Ex-Ethiopian Airline Chairman Chooses Air India Over PIA

Former Ethiopian Airlines Group CEO Tewolde Gebremariam has been appointed Chief Executive Officer and Managing Director of Air India, weeks after his name emerged as a preferred candidate for the top position at Pakistan International Airlines (PIA). Air India announced the appointment on Wednesday to lead the airline’s next phase of transformation under Tata Group […]

Ex-Ethiopian Airline Chairman Chooses Air India Over PIA Read More »

چین میں روایتی صنعتوں کی اپ گریڈیشن کی رفتار میں تیزی

ڈرونز اور روبوٹکس صنعتوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضا فہ بیجنگ ()چین کے قومی محکمہ ٹیکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ٹیکس اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے چین میں روایتی صنعتوں کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کی رفتار میں تیزی آئی ہے، جبکہ ابھرتی

چین میں روایتی صنعتوں کی اپ گریڈیشن کی رفتار میں تیزی Read More »

امریکہ قومی سلامتی کے تصور کو بے جا وسعت دینا بند کرے ، چین کی وزارتِ خارجہ

امریکی اقدامات چین اور امریکہ کے مابین اقتصادی روابط میں شدید رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، تر جمان بیجنگ () امریکہ کی جانب سے چینی ساختہ نئی نسل کے آپٹیکل ٹرانسیور ماڈیولز کی درآمد پر پابندی سے متعلق مجوزہ ضوابط کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن

امریکہ قومی سلامتی کے تصور کو بے جا وسعت دینا بند کرے ، چین کی وزارتِ خارجہ Read More »

چین نے  جاپان کا “ڈیفنس وائٹ پیپر” مسترد کر دیا، جاپان سے باضابطہ احتجاج

جاپان کے نلڈیفنس وائٹ پیپر میں بلاجواز چین پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، وزارت خا رجہ بیجنگ ()جاپانی حکومت کی جانب سے 2026 کا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن نے کہا کہ جاپان کے نئے ڈیفنس وائٹ پیپر

چین نے  جاپان کا “ڈیفنس وائٹ پیپر” مسترد کر دیا، جاپان سے باضابطہ احتجاج Read More »

جاپان کے دوبارہ عسکریت پسندی کے عزائم چھپ نہیں سکتے ، چینی میڈیا

جاپان دوبارہ عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہے، رپورٹ بیجنگ ()جاپان کی وزارتِ دفاع نے 2026 کا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیا۔ ریکارڈ 598 صفحات پر مشتمل اس نئی دستاویز میں نام نہاد “علاقائی سلامتی کے بحران” کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، چین کو بدستور “غیرمعمولی سب سے بڑا تزویراتی چیلنج”

جاپان کے دوبارہ عسکریت پسندی کے عزائم چھپ نہیں سکتے ، چینی میڈیا Read More »

“چائنا ٹریول” نے دنیا بھر  کے لوگوں کی  توجہ حاصل کر لی، چینی میڈیا

چین کے بارے میں دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، رپورٹ بیجنگ ()اس موسمِ گرما میں “چائنا ٹریول” دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ  کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی نیٹیزنز کے درمیان کیے گئے ایک سروے کے مطابق 92.9 فیصد شرکاء

“چائنا ٹریول” نے دنیا بھر  کے لوگوں کی  توجہ حاصل کر لی، چینی میڈیا Read More »

جاپان میں عسکریت پسندی کی ایک نئی شکل ابھر رہی ہے، چینی میڈیابیجنگ ()جاپان میں نیشنل انٹیلی جنس بیورو نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی نیٹیزنز کے درمیان کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 84.8 فیصد شرکاء نے جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں پر تنقید کی اور اسے جاپان کی جانب سے دوبارہ عسکریت پسندی، اور “نئی طرز کی عسکریت پسندی” کی جانب ایک اور خطرناک پیش رفت قرار دیا۔سروے کے مطابق 86.5 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یہ اقدام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جاپان کے انٹیلی جنس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ 73.6 فیصد شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیشنل انٹیلی جنس بیورو مستقبل میں جاپانی حکومت کے لیے جنگ مخالف اور امن پسند حلقوں کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح 83.2 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ جاپان کے انٹیلی جنس نظام کی اپ گریڈیشن مشرقی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ 87.6 فیصد شرکاء کے مطابق یہ اقدام جاپان کی جانب سے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کی پابندیوں سے نکلنے اور دوبارہ عسکریت پسندی کو تیز کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی زبانوں کے پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے دوران 3,028 نیٹیزنز نے حصہ لیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔

DATE . 6 / Aug/2026

جاپان میں عسکریت پسندی کی ایک نئی شکل ابھر رہی ہے، چینی میڈیابیجنگ ()جاپان میں نیشنل انٹیلی جنس بیورو نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی نیٹیزنز کے درمیان کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 84.8 فیصد شرکاء نے جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں پر تنقید کی اور اسے جاپان کی جانب سے دوبارہ عسکریت پسندی، اور “نئی طرز کی عسکریت پسندی” کی جانب ایک اور خطرناک پیش رفت قرار دیا۔سروے کے مطابق 86.5 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یہ اقدام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جاپان کے انٹیلی جنس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ 73.6 فیصد شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیشنل انٹیلی جنس بیورو مستقبل میں جاپانی حکومت کے لیے جنگ مخالف اور امن پسند حلقوں کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح 83.2 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ جاپان کے انٹیلی جنس نظام کی اپ گریڈیشن مشرقی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ 87.6 فیصد شرکاء کے مطابق یہ اقدام جاپان کی جانب سے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کی پابندیوں سے نکلنے اور دوبارہ عسکریت پسندی کو تیز کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی زبانوں کے پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے دوران 3,028 نیٹیزنز نے حصہ لیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔ Read More »

چین کی جدید کاری کی بنیادتکنیکی جدیدیت میں مضمر ہے، چینی میڈ یابیجنگ ()چین کی جدیدکاری کی بنیاد تکنیکی جدیدیت میں مضمر ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے پہلے اجتماعی مطالعاتی اجلاس میں مستقبل کی صنعتوں کی منصوبہ بندی اور ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔مطالعاتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے زور دیا کہ معروضی حالات اور تقابلی برتریوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، استحکام کے ساتھ ترقی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے تاکہ مستقبل کی صنعتوں کی ترقی میں مسلسل نئی پیش رفت حاصل کی جا سکے۔بیجنگ کے ای زوانگ علاقے میں واقع نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی انوویشن پارک کے دورے کے دوران،شی جن پھنگ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اختراعی اطلاق کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر جدید سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کا جائزہ لیا۔ اس کے دو ماہ بعد شنگھائی میں بنیادی تحقیق کے فروغ سے متعلق ایک سمپوزیم منعقد ہوا۔ بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈز کانفرنس منعقد ہوئی، جو کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال کی ایک اہم سائنسی تقریب تھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ “15ویں پانچ سالہ منصوبے” کی مدت کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔مصنوعی ذہانت کی قیادت میں سائنسی و تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کے نظام کو کیسے مضبوط بنایا جائے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ 17 جولائی کو عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس شنگھائی میں منعقد ہوا، جہاں شی جن پھنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی عالمی ترقی اور حکمرانی کے حوالے سے چین کے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ “چین کا ماننا ہے کہ تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کو مشترکہ خوشحالی کے فروغ اور مشترکہ سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک اہم محرک بنانا چاہیے۔چین نے صرف تجاویز پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا باضابطہ قیام شنگھائی میں عمل میں آیا، جو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ 2035 تک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک مضبوط ملک بننے کے ہدف کے تحت چین سائنسی و تکنیکی جدت کے ذریعے جدیدکاری کے عمل کو مزید تقویت دیتا رہے گا اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی رہنمائی کرے گا۔

DATE . 6 / Aug/2026

چین کی جدید کاری کی بنیادتکنیکی جدیدیت میں مضمر ہے، چینی میڈ یابیجنگ ()چین کی جدیدکاری کی بنیاد تکنیکی جدیدیت میں مضمر ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے پہلے اجتماعی مطالعاتی اجلاس میں مستقبل کی صنعتوں کی منصوبہ بندی اور ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔مطالعاتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے زور دیا کہ معروضی حالات اور تقابلی برتریوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، استحکام کے ساتھ ترقی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے تاکہ مستقبل کی صنعتوں کی ترقی میں مسلسل نئی پیش رفت حاصل کی جا سکے۔بیجنگ کے ای زوانگ علاقے میں واقع نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی انوویشن پارک کے دورے کے دوران،شی جن پھنگ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اختراعی اطلاق کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر جدید سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کا جائزہ لیا۔ اس کے دو ماہ بعد شنگھائی میں بنیادی تحقیق کے فروغ سے متعلق ایک سمپوزیم منعقد ہوا۔ بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈز کانفرنس منعقد ہوئی، جو کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال کی ایک اہم سائنسی تقریب تھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ “15ویں پانچ سالہ منصوبے” کی مدت کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔مصنوعی ذہانت کی قیادت میں سائنسی و تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کے نظام کو کیسے مضبوط بنایا جائے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ 17 جولائی کو عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس شنگھائی میں منعقد ہوا، جہاں شی جن پھنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی عالمی ترقی اور حکمرانی کے حوالے سے چین کے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ “چین کا ماننا ہے کہ تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کو مشترکہ خوشحالی کے فروغ اور مشترکہ سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک اہم محرک بنانا چاہیے۔چین نے صرف تجاویز پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا باضابطہ قیام شنگھائی میں عمل میں آیا، جو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ 2035 تک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک مضبوط ملک بننے کے ہدف کے تحت چین سائنسی و تکنیکی جدت کے ذریعے جدیدکاری کے عمل کو مزید تقویت دیتا رہے گا اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی رہنمائی کرے گا۔ Read More »

امریکہ نے چین کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے، چینی وزارت تجارتامریکہ چین کے خلاف اپنے متعلقہ اقدامات فوری طور پر واپس لے، تر جمانبیجنگ ()چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن اور امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے چین کے خلاف حالیہ اقدامات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی اور امریکی سربراہان مملکت کی بوسان ملاقات کے بعد امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے ،چین کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ 30 جولائی کو چین اور امریکہ کے اقتصادی و تجارتی امور کے سربراہان کے درمیان ویڈیو گفتگو کے بعد، 31 جولائی کو امریکہ نے 40 سے زائد چینی اداروں کو نام نہاد “ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون” کی فہرست میں شامل کر دیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور چین کے جائز مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ انہی اقدامات کے جواب میں چین نے چند ضروری اقدامات کیے ہیں، جن میں ڈرونز اور ان کے اہم پرزوں اور ٹیکنالوجی کی امریکہ کو برآمد پر کنٹرول مزید سخت کرنا، چین کے لازمی مصنوعات کی تصدیق کے لئے نامزد اداروں کی جانب سے امریکی تصدیقی اداروں کے ذریعےکیے گئے فیکٹری فالو اپ معائنہ کی معطلی ، امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنی کو جوابی اقدامات کی فہرست میں شامل کرنا، درآمد شدہ پرنٹرز، فوٹو کاپی مشینوں اور دفتری آلات کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تجارتی تحقیقات شروع کرنا، اور 6 امریکی اداروں کا جوابی اقدامات کی فہرست میں شمار ، شامل ہیں۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے یہ جوابی اقدامات مجموعی طور پر محتاط ہیں۔ چین کا امریکہ سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اقدامات فوری طور پر واپس لے، بصورتِ دیگر اگر امریکہ چین کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرتا ہے تو چین بھی مزیدجوابی اقدامات کرے گا۔

DATE . 6 /Aug/2026

امریکہ نے چین کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے، چینی وزارت تجارتامریکہ چین کے خلاف اپنے متعلقہ اقدامات فوری طور پر واپس لے، تر جمانبیجنگ ()چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن اور امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے چین کے خلاف حالیہ اقدامات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی اور امریکی سربراہان مملکت کی بوسان ملاقات کے بعد امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے ،چین کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ 30 جولائی کو چین اور امریکہ کے اقتصادی و تجارتی امور کے سربراہان کے درمیان ویڈیو گفتگو کے بعد، 31 جولائی کو امریکہ نے 40 سے زائد چینی اداروں کو نام نہاد “ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون” کی فہرست میں شامل کر دیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور چین کے جائز مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ انہی اقدامات کے جواب میں چین نے چند ضروری اقدامات کیے ہیں، جن میں ڈرونز اور ان کے اہم پرزوں اور ٹیکنالوجی کی امریکہ کو برآمد پر کنٹرول مزید سخت کرنا، چین کے لازمی مصنوعات کی تصدیق کے لئے نامزد اداروں کی جانب سے امریکی تصدیقی اداروں کے ذریعےکیے گئے فیکٹری فالو اپ معائنہ کی معطلی ، امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنی کو جوابی اقدامات کی فہرست میں شامل کرنا، درآمد شدہ پرنٹرز، فوٹو کاپی مشینوں اور دفتری آلات کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تجارتی تحقیقات شروع کرنا، اور 6 امریکی اداروں کا جوابی اقدامات کی فہرست میں شمار ، شامل ہیں۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے یہ جوابی اقدامات مجموعی طور پر محتاط ہیں۔ چین کا امریکہ سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اقدامات فوری طور پر واپس لے، بصورتِ دیگر اگر امریکہ چین کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرتا ہے تو چین بھی مزیدجوابی اقدامات کرے گا۔ Read More »

Scroll to Top