Poslanews News

چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدردونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں، شیبیجنگ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے جمہوریہ مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے نام ایک تہنیتی پیغام میں انہیں مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔اتوار کے روزشی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران دونوں ممالک نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں صدر محمد معیزو کے دورۂ چین کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی اتفاق سے چین اور مالدیپ کے تعلقات کو جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی سطح تک بلند کرنے اور چین۔مالدیپ ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ صدر محمد معیزو کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔مالدیپ جامع تزویراتی شراکت داری کو مسلسل آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔اسی روز چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بھی مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مالدیپ کی وزیرِ خارجہ اروتشام آدم کو تہنیتی پیغام ارسال کیا۔

چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدردونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں، شیبیجنگ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے جمہوریہ مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے نام ایک تہنیتی پیغام میں انہیں مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔اتوار کے روزشی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران دونوں ممالک نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں صدر محمد معیزو کے دورۂ چین کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی اتفاق سے چین اور مالدیپ کے تعلقات کو جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی سطح تک بلند کرنے اور چین۔مالدیپ ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ صدر محمد معیزو کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔مالدیپ جامع تزویراتی شراکت داری کو مسلسل آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔اسی روز چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بھی مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مالدیپ کی وزیرِ خارجہ اروتشام آدم کو تہنیتی پیغام ارسال کیا۔ Read More »

متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائجچین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہےبیجنگ ()امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق متعدد ممالک کے عوام کی نظر میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا رجحان سامنے آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور طرزِ حکمرانی کو بین الاقوامی برادری میں مسلسل وسیع پذیر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔اس سروے میں 36 ممالک اور خطوں سے 42 ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک، جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، وہاں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے چین کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں چین زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین کو استحکام کی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق شامل 36 ممالک اور خطوں میں سے 27 میں عوام کی چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جن میں امریکہ کے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو بھی شامل ہیں۔اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے بارے میں رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد یہ سمجھنے لگے کہ امریکہ عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تعداد میں جواب دہندگان نے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ چین عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

DATE . 26/July/2026

متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائجچین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہےبیجنگ ()امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق متعدد ممالک کے عوام کی نظر میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا رجحان سامنے آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور طرزِ حکمرانی کو بین الاقوامی برادری میں مسلسل وسیع پذیر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔اس سروے میں 36 ممالک اور خطوں سے 42 ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک، جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، وہاں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے چین کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں چین زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین کو استحکام کی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق شامل 36 ممالک اور خطوں میں سے 27 میں عوام کی چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جن میں امریکہ کے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو بھی شامل ہیں۔اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے بارے میں رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد یہ سمجھنے لگے کہ امریکہ عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تعداد میں جواب دہندگان نے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ چین عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ Read More »

چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدمپاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، چینی سفیربیجنگ ()پاپوا نیو گنی کی حکومت نے”پاپوا نیو گنی میں تائی پے اکنامک آفس” بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاپوا نیو گنی میں تعینات چین کے سفیر یانگ شیاو گوانگ نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ “ایک چین کے اصول” پر عمل درآمد بین الاقوامی برادری کا مشترکہ رجحان اور وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، جو چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور عوام کے مثبت عزم اور دوستانہ رویے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی تائیوان سے متعلق اداروں کے معاملات نمٹانے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاپوا نیو گنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو پچاس برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاپوا نیو گنی کا یہ فیصلہ چین اور پاپوا نیو گنی کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

DATE . 26/July/2026

چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدمپاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، چینی سفیربیجنگ ()پاپوا نیو گنی کی حکومت نے”پاپوا نیو گنی میں تائی پے اکنامک آفس” بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاپوا نیو گنی میں تعینات چین کے سفیر یانگ شیاو گوانگ نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ “ایک چین کے اصول” پر عمل درآمد بین الاقوامی برادری کا مشترکہ رجحان اور وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، جو چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور عوام کے مثبت عزم اور دوستانہ رویے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی تائیوان سے متعلق اداروں کے معاملات نمٹانے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاپوا نیو گنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو پچاس برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاپوا نیو گنی کا یہ فیصلہ چین اور پاپوا نیو گنی کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ Read More »

چین میں ونڈ اور سولر پاور کی تنصیب نے تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیاچین عالمی سطح پرنیوکلیئر اور بائیو ماس انرجی کے شعبوں میں بھی نمایاں مقام پر پہنچ گیا ہےبیجنگ ()چائنا انٹرپرائز ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ ریسرچ ایسوسی ایشن نے “2026 انرجی انڈسٹری ایکو سسٹم رپورٹ” جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی تنصیب پہلی بار تاریخی طور پر تھرمل پاور سے تجاوز کر گئی، جبکہ نیوکلیئر اور بائیو ماس انرجی کے شعبوں میں بھی چین عالمی سطح پر نمایاں مقام پر پہنچ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی انرجی انڈسٹری نے توانائی کی محفوظ فراہمی اور ماحول دوست، کم کاربن ترقی کے اہداف کو بیک وقت آگے بڑھایا۔2020 سے 2025 کے درمیان ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت530 ملین کلوواٹ سے بڑھ کر 1.84 بلین کلوواٹ ہو گئی ۔ اسی عرصے میں جوہری توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ بائیو ماس پاور جنریشن کی صلاحیت مسلسل ساتویں سال بھی عالمی سطح پر سرفہرست رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں چین کا توانائی کا شعبہ مصنوعی ذہانت اور توانائی کے باہمی انضمام کو بھرپور انداز میں فروغ دے گا، تاکہ صاف، کم کاربن، محفوظ اور زیادہ مؤثر جدید توانائی کے نظام کی تعمیر کو ہر پہلو سے تقویت دی جا سکے۔

DATE . 26/July/2026

چین میں ونڈ اور سولر پاور کی تنصیب نے تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیاچین عالمی سطح پرنیوکلیئر اور بائیو ماس انرجی کے شعبوں میں بھی نمایاں مقام پر پہنچ گیا ہےبیجنگ ()چائنا انٹرپرائز ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ ریسرچ ایسوسی ایشن نے “2026 انرجی انڈسٹری ایکو سسٹم رپورٹ” جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی تنصیب پہلی بار تاریخی طور پر تھرمل پاور سے تجاوز کر گئی، جبکہ نیوکلیئر اور بائیو ماس انرجی کے شعبوں میں بھی چین عالمی سطح پر نمایاں مقام پر پہنچ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی انرجی انڈسٹری نے توانائی کی محفوظ فراہمی اور ماحول دوست، کم کاربن ترقی کے اہداف کو بیک وقت آگے بڑھایا۔2020 سے 2025 کے درمیان ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت530 ملین کلوواٹ سے بڑھ کر 1.84 بلین کلوواٹ ہو گئی ۔ اسی عرصے میں جوہری توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ بائیو ماس پاور جنریشن کی صلاحیت مسلسل ساتویں سال بھی عالمی سطح پر سرفہرست رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں چین کا توانائی کا شعبہ مصنوعی ذہانت اور توانائی کے باہمی انضمام کو بھرپور انداز میں فروغ دے گا، تاکہ صاف، کم کاربن، محفوظ اور زیادہ مؤثر جدید توانائی کے نظام کی تعمیر کو ہر پہلو سے تقویت دی جا سکے۔ Read More »

چین کا کرغزستان کی علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلانچین کرغزستان کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، وانگ ایبشکیک()کرغزستان کے صدر سیدر زاپاروف نے کرغزستان کے دورے پر موجود چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔اتوار کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین ایک قریبی ہمسایہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے کرغزستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بدستور بھرپور حمایت کرتا رہے گا، اور کرغزستان کے اپنے قومی حالات سے ہم آہنگ ترقی کے راستے پر گامزن رہنے کی بھی حمایت جاری رکھے گا۔وانگ ای نے مزید کہا کہ اس وقت چین پندرہویں پانچ سالہ منصوبے پر جامع انداز میں عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ کرغزستان بھی 2030 تک کے قومی ترقیاتی پروگرام کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کرغزستان کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے، عوامی روابط کو فروغ دینے اور چین۔کرغزستان ہم نصیب سماج کی بنیاد کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔صدر زاپاروف نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کرغزستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کے سفر کے شریک اور فطری شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان باہمی احترام، مساوات، باہمی مفاد اور ہمسائیگی پر مبنی جامع تزویراتی شراکت داری کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور چین کے گورننس نظام کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے، چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے جیسے اہم منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد اور کرغزستان میں چینی کمپنیوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

DATE . 26/July /20126

چین کا کرغزستان کی علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلانچین کرغزستان کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، وانگ ایبشکیک()کرغزستان کے صدر سیدر زاپاروف نے کرغزستان کے دورے پر موجود چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔اتوار کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین ایک قریبی ہمسایہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے کرغزستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بدستور بھرپور حمایت کرتا رہے گا، اور کرغزستان کے اپنے قومی حالات سے ہم آہنگ ترقی کے راستے پر گامزن رہنے کی بھی حمایت جاری رکھے گا۔وانگ ای نے مزید کہا کہ اس وقت چین پندرہویں پانچ سالہ منصوبے پر جامع انداز میں عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ کرغزستان بھی 2030 تک کے قومی ترقیاتی پروگرام کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کرغزستان کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے، عوامی روابط کو فروغ دینے اور چین۔کرغزستان ہم نصیب سماج کی بنیاد کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔صدر زاپاروف نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کرغزستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کے سفر کے شریک اور فطری شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان باہمی احترام، مساوات، باہمی مفاد اور ہمسائیگی پر مبنی جامع تزویراتی شراکت داری کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور چین کے گورننس نظام کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے، چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے جیسے اہم منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد اور کرغزستان میں چینی کمپنیوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ Read More »

چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں، چینی وزیر خا رجہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا، وانگ ایبشکیک()چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بقوانگ ای نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں۔ فریقین کو چاہیے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر مؤثر عمل درآمد کریں، مختلف سطحوں پر روابط اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں اور چین۔پاکستان ہم نصیب سماج کی تعمیر کو مزید تیز کریں۔وانگ ای نے اس بات کو سراہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے عمل میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور خطے میں دیرپا جنگ بندی کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کرتا رہے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں اور قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اور پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں میں چین کی مسلسل حمایت اور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

DATE . 26/July/2026

چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں، چینی وزیر خا رجہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا، وانگ ایبشکیک()چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بقوانگ ای نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں۔ فریقین کو چاہیے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر مؤثر عمل درآمد کریں، مختلف سطحوں پر روابط اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں اور چین۔پاکستان ہم نصیب سماج کی تعمیر کو مزید تیز کریں۔وانگ ای نے اس بات کو سراہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے عمل میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور خطے میں دیرپا جنگ بندی کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کرتا رہے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں اور قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اور پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں میں چین کی مسلسل حمایت اور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔ Read More »

ٹیلی ویژن دستاویزی فلم” ورلڈ ای وو ،شی جن پھنگ کی رہنمائی میں ای وو کی ترقی” نشر ہو رہی ہے

بیجنگ ()چائنا میڈیا گروپ اور صوبہ زے جیانگ کے اشتراک سے تیار کی گئی تین اقساط پر مشتمل خصوصی ٹیلی ویژن دستاویزی فلم ” ورلڈ ای وو ،شی جن پھنگ کی رہنمائی میں ای وو کی ترقی” چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی جامع چینل پر رات آٹھ بجے نشر کی جا رہی

ٹیلی ویژن دستاویزی فلم” ورلڈ ای وو ،شی جن پھنگ کی رہنمائی میں ای وو کی ترقی” نشر ہو رہی ہے Read More »

چین کی سائنسی صلاحیت اور جدیدیت دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہے ،معروف جرمن سائنس دان

چین نے بڑی تعداد میں دنیا کے بہترین محققین اور سائنس دانوں کو یکجا کیا ہے، اوتھین ہرزوگ بیجنگ () چائنا میڈیا گروپ نے جرمنی کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے رکن اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے غیر ملکی رکن اوتھین ہرزوگ کا خصوصی انٹرویو کیا۔ انہیں 2025 کا چین کا بین

چین کی سائنسی صلاحیت اور جدیدیت دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہے ،معروف جرمن سائنس دان Read More »

Scroll to Top