آئل ٹینکرز کی قلت سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا خطرہ پیدا ہوگیا

آئل ٹینکرز کی قلت سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا خطرہ پیدا ہوگیا
فوٹو: فائل

ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے اور  خام تیل کی جگہ اسے لے جانے والے بحری جہازوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ڈرون حملوں کے باعث سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے خام تیل کی بڑی مقدار ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی طرف منتقل ہو گئی ہے جس نے پہلے سے دباؤ کے شکار آئل ٹینکرز  کے بیڑے پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ 

اخبار کے مطابق اس صورتحال کے اثرات دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد طویل سفر اور شٹل سروس میں بحری جہازوں کے مصروف ہونے سے آئل ٹینکرز کے یومیہ کرائے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ خام تیل لے جانے والے بہت بڑے بحری جہازوں (جنہیں وی ایل سی سی یا سپر ٹینکرز کہا جاتا ہے) کی دستیابی میں اچانک کمی نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی لاگت کو تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ 

میری ٹائم انٹیلی جنس فرم ‘ونڈورڈ’ کے مطابق رواں ماہ خلیج فارس کے اندر سے تیل لوڈ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک سپر ٹینکر کا کرایہ 10 لاکھ ڈالر یومیہ سے تجاوز کر گیا ہے، موجودہ مارکیٹ قیمت کے لحاظ سے یہ لاگت 26 ڈالر فی بیرل یا خام تیل کی کل مالیت کا تقریباً ایک چوتھائی بنتی ہے۔ عام حالات میں شپنگ کے اخراجات خام تیل کی کل مالیت کا بہت معمولی حصہ ہوتے ہیں۔

ٹینکرز کی یہ قلت صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہی بلکہ مغربی افریقا سے چین جیسے دنیا بھر کے دیگر روٹس پر بھی کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

‘کلارکسنز ریسرچ’  کے مطابق جمعرات کو عالمی سطح پر ایک سپر ٹینکر  کی اوسط یومیہ کمائی 651,107 ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے۔

شپ ٹریکرز کے مطابق پائپ لائن کی بندش اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں پر حملوں کے باعث سعودی پرچم بردار بحری جہازوں نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول آبنائے ‘باب المندب’ سے گزرنا بند کر دیا ہے۔ 

ونڈورڈ کے مطابق ایک درجن سے زائد سعودی بحری جہاز اب جنوبی افریقا میں ‘کیپ آف گڈ ہوپ’ کے طویل متبادل راستے سے سفر کر رہے ہیں جس سے فی جہاز  10 لاکھ ڈالر کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔

شپ ٹریکر ‘کیپلر’ کے اعداد و شمار کے مطابق ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد سے ایک درجن سپر ٹینکرز  خلیج فارس میں واقع سعودی عرب کے مرکزی لوڈنگ ٹرمینل ‘راس تنورہ’ سے 2 کروڑ 40 لاکھ بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکل چکے ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ سعودی تیل کپمنی آرامکو کے آپریشنز سے واقف ذرائع کے مطابق کمپنی اپنے کچھ ایشیائی گاہکوں کے ساتھ عمان کے ساحل پر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی (ship-to-ship transfers) کے ذریعے خام تیل پہنچانے پر بات چیت کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق دنیا کے تقریباً 900 سپر ٹینکرز میں سے ایک بڑی تعداد اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب ان مختصر فاصلے کی شٹل ٹرپ میں مصروف ہے یا پھر کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد طویل سفر پر گامزن ہے جس سے لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ کلارکسنز ریسرچ کے سربراہ اسٹیفن گورڈن کے مطابق عالمی وی ایل سی سی بیڑے کا تقریباً 15 فیصد اس وقت عمان کے ساحل پر موجود ہے اس کے علاوہ ‘کیپ آف گڈ ہوپ’ کے گرد سفر کرنے کی وجہ سے بھی مزید سپر ٹینکرز طویل عرصے کے لیے مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتے کیونکہ اس متبادل راستے سے سفر کے دورانیے میں مزید دو ہفتے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

Date . 21/Sep/2026

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top