News

چین ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کا خواہاں ہے ، چینی وزیراعظمبیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے تاشقند میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف سے ملاقات کی۔لی چھیانگ نے کہا کہ چین ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے اور اس کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، توانائی، معدنی وسائل، مالیات اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے، چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے منصوبے پر اعلیٰ معیار کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنانے اور اے آئی، سبز معیشت اور خلائی ٹیکنالوجی سمیت سائنسی و تکنیکی جدت طرازی میں تعاون گہرا کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ مستقبل میں ترقی کے مواقع سے مشترکہ طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چین ازبکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے والی زیادہ سے زیادہ اہل چینی کمپنیوں کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ازبکستان ان کمپنیوں کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا رہے گا۔شوکت مرزائیوف نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی دانشمندانہ قیادت میں چین قومی نشاۃ ثانیہ کے مقصد کے حصول کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت ازبکستان اور چین کے تعلقات “سنہری دور” میں داخل ہو چکے ہیں۔ ازبکستان مزید چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے کی تعمیر تیز کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 18/Oct/2026

چین ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کا خواہاں ہے ، چینی وزیراعظمبیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے تاشقند میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف سے ملاقات کی۔لی چھیانگ نے کہا کہ چین ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے اور اس کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، توانائی، معدنی وسائل، مالیات اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے، چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے منصوبے پر اعلیٰ معیار کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنانے اور اے آئی، سبز معیشت اور خلائی ٹیکنالوجی سمیت سائنسی و تکنیکی جدت طرازی میں تعاون گہرا کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ مستقبل میں ترقی کے مواقع سے مشترکہ طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چین ازبکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے والی زیادہ سے زیادہ اہل چینی کمپنیوں کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ازبکستان ان کمپنیوں کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا رہے گا۔شوکت مرزائیوف نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی دانشمندانہ قیادت میں چین قومی نشاۃ ثانیہ کے مقصد کے حصول کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت ازبکستان اور چین کے تعلقات “سنہری دور” میں داخل ہو چکے ہیں۔ ازبکستان مزید چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے کی تعمیر تیز کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین، کینٹن فیئر مسلسل جدت برقرار رکھے ہوئے ہے، چینی میڈیا بیجنگ () مارشل آرٹس کے ذریعے دوستی کا پیغام دینے والے انسان نما روبوٹس، چلنے پھرنے میں مدد دینے والے ایکسو اسکیلیٹن روبوٹک آلات، اور ترجمے و تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھنے والے اے آئی چشمے، اس وقت جاری 140ویں چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر، جسے کینٹن فیئر بھی کہا جاتا ہے، میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی نمائندگی کرنے والی جدید مصنوعات بڑی تعداد میں پیش کی جا رہی ہیں، جنہیں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مثبت توجہ مل رہی ہے۔رواں سال چین کے “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کا پہلا سال ہے اور کینٹن فیئر کے آغاز کو بھی 70 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران اس نمائش کا رقبہ پہلی نمائش کے 9 ہزار 600 مربع میٹر سے بڑھ کر اب 15 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر ہو چکا ہے، جبکہ خریداروں کی تعداد ابتدائی 1200 سے بڑھ کر رواں سال 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آج یہ چین میں منعقد ہونے والی سب سے قدیم، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تجارتی لین دین والی بین الاقوامی تجارتی نمائش بن چکی ہے اور دنیا بھر میں “چین کی نمبر ون نمائش” کے نام سے معروف ہے۔جیسا کہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے موجودہ کینٹن فیئر کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ گزشتہ 70 برسوں کے دوران کینٹن فیئر نے چین اور بیرونی دنیا کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ چین کے اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو وسعت دینے اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے کینٹن فیئر حقیقی تجارتی مواقع کی علامت ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں اس نمائش نے عالمی تاجروں کو مختلف اقسام کی مصنوعات پر مشتمل ایک جامع، مؤثر اور سہل تجارتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر کے تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ چین ایک بڑے فروخت کنندہ اور بڑے خریدار کی حیثیت سے دنیا کے مختلف فریقوں کے لیے نہ صرف تجارتی مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کو فائدہ پہنچانے اور ان کی خوشحالی میں اضافے کے اثرات بھی پیدا کر رہا ہے۔

Date . 18/Oct/2026

چین، کینٹن فیئر مسلسل جدت برقرار رکھے ہوئے ہے، چینی میڈیا بیجنگ () مارشل آرٹس کے ذریعے دوستی کا پیغام دینے والے انسان نما روبوٹس، چلنے پھرنے میں مدد دینے والے ایکسو اسکیلیٹن روبوٹک آلات، اور ترجمے و تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھنے والے اے آئی چشمے، اس وقت جاری 140ویں چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر، جسے کینٹن فیئر بھی کہا جاتا ہے، میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی نمائندگی کرنے والی جدید مصنوعات بڑی تعداد میں پیش کی جا رہی ہیں، جنہیں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مثبت توجہ مل رہی ہے۔رواں سال چین کے “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کا پہلا سال ہے اور کینٹن فیئر کے آغاز کو بھی 70 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران اس نمائش کا رقبہ پہلی نمائش کے 9 ہزار 600 مربع میٹر سے بڑھ کر اب 15 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر ہو چکا ہے، جبکہ خریداروں کی تعداد ابتدائی 1200 سے بڑھ کر رواں سال 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آج یہ چین میں منعقد ہونے والی سب سے قدیم، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تجارتی لین دین والی بین الاقوامی تجارتی نمائش بن چکی ہے اور دنیا بھر میں “چین کی نمبر ون نمائش” کے نام سے معروف ہے۔جیسا کہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے موجودہ کینٹن فیئر کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ گزشتہ 70 برسوں کے دوران کینٹن فیئر نے چین اور بیرونی دنیا کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ چین کے اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو وسعت دینے اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے کینٹن فیئر حقیقی تجارتی مواقع کی علامت ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں اس نمائش نے عالمی تاجروں کو مختلف اقسام کی مصنوعات پر مشتمل ایک جامع، مؤثر اور سہل تجارتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر کے تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ چین ایک بڑے فروخت کنندہ اور بڑے خریدار کی حیثیت سے دنیا کے مختلف فریقوں کے لیے نہ صرف تجارتی مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کو فائدہ پہنچانے اور ان کی خوشحالی میں اضافے کے اثرات بھی پیدا کر رہا ہے۔ Read More »

چین کا جاپانی حکمرانوں کی جانب سے یاسوکونی شرائن کی زیارت کو تاریخی انصاف کی توہین قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کا اظہاربیجنگ () جاپان میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان نے جاپانی رہنماؤں کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان اور پارلیمان کے اراکین کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں کہا کہ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران بیرونی ممالک کے خلاف جارحانہ جنگ چھیڑی اور انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا۔ چین جاپان کی جانب سے یاسوکونی شرائن سے متعلق منفی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا ایک نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے براہِ راست ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ جاپان کے موجودہ حکمران اس مقام پر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن وہ کوئی بھی جواز پیش کر لیں، اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ ان کے اقدامات کا اصل مقصد جنگی مجرموں کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، جنگی جرائم کی ذمہ داری چھپانا، تاریخی حقائق کو مسخ کرنا اور جاپان کی “دوبارہ عسکری قوت بننے” کی رفتار تیز کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جاپان کے یہ غلط اقدامات تاریخی انصاف کی توہین، تہذیب کی بنیادی حدود کو چیلنج کرنے اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہیں، جن کی عالمی برادری متفقہ طور پر سخت مخالفت کرتی ہے۔

Date . 18/Oct/2026

چین کا جاپانی حکمرانوں کی جانب سے یاسوکونی شرائن کی زیارت کو تاریخی انصاف کی توہین قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کا اظہاربیجنگ () جاپان میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان نے جاپانی رہنماؤں کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان اور پارلیمان کے اراکین کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں کہا کہ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران بیرونی ممالک کے خلاف جارحانہ جنگ چھیڑی اور انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا۔ چین جاپان کی جانب سے یاسوکونی شرائن سے متعلق منفی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا ایک نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے براہِ راست ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ جاپان کے موجودہ حکمران اس مقام پر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن وہ کوئی بھی جواز پیش کر لیں، اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ ان کے اقدامات کا اصل مقصد جنگی مجرموں کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، جنگی جرائم کی ذمہ داری چھپانا، تاریخی حقائق کو مسخ کرنا اور جاپان کی “دوبارہ عسکری قوت بننے” کی رفتار تیز کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جاپان کے یہ غلط اقدامات تاریخی انصاف کی توہین، تہذیب کی بنیادی حدود کو چیلنج کرنے اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہیں، جن کی عالمی برادری متفقہ طور پر سخت مخالفت کرتی ہے۔ Read More »

چین، دریائے یانگسی ڈیلٹا انٹرنیشنل یوتھ فلم ویک کا آغازبیجنگ () دریائے یانگسی ڈیلٹا انٹرنیشنل یوتھ فلم ویک2026 کا افتتاح نِنگ بو میں ہوا۔ اس فلم ویک کی رہنمائی چین کے قومی فلم بیورو نے کی، جبکہ چائنا میڈیا گروپ اور زے چیانگ کی صوبائی حکومت نے مشترکہ طور پر اس کا اہتمام کیا۔ملک میں نوجوان فلم سازوں پر توجہ مرکوز کرنے والے پہلے فلم ویک کے طور پر اس کا مقصد ایک پیشہ ورانہ اور جامع فلمی پلیٹ فارم تشکیل دینا، نوجوان فلم سازوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرنا، فلمی صنعت کے نئے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا، فلم سازی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور بین الاقوامی فلمی تبادلوں کو وسعت دینا ہے۔اس تقریب میں روس، بیلاروس، سویڈن، نیدرلینڈز، سنگاپور، تنزانیہ اور سینیگال سمیت مختلف ممالک کے ثقافتی، فلمی اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ چین کے علاقوں ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان سے تعلق رکھنے والی معروف فلمی شخصیات، چین اور افریقہ کے نوجوان فلم ساز نمائندوں اور فلموں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں نے بھی اس سرگرمی میں حصہ لیا۔

Date . 18/Oct/2026

چین، دریائے یانگسی ڈیلٹا انٹرنیشنل یوتھ فلم ویک کا آغازبیجنگ () دریائے یانگسی ڈیلٹا انٹرنیشنل یوتھ فلم ویک2026 کا افتتاح نِنگ بو میں ہوا۔ اس فلم ویک کی رہنمائی چین کے قومی فلم بیورو نے کی، جبکہ چائنا میڈیا گروپ اور زے چیانگ کی صوبائی حکومت نے مشترکہ طور پر اس کا اہتمام کیا۔ملک میں نوجوان فلم سازوں پر توجہ مرکوز کرنے والے پہلے فلم ویک کے طور پر اس کا مقصد ایک پیشہ ورانہ اور جامع فلمی پلیٹ فارم تشکیل دینا، نوجوان فلم سازوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرنا، فلمی صنعت کے نئے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا، فلم سازی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور بین الاقوامی فلمی تبادلوں کو وسعت دینا ہے۔اس تقریب میں روس، بیلاروس، سویڈن، نیدرلینڈز، سنگاپور، تنزانیہ اور سینیگال سمیت مختلف ممالک کے ثقافتی، فلمی اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ چین کے علاقوں ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان سے تعلق رکھنے والی معروف فلمی شخصیات، چین اور افریقہ کے نوجوان فلم ساز نمائندوں اور فلموں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں نے بھی اس سرگرمی میں حصہ لیا۔ Read More »

چین، چوتھے “لیانگ چو فورم” کا ہانگ چو میں آغازبیجنگ () چوتھے “لیانگ چو فورم” کا افتتاح 1 صوبہ زے چیانگ کے شہر ہانگ چو میں ہوا۔ فورم کا موضوع ” تہذیب کا تسلسل: ثقافتی ورثے کا تحفظ اور عہدِ حاضر کو روشن کرنا” ہے۔فورم کے دوران ایشیائی اتحاد برائے تحفظ ثقافتی ورثہ کے چوتھے اجلاس میں قازقستان کو اتحاد کا مبصر ملک اور مصر کو شراکت دار ملک بنانے کی منظوری دی گئی۔ اس اضافے کے بعد اتحاد کے رکن، مبصر اور شراکت دار ممالک کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی ہے۔

Date . 18/Oct/2026

چین، چوتھے “لیانگ چو فورم” کا ہانگ چو میں آغازبیجنگ () چوتھے “لیانگ چو فورم” کا افتتاح 1 صوبہ زے چیانگ کے شہر ہانگ چو میں ہوا۔ فورم کا موضوع ” تہذیب کا تسلسل: ثقافتی ورثے کا تحفظ اور عہدِ حاضر کو روشن کرنا” ہے۔فورم کے دوران ایشیائی اتحاد برائے تحفظ ثقافتی ورثہ کے چوتھے اجلاس میں قازقستان کو اتحاد کا مبصر ملک اور مصر کو شراکت دار ملک بنانے کی منظوری دی گئی۔ اس اضافے کے بعد اتحاد کے رکن، مبصر اور شراکت دار ممالک کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ Read More »

دریائے لان زانگ کے کنارے چین، لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فلمی شامبیجنگ () چین، لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے دریائے میکونگ پر مشترکہ گشت اور قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے لیے کھلے آسمان تلے فلم دکھانے کی خصوصی تقریب صوبہ یون نان کے شی شوانگ بان نا دائی قومیت کے خوداختیار پریفیکچر کے شہر جِنگ ہونگ میں منعقد ہوئی۔چاروں ممالک کے مشترکہ گشت اور قانون نافذ کرنے والے تقریباً 200 اہلکار دریائے لان زانگ کے کنارے جمع ہوئے اور مشترکہ طور پر چینی فلم “نیلا سیارہ” دیکھی۔ یہ چین کی پہلی ایسی خلائی فلم ہے جسے 8Kٹیکنالوجی کے ذریعے فلمایا گیا ہے۔ فلم میں چین کے تین خلا بازوں کے نقطۂ نظر سے وسیع و عریض کائنات کے دلکش مناظر اور خلا میں روزمرہ زندگی کی باریک تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے اور مشترکہ مفادات و مشکلات کے تصور کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جس نے موقع پر موجود ناظرین میں گہری پذیرائی حاصل کی۔

Date . 18/Oct/2026

دریائے لان زانگ کے کنارے چین، لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فلمی شامبیجنگ () چین، لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے دریائے میکونگ پر مشترکہ گشت اور قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے لیے کھلے آسمان تلے فلم دکھانے کی خصوصی تقریب صوبہ یون نان کے شی شوانگ بان نا دائی قومیت کے خوداختیار پریفیکچر کے شہر جِنگ ہونگ میں منعقد ہوئی۔چاروں ممالک کے مشترکہ گشت اور قانون نافذ کرنے والے تقریباً 200 اہلکار دریائے لان زانگ کے کنارے جمع ہوئے اور مشترکہ طور پر چینی فلم “نیلا سیارہ” دیکھی۔ یہ چین کی پہلی ایسی خلائی فلم ہے جسے 8Kٹیکنالوجی کے ذریعے فلمایا گیا ہے۔ فلم میں چین کے تین خلا بازوں کے نقطۂ نظر سے وسیع و عریض کائنات کے دلکش مناظر اور خلا میں روزمرہ زندگی کی باریک تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے اور مشترکہ مفادات و مشکلات کے تصور کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جس نے موقع پر موجود ناظرین میں گہری پذیرائی حاصل کی۔ Read More »

یورو زون میں افراطِ زر 3 سال کی بلند ترین سطح پر ہے ، صدر یورپی مرکزی بینک بر سلز () یورپی یونین کے ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال ستمبر میں یورو زون میں افراطِ زر کی حتمی شرح 3.8 فیصد رہی، جو اگست کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ یہ شرح رواں ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ابتدائی تخمینے کے مطابق ہے اور گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں 18.8 فیصد اضافہ ہے۔ اس کا مجموعی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔ انہیں بالخصوص یہ تشویش ہے کہ کہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پوری معیشت میں منتقل ہو کر افراطِ زر کے دوسرے دور کا سبب نہ بن جائیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایسی صورت میں کارکنان تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جبکہ اجرتوں میں اضافہ مزید افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلب میں مزید اضافہ ہوگا اور قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ تاہم، فی الحال ایسے رجحانات دیکھنے میں نہیں آئے۔کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ اگر درمیانی اور طویل مدت کے لیے افراطِ زر کی توقعات موجودہ سطح سے مزید بڑھیں یا دوسرے دور کے افراطِ زر کے اثرات ظاہر ہونے کے واضح اشارے ملیں تو اقدامات اٹھانا لازم ہے۔ موجودہ صورتحال میں یورپی مرکزی بینک کے اقدامات مناسب ہیں۔

Date . 18/Oct/2026

یورو زون میں افراطِ زر 3 سال کی بلند ترین سطح پر ہے ، صدر یورپی مرکزی بینک بر سلز () یورپی یونین کے ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال ستمبر میں یورو زون میں افراطِ زر کی حتمی شرح 3.8 فیصد رہی، جو اگست کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ یہ شرح رواں ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ابتدائی تخمینے کے مطابق ہے اور گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں 18.8 فیصد اضافہ ہے۔ اس کا مجموعی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔ انہیں بالخصوص یہ تشویش ہے کہ کہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پوری معیشت میں منتقل ہو کر افراطِ زر کے دوسرے دور کا سبب نہ بن جائیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایسی صورت میں کارکنان تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جبکہ اجرتوں میں اضافہ مزید افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلب میں مزید اضافہ ہوگا اور قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ تاہم، فی الحال ایسے رجحانات دیکھنے میں نہیں آئے۔کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ اگر درمیانی اور طویل مدت کے لیے افراطِ زر کی توقعات موجودہ سطح سے مزید بڑھیں یا دوسرے دور کے افراطِ زر کے اثرات ظاہر ہونے کے واضح اشارے ملیں تو اقدامات اٹھانا لازم ہے۔ موجودہ صورتحال میں یورپی مرکزی بینک کے اقدامات مناسب ہیں۔ Read More »

چین مونٹی نیگرو کی حکومت کی جانب سے ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو سراہتا ہے، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () مونٹی نیگرو کے صدر یاکوف میلاتووچ نے سیٹینجے شہر میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔یاکوف میلاتووچ نے وانگ ای سے درخواست کی کہ وہ صدر شی جن پھنگ تک ان کی جانب سے دلی خیرسگالی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے چینی وزیر خارجہ کے مونٹی نیگرو کے پہلے تاریخی دورے کا خیرمقدم کیا۔ میلاتووچ نے کہا کہ رواں سال مونٹی نیگرو اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 20ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، اس لیے یہ دورہ نہایت علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ مونٹی نیگرو ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات نے نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے، تجارت و معیشت اور سیاحت تعاون کے تین اہم شعبے بن چکے ہیں۔ مونٹی نیگرو کو امید ہے کہ وہ چین کے ساتھ سیاسی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر عملی تعاون کو مزید گہرا کرے گا، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ فوائد پہنچائے جا سکیں۔وانگ ای نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے صدر میلاتووچ کو پُرتپاک خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ چین مونٹی نیگرو کی حکومت کی جانب سے ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو سراہتا ہے، مونٹی نیگرو کے عوام کے منتخب کردہ ترقیاتی راستے اور طرز حکمرانی کا احترام کرتا ہے اور اس کا قابلِ اعتماد اور بھروسا مند شراکت دار بننے کے لیے تیار ہے۔

Date . 18/Oct/2026

چین مونٹی نیگرو کی حکومت کی جانب سے ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو سراہتا ہے، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () مونٹی نیگرو کے صدر یاکوف میلاتووچ نے سیٹینجے شہر میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔یاکوف میلاتووچ نے وانگ ای سے درخواست کی کہ وہ صدر شی جن پھنگ تک ان کی جانب سے دلی خیرسگالی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے چینی وزیر خارجہ کے مونٹی نیگرو کے پہلے تاریخی دورے کا خیرمقدم کیا۔ میلاتووچ نے کہا کہ رواں سال مونٹی نیگرو اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 20ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، اس لیے یہ دورہ نہایت علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ مونٹی نیگرو ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات نے نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے، تجارت و معیشت اور سیاحت تعاون کے تین اہم شعبے بن چکے ہیں۔ مونٹی نیگرو کو امید ہے کہ وہ چین کے ساتھ سیاسی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر عملی تعاون کو مزید گہرا کرے گا، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ فوائد پہنچائے جا سکیں۔وانگ ای نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے صدر میلاتووچ کو پُرتپاک خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ چین مونٹی نیگرو کی حکومت کی جانب سے ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو سراہتا ہے، مونٹی نیگرو کے عوام کے منتخب کردہ ترقیاتی راستے اور طرز حکمرانی کا احترام کرتا ہے اور اس کا قابلِ اعتماد اور بھروسا مند شراکت دار بننے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

ایک عالمی سروے میں 90 فیصد جواب دہندگان نے یاسوکونی شرائن کو “جنگی مجرموں کا مزار” قرار دے دیا،چینی میڈیابیجنگ () عالمی برادری نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور وزیر برائے اقتصادی و مالیاتی پالیسی کی جانب سے وہاں حاضری دینے جیسے اقدامات کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے کیے گئے ایک عالمی سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 90.71 فیصد جواب دہندگان نے مطالبہ کیا کہ یاسوکونی شرائن سے متعلق خبریں دیتے وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو “جنگی مجرموں کا مزار” کی اصطلاح زیادہ واضح طور پر استعمال کرنی چاہیے، تاکہ دنیا جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرے سے ہوشیار رہے۔نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے براہِ راست ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ سروے میں 88.53 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ یہ اقدام جارحیت کی تاریخ کو خوب صورت بنا کر پیش کرنے اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش ہے۔ 87.38 فیصد جواب دہندگان نے واضح طور پر کہا کہ سانائے تاکائچی سمیت جاپانی سیاست دانوں کے یہ غلط اقدامات ان ہمسایہ ممالک کے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ماضی میں جاپانی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے تھے۔

Date . 18/Oct/2026

ایک عالمی سروے میں 90 فیصد جواب دہندگان نے یاسوکونی شرائن کو “جنگی مجرموں کا مزار” قرار دے دیا،چینی میڈیابیجنگ () عالمی برادری نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور وزیر برائے اقتصادی و مالیاتی پالیسی کی جانب سے وہاں حاضری دینے جیسے اقدامات کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے کیے گئے ایک عالمی سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 90.71 فیصد جواب دہندگان نے مطالبہ کیا کہ یاسوکونی شرائن سے متعلق خبریں دیتے وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو “جنگی مجرموں کا مزار” کی اصطلاح زیادہ واضح طور پر استعمال کرنی چاہیے، تاکہ دنیا جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرے سے ہوشیار رہے۔نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے براہِ راست ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ سروے میں 88.53 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ یہ اقدام جارحیت کی تاریخ کو خوب صورت بنا کر پیش کرنے اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش ہے۔ 87.38 فیصد جواب دہندگان نے واضح طور پر کہا کہ سانائے تاکائچی سمیت جاپانی سیاست دانوں کے یہ غلط اقدامات ان ہمسایہ ممالک کے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ماضی میں جاپانی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے تھے۔ Read More »

چینی وزیراعظم تاجکستان کے سرکاری دورے پر دوشنبے پہنچ گئےدوشنبے () تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی دعوت پر چین کے وزیراعظم لی چھیانگ دوشنبے کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے۔ وہ تاجکستان کا سرکاری دورہ شروع کرنے کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی حکومتوں کے سربراہان (وزرائے اعظم) کی کونسل کے 25ویں اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔لی چھیانگ نے کہا کہ چین اور تاجکستان اچھے ہمسایہ، اچھے دوست اور اچھے شراکت دار ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات نے تیزی سے ترقی کی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو حقیقی فوائد پہنچے ہیں۔ رواں سال مئی میں دونوں ممالک کے سربراہان نے بیجنگ میں ملاقات کی تھی، جس میں چین۔تاجکستان تعلقات کو مزید گہرا اور فروغ دینے کے لیے مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چین، تاجکستان کے ساتھ مل کر روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ چین اور تاجکستان کے عوام کو مزید بہتر فوائد پہنچائے جا سکیں۔

Date . 18/Oct/2026

چینی وزیراعظم تاجکستان کے سرکاری دورے پر دوشنبے پہنچ گئےدوشنبے () تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی دعوت پر چین کے وزیراعظم لی چھیانگ دوشنبے کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے۔ وہ تاجکستان کا سرکاری دورہ شروع کرنے کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی حکومتوں کے سربراہان (وزرائے اعظم) کی کونسل کے 25ویں اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔لی چھیانگ نے کہا کہ چین اور تاجکستان اچھے ہمسایہ، اچھے دوست اور اچھے شراکت دار ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات نے تیزی سے ترقی کی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو حقیقی فوائد پہنچے ہیں۔ رواں سال مئی میں دونوں ممالک کے سربراہان نے بیجنگ میں ملاقات کی تھی، جس میں چین۔تاجکستان تعلقات کو مزید گہرا اور فروغ دینے کے لیے مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چین، تاجکستان کے ساتھ مل کر روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ چین اور تاجکستان کے عوام کو مزید بہتر فوائد پہنچائے جا سکیں۔ Read More »

Scroll to Top