے نے بزرگوں کی نگہداشت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی بات کی۔ سماجی تحفظ کے میدان میں ایک نمائندے نے دیہی باشندوں کی پنشن میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ زندگی بھر محنت کرنے والے دیہی بزرگ پر سکون زندگی گزار سکیں ۔بلاشبہ دو اجلاسوں میں پیش کی جانے والی بعض چھوٹی مگر معنی خیز تجاویز اس عمل کی انسانی گرمجوشی کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک نمائندے نے عوامی مقامات پر خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹر (AED) آلات کی وسیع پیمانے پر تنصیب اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت عام کرنے کی تجویز دی، جبکہ ایک نمائندے نے “شہری پاکٹ پارک”کے تصور پر توجہ دلائی اور شہروں کے گوشے گوشےمیں چھوٹی سبز پارکس تعمیر کرنے کا مشورہ دیا تاکہ شہری “کھڑکی کھولیں تو سبزہ دیکھیں اور گھر سے نکلیں تو پارک میں داخل ہوں”۔اس کے علاوہ لچکدار روزگار رکھنے والوں کے لیے سماجی تحفظ، کم از کم اجرت اور قیمتوں کے درمیان تناسب ، معذور افراد کے لیے قابل رسائی ٹیکسیوں کا عام استعمال وغیرہ جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ یہ تجاویز معاشرتی زندگی، صنعتی ترقی، اور معاشرتی انتظام کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان تجاویز میں نہ خالی نعرے ہیں اور نہ ہی جماعتی تنقید، بلکہ حقیقی مسائل کی نشاندہی، عملی حل کی تلاش اور پالیسیوں پر عملدرآمد ہے،یہی دو اجلاسوں کی حقیقی تصویر ہے۔ یہی تجاویز بعد ازاں بازاروں کی قیمتوں، اسکولوں کی کلاسوں، ہسپتالوں کے دواخانوں اور شہری پارکوں کے سبزہ زاروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔بین الاقوامی مبصرین کے لیے دو اجلاسوں کو نظر انداز کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی فلم کا صرف ٹریلر دیکھ کر پورے پلاٹ کو سمجھ لینے کا دعویٰ کرنا۔ دو اجلاس چین کے ترقیاتی اہداف کا سالانہ روڈ شو ہیں، سماجی مطالبات کی اجتماعی آواز اور پالیسی میں اصلاح کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہاں عظیم قومی حکمتِ عملی بھی موجود ہوتی ہے اور عوامی زندگی کی باریک تفصیلات بھی۔ چین کا سیاسی نظام اپنی منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ ہر چند سال بعد ہونے والے “سیاسی دھوم” پر انحصار نہیں کرتا بلکہ مسلسل حکمرانی کی بہتری اور وسیع تر اتفاقِ رائے کی تشکیل پر زور دیتا ہے۔بالآخر سیاست دراصل زندگی کی تنظیم کا فن ہے۔ جب کسی شہر کے پارک کی بنچ، کسی بچے کی نگہداشت کے اخراجات اور کسی بزرگ کی دیکھ بھال جیسے مسائل کو بھی قومی سطح کے اعلیٰ ترین ایوان میں سنجیدگی سے زیر بحث لایا جائے تو دنیا کو بھی چاہیے کہ اسے زیادہ سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھے۔ دو اجلاس اس قدیم مگر نوجوان ملک کی “سالانہ طبی جائزہ رپورٹ” اور “مستقبل کی ترقی کا نقشہ” ہیں—اور اسے سمجھنا شاید چین کے مستقبل کی سمت کو سمجھنے کا سب سے دانشمندانہ طریقہ ہے۔

Date . Mar/11/2026

چین کے دو اجلاس 1.4 ارب چینی عوام کے معاملاتِ زندگی کا قومی فورم ہیں، چینی میڈیابیجنگ () جب مغربی ممالک میں انتخابی موسم آتا ہے تو میڈیا کی سرخیاں، سڑکوں پر گرم بحث اور عالمی توجہ امیدواروں اور ووٹنگ کے عمل پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ کسی ملک کی سمت کا تعین کرنے والا اہم واقعہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چین میں ہر سال بہار میں منعقد ہونے والے دو اجلاس بھی ایک اہم ترین سیاسی واقعہ ہوتے ہیں جن پر پورے ملک کی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ ان کی حیثیت اور اہمیت مغربی انتخابات سے کسی طور کم نہیں، مگر طویل عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ انہیں دانستہ طور پر غلط انداز میں پیش کرنے اور کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔ بعض مغربی میڈیا ادارے نظریاتی تعصب کے تحت دو اجلاس کو “ربڑ اسٹیمپ” قرار دیتے ہیں اور انہیں محض “رسمی کارروائی” کا نام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کا سنجیدہ مطالعہ کرنے والے بین الاقوامی مبصرین اس سطحی تعصب کو بہت پہلے ترک کر چکے ہیں اور دو اجلاسوں کو چین کو سمجھنے کا پہلا راستہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں سے چین کی ترقی کی سمت، پالیسی سازی کی منطق اور عوامی فلاح و بہبود کی ترجیحات واضح ہوتی ہیں۔ یہ چین کے سیاسی نظام اور سماجی نظم و نسق کو سمجھنے کا سب سے براہِ راست اور معتبر ذریعہ ہے۔ 1.4 ارب چینی عوام کے لیے، دو اجلاسوں سے آنے والے اشارے ان کی روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور ان کی اہمیت کسی “سیاسی جشنِ بہار” سے کم نہیں۔دو اجلاس سے مراد قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاس ہیں۔ آپ اسے چین کی سالانہ قومی ترقیاتی کانفرنس بھی سمجھ سکتے ہیں، مگر اس کا دائرہ کہیں وسیع، موضوعات زیادہ عملی اور اثرات زیادہ دور رس ہوتے ہیں۔دو اجلاسوں کے نمائندے اور مندوبین مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں: وہ گاؤں کے سی پی سی پارٹی سکریٹری جو کسانوں کو غربت سے نکالنے میں مدد کرتے ہیں، وہ سائنسدان جو تکنیکی رکاوٹیں توڑتے ہیں، وہ اداکار جو ناظرین میں مقبول ہیں، اور وہ کمیونٹی کارکن جو روزمرہ زندگی کے مسائل سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں ۔دو اجلاسوں کے دوران، ہزاروں نمائندے اور مندوبین حکومتی ورک رپورٹ پر غور کرتے ہیں، بجٹ کے مسودے کا جائزہ لیتے ہیں، قانونی ترمیم پر بحث کرتے ہیں، اور قومی اور عوامی معاملات کے ہر پہلو پر تجاویز پیش کرتے ہیں۔ یہ بات چیت اور مباحثے آخر کار مخصوص پالیسیوں، قوانین اور مالیاتی انتظامات میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو آنے والے ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک چین کی ترقی کی سمت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔عام چینی شہریوں کے لیے دو اجلاس کبھی بھی دور کا سیاسی تماشا نہیں ہوتے بلکہ یہ ہر فرد کی زندگی سے جڑے “عوامی فلاح و بہبود کا اجتماع” ہے۔ رہائش کی قیمتوں، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال سے لے کر بزرگوں کی دیکھ بھال، روزگار اور آمدورفت جیسے مسائل سے لے کر روزمرہ زندگی کے دیگر معاملات تک، نمائندوں اور مندوبین کی ہر تجویز عوامی زندگی کی حقیقتوں سے جڑی ہوتی ہے اور لوگوں کی توقعات کا جواب دیتی ہے۔ اس سال کے دو اجلاسوں میں پیش کی جانے والی متعدد تجاویز اس قدر عملی ہیں کہ انہیں حقیقی معنوں میں عوامی زندگی سے جڑا ہوا کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم کے میدان میں والدین کے ذہنی دباؤ،طلبہ کے تعلیمی بوجھ میں کمی اور ان کی پرائمری سے ثانوی اور اعلیٰ اسکول میں منتقلی کے دوران پیش آنے والے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ سماجی ہمدردی کے حوالے سے ایک نمائندے نے پالتو جانوروں کے تحفظ کے قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ۔صحت اور بزرگوں کی نگہداشت کے شعبے میں بعض ارکان نے سینئر نرسوں کو نسخہ لکھنے کا اختیار دینے اور طبی وسائل کو بہتر بنانے کی تجویز دی تاکہ مریضوں کو علاج میں سہولت ہو، جبکہ ایک نمائندے نے بزرگوں کی نگہداشت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی بات کی۔ سماجی تحفظ کے میدان میں ایک نمائندے نے دیہی باشندوں کی پنشن میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ زندگی بھر محنت کرنے والے دیہی بزرگ پر سکون زندگی گزار سکیں ۔بلاشبہ دو اجلاسوں میں پیش کی جانے والی بعض چھوٹی مگر معنی خیز تجاویز اس عمل کی انسانی گرمجوشی کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک نمائندے نے عوامی مقامات پر خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹر (AED) آلات کی وسیع پیمانے پر تنصیب اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت عام کرنے کی تجویز دی، جبکہ ایک نمائندے نے “شہری پاکٹ پارک”کے تصور پر توجہ دلائی اور شہروں کے گوشے گوشےمیں چھوٹی سبز پارکس تعمیر کرنے کا مشورہ دیا تاکہ شہری “کھڑکی کھولیں تو سبزہ دیکھیں اور گھر سے نکلیں تو پارک میں داخل ہوں”۔اس کے علاوہ لچکدار روزگار رکھنے والوں کے لیے سماجی تحفظ، کم از کم اجرت اور قیمتوں کے درمیان تناسب ، معذور افراد کے لیے قابل رسائی ٹیکسیوں کا عام استعمال وغیرہ جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ یہ تجاویز معاشرتی زندگی، صنعتی ترقی، اور معاشرتی انتظام کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان تجاویز میں نہ خالی نعرے ہیں اور نہ ہی جماعتی تنقید، بلکہ حقیقی مسائل کی نشاندہی، عملی حل کی تلاش اور پالیسیوں پر عملدرآمد ہے،یہی دو اجلاسوں کی حقیقی تصویر ہے۔ یہی تجاویز بعد ازاں بازاروں کی قیمتوں، اسکولوں کی کلاسوں، ہسپتالوں کے دواخانوں اور شہری پارکوں کے سبزہ زاروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔بین الاقوامی مبصرین کے لیے دو اجلاسوں کو نظر انداز کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی فلم کا صرف ٹریلر دیکھ کر پورے پلاٹ کو سمجھ لینے کا دعویٰ کرنا۔ دو اجلاس چین کے ترقیاتی اہداف کا سالانہ روڈ شو ہیں، سماجی مطالبات کی اجتماعی آواز اور پالیسی میں اصلاح کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہاں عظیم قومی حکمتِ عملی بھی موجود ہوتی ہے اور عوامی زندگی کی باریک تفصیلات بھی۔ چین کا سیاسی نظام اپنی منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ ہر چند سال بعد ہونے والے “سیاسی دھوم” پر انحصار نہیں کرتا بلکہ مسلسل حکمرانی کی بہتری اور وسیع تر اتفاقِ رائے کی تشکیل پر زور دیتا ہے۔بالآخر سیاست دراصل زندگی کی تنظیم کا فن ہے۔ جب کسی شہر کے پارک کی بنچ، کسی بچے کی نگہداشت کے اخراجات اور کسی بزرگ کی دیکھ بھال جیسے مسائل کو بھی قومی سطح کے اعلیٰ ترین ایوان میں سنجیدگی سے زیر بحث لایا جائے تو دنیا کو بھی چاہیے کہ اسے زیادہ سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھے۔ دو اجلاس اس قدیم مگر نوجوان ملک کی “سالانہ طبی جائزہ رپورٹ” اور “مستقبل کی ترقی کا نقشہ” ہیں—اور اسے سمجھنا شاید چین کے مستقبل کی سمت کو سمجھنے کا سب سے دانشمندانہ طریقہ ہے۔ Read More »

خلیجی عرب ممالک کی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، چینی وزیر خا رجہامریکہ اور اسرائیل کا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، وانگ ای بیجنگ () چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دعوت پر قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔بدھ کے روز محمد بن عبدالرحمن الثانی نے علاقائی صورتحال اور قطر کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اپنا ضروری دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا اور ساتھ ہی سفارتی کوششوں میں بھی اضافہ کرنا پڑا تاکہ بحران کو خطے میں پھیلنے اور بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے چین کے منصفانہ موقف اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ چین جنگ بندی میں مزید موثر کردار ادا کرے گا۔وانگ ای نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف طاقت کا استعمال یقینی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی، چین حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے بھی مخالف ہے اور عام شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر اندھا دھند حملوں کی مذمت کرتا ہے ۔ و انگ ای کا کہنا تھا کہ خلیجی عرب ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ چین فوری جنگ بندی اور سیاسی حل کی تلاش کا مطالبہ کرتا ہے اور خلیجی ممالک کی حمایت کرتا ہے کہ وہ خطے کا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لیں۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین صورتحال کو بہتر کرنے میں اور امن کی بحالی کے لیے اپنے طریقوں سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

Date . Mar/11/2026

خلیجی عرب ممالک کی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، چینی وزیر خا رجہامریکہ اور اسرائیل کا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، وانگ ای بیجنگ () چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دعوت پر قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔بدھ کے روز محمد بن عبدالرحمن الثانی نے علاقائی صورتحال اور قطر کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اپنا ضروری دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا اور ساتھ ہی سفارتی کوششوں میں بھی اضافہ کرنا پڑا تاکہ بحران کو خطے میں پھیلنے اور بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے چین کے منصفانہ موقف اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ چین جنگ بندی میں مزید موثر کردار ادا کرے گا۔وانگ ای نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف طاقت کا استعمال یقینی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی، چین حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے بھی مخالف ہے اور عام شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر اندھا دھند حملوں کی مذمت کرتا ہے ۔ و انگ ای کا کہنا تھا کہ خلیجی عرب ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ چین فوری جنگ بندی اور سیاسی حل کی تلاش کا مطالبہ کرتا ہے اور خلیجی ممالک کی حمایت کرتا ہے کہ وہ خطے کا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لیں۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین صورتحال کو بہتر کرنے میں اور امن کی بحالی کے لیے اپنے طریقوں سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ Read More »

پا کستان اور چین کے ما بین افغانستان کے حوالے سے سرحدی جھڑپوں پر تبادلہ خیالچین اور پاکستان کے درمیان علاقائی مسائل پر مصالحت کی روایت دیرینہ ہے، چینی وزیر خا رجہ بیجنگ () چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دعوت پر پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔بدھ کے روز اسحاق ڈار نے ایران کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کی اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور موجودہ بحران کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔وانگ ای نے کہا کہ چارموسموں کے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داروں کی حیثیت سے، چین اور پاکستان کے درمیان اہم بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر رابطے اورمصالحت کی روایت دیرینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے فوری طور پر ایران کی صورتحال پر اپنے مضبوط موقف کا اظہار کیا جس سے ذمہ دارانہ رویے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو فوجی کارروائیاں بند کرنا ہوں گی ۔ساتھ ہی ہم خلیجی ممالک پر حملوں کی مخالفت کرتے ہیں اور شہری تنصیبات اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین علاقائی صورتحال میں بہتری کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ کثیر الجہتی اور دوطرفہ مصالحت اور تعاون برقرار رکھنے، پاکستان کے تعمیری کردار ادا کرنے میں حمایت جاری رکھنے اور خطے میں جلد از جلد امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا خواہاں ہے۔ فریقین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ ای نے کہا کہ چین کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے دورہ کر رہے ہیں ۔ اس وقت سب سے ضروری کام جنگ کو بڑھنے سے روکنا اور جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ پاکستان پوری قوت سے پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بناتا رہے گا۔

Date . Mar/11/2026

پا کستان اور چین کے ما بین افغانستان کے حوالے سے سرحدی جھڑپوں پر تبادلہ خیالچین اور پاکستان کے درمیان علاقائی مسائل پر مصالحت کی روایت دیرینہ ہے، چینی وزیر خا رجہ بیجنگ () چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دعوت پر پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔بدھ کے روز اسحاق ڈار نے ایران کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کی اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور موجودہ بحران کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔وانگ ای نے کہا کہ چارموسموں کے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داروں کی حیثیت سے، چین اور پاکستان کے درمیان اہم بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر رابطے اورمصالحت کی روایت دیرینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے فوری طور پر ایران کی صورتحال پر اپنے مضبوط موقف کا اظہار کیا جس سے ذمہ دارانہ رویے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو فوجی کارروائیاں بند کرنا ہوں گی ۔ساتھ ہی ہم خلیجی ممالک پر حملوں کی مخالفت کرتے ہیں اور شہری تنصیبات اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین علاقائی صورتحال میں بہتری کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ کثیر الجہتی اور دوطرفہ مصالحت اور تعاون برقرار رکھنے، پاکستان کے تعمیری کردار ادا کرنے میں حمایت جاری رکھنے اور خطے میں جلد از جلد امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا خواہاں ہے۔ فریقین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ ای نے کہا کہ چین کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے دورہ کر رہے ہیں ۔ اس وقت سب سے ضروری کام جنگ کو بڑھنے سے روکنا اور جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ پاکستان پوری قوت سے پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بناتا رہے گا۔ Read More »

چین میں صارفین کی نئی ضروریات سے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترقی کے نئے فوائد نظر آرہے ہیں، رپورٹبیجنگ () “پوری صنعتی سپلائی چین میں مسلسل سرمایہ کاری بڑھانا” اور “چین میں مزید کام کرنے کے عزم پر قائم رہنا”، دو اجلاسوں کے دوران سی ایم جی کے “چین میں گہری سرمایہ کاری “کے عنوان سے چلنے والے پروگرام میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں سے ان کی رائے لی گئی ۔ اس دوران سب سے نمایاں احساس اعتماد کا تھا۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے سال میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے متعدد نئے منصوبے تیزی سے شروع ہو چکے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں صارفین کی بڑھتی اور جدید ہوتی ہوئی ضروریات کے نئے رجحانات کو ہدف بنا رہی ہیں اور اعلیٰ سطحی کھلے پن کی معیشت سے حاصل ہونے والے نئے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرگرم ہیں۔ چینی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔

Date . Mar/11/2026

چین میں صارفین کی نئی ضروریات سے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترقی کے نئے فوائد نظر آرہے ہیں، رپورٹبیجنگ () “پوری صنعتی سپلائی چین میں مسلسل سرمایہ کاری بڑھانا” اور “چین میں مزید کام کرنے کے عزم پر قائم رہنا”، دو اجلاسوں کے دوران سی ایم جی کے “چین میں گہری سرمایہ کاری “کے عنوان سے چلنے والے پروگرام میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں سے ان کی رائے لی گئی ۔ اس دوران سب سے نمایاں احساس اعتماد کا تھا۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے سال میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے متعدد نئے منصوبے تیزی سے شروع ہو چکے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں صارفین کی بڑھتی اور جدید ہوتی ہوئی ضروریات کے نئے رجحانات کو ہدف بنا رہی ہیں اور اعلیٰ سطحی کھلے پن کی معیشت سے حاصل ہونے والے نئے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرگرم ہیں۔ چینی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ Read More »

جنگ کے خلیجی ممالک میں پھیلنے پر تشویش ہے ، چینی ایلچیخطے میں جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، زائی جوندبئی () چینی حکومت کے امور مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی زائی جون نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔بدھ کے روز عبداللہ بن زاید النہیان نے خطے کی موجودہ صورتحال اور متحدہ عرب امارات کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات جنگ میں فریق نہیں ہے اور ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے ،اسے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے چین کے منصفانہ موقف کو سراہا اور چین کے اہم کردار کو انتہائی اہمیت دی۔عبداللہ بن زاید النہیان نے خطے میں ثالثی کے لیے زائی جون کے دورے کو خوش آمدید کہا اور چین کے ساتھ مل کر خطے کی کشیدہ صورتحال میں کمی کے لیے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔زائی جون نے کہا کہ چین کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ موجودہ جنگ خلیجی ممالک میں پھیل رہی ہے۔ چین ہمیشہ یہ یقین رکھتا ہے کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شہری یا غیر فوجی اہداف پر حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، جنگ بندی اور مذاکرات موجودہ مشکلات سے باہر نکلنے کا بنیادی راستہ ہے۔ زائی جون نے تنازع کے آغازکے بعد ، متحدہ عرب امارات کے محتاط اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی اور کہا کہ چین متحدہ عرب امارات کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو بڑھانے اور جلد از جلد جنگ بندی اور مسئلے کے حل کی سفارتی کوششوں کے لیے تیار ہے۔

Date . Mar/11/2026

جنگ کے خلیجی ممالک میں پھیلنے پر تشویش ہے ، چینی ایلچیخطے میں جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، زائی جوندبئی () چینی حکومت کے امور مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی زائی جون نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔بدھ کے روز عبداللہ بن زاید النہیان نے خطے کی موجودہ صورتحال اور متحدہ عرب امارات کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات جنگ میں فریق نہیں ہے اور ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے ،اسے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے چین کے منصفانہ موقف کو سراہا اور چین کے اہم کردار کو انتہائی اہمیت دی۔عبداللہ بن زاید النہیان نے خطے میں ثالثی کے لیے زائی جون کے دورے کو خوش آمدید کہا اور چین کے ساتھ مل کر خطے کی کشیدہ صورتحال میں کمی کے لیے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔زائی جون نے کہا کہ چین کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ موجودہ جنگ خلیجی ممالک میں پھیل رہی ہے۔ چین ہمیشہ یہ یقین رکھتا ہے کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شہری یا غیر فوجی اہداف پر حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، جنگ بندی اور مذاکرات موجودہ مشکلات سے باہر نکلنے کا بنیادی راستہ ہے۔ زائی جون نے تنازع کے آغازکے بعد ، متحدہ عرب امارات کے محتاط اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی اور کہا کہ چین متحدہ عرب امارات کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو بڑھانے اور جلد از جلد جنگ بندی اور مسئلے کے حل کی سفارتی کوششوں کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کا اختتام بیجنگ () چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کا چوتھا اجلاس تمام ایجنڈے کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد بدھ کے روز ختم ہوا ۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ سمیت پارٹی اور ریاست کے رہنماؤں نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس نے سی پی پی سی سی کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی سیاسی قرارداد اور مستقل کمیٹی کی ورک رپورٹ کی قرارداد کو منظور کیا ۔

Date . Mar/11/2026

چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کا اختتام بیجنگ () چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کا چوتھا اجلاس تمام ایجنڈے کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد بدھ کے روز ختم ہوا ۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ سمیت پارٹی اور ریاست کے رہنماؤں نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس نے سی پی پی سی سی کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی سیاسی قرارداد اور مستقل کمیٹی کی ورک رپورٹ کی قرارداد کو منظور کیا ۔ Read More »

Scroll to Top