News

چین کی یاسوکونی شرائن سے متعلق جاپان کے منفی اقدامات کی شدید مذمتبیجنگ () چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان اور پارلیمان کے اراکین کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے چین کا مؤقف واضح کیا۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین جاپان کے ان منفی اقدامات کی سخت مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے اور اس معاملے پر جاپان کے سامنے شدید تشویش کے ساتھ سخت احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کے تحت بیرونی ممالک کے خلاف جارحانہ جنگیں چھیڑنے کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے سنگین جرائم کے ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ جاپانی رہنما اور سیاست دان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں، اس کے باوجود وہاں عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل تاریخی معاملات کے بارے میں ان کی گہری جڑیں رکھنے والی غلط سوچ اور جنگی مجرموں کو بری الذمہ قرار دینے، جارحیت کو درست ثابت کرنے اور جاپان کی “دوبارہ عسکری قوت بننے” کے لیے راہ ہموار کرنے کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ ماؤ ننگ نے کہا کہ چین ایک بار پھر جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے، اپنے جرائم پر غور کرے اور تاریخی معاملات میں رجعت پسندانہ اقدامات بند کرے، نیز عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔

Date . 19/Oct/2026

چین کی یاسوکونی شرائن سے متعلق جاپان کے منفی اقدامات کی شدید مذمتبیجنگ () چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان اور پارلیمان کے اراکین کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے چین کا مؤقف واضح کیا۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین جاپان کے ان منفی اقدامات کی سخت مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے اور اس معاملے پر جاپان کے سامنے شدید تشویش کے ساتھ سخت احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کے تحت بیرونی ممالک کے خلاف جارحانہ جنگیں چھیڑنے کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے سنگین جرائم کے ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ جاپانی رہنما اور سیاست دان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں، اس کے باوجود وہاں عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل تاریخی معاملات کے بارے میں ان کی گہری جڑیں رکھنے والی غلط سوچ اور جنگی مجرموں کو بری الذمہ قرار دینے، جارحیت کو درست ثابت کرنے اور جاپان کی “دوبارہ عسکری قوت بننے” کے لیے راہ ہموار کرنے کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ ماؤ ننگ نے کہا کہ چین ایک بار پھر جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے، اپنے جرائم پر غور کرے اور تاریخی معاملات میں رجعت پسندانہ اقدامات بند کرے، نیز عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔ Read More »

چین کا مالیاتی شعبہ کھولنے کا عمل عالمی معیشت کو گورننس کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ () تجارتی کشیدگی میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں بے یقینی کے تناظر میں فنانشل اسٹریٹ فورم 2026 کا سالانہ اجلاس شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان کیے گئے سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 82.98 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ فنانشل اسٹریٹ فورم کا مسلسل انعقاد مالیاتی اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تبادلوں و تعاون کو مضبوط بنانے کے چین کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عالمی معیشت کو درپیش “تحفظ اور کارکردگی” کے درمیان توازن قائم کرنے کے مسئلے کا جواب بھی ہے۔رواں سال فورم کا موضوع “کھلا پن، تعاون اور جامعیت : عالمی مالیاتی ترقی کے نئے نظام کی مشترکہ تشکیل” ہے۔ اس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک اور خطوں سے 400 سے زیادہ مہمان شریک ہیں۔ 85.25 فیصد جواب دہندگان کے نزدیک فنانشل اسٹریٹ فورم مختلف فریقوں کو مالیاتی ترقی کے تصورات پر تبادلہ خیال کرنے، تعاون پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس فورم میں “اے آئی کے دور میں اقتصادی گورننس” اور “اے آئی کے ذریعے سرمایہ جاتی منڈیوں کی ڈیجیٹل و ذہین ترقی” سمیت اہم موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اے آئی اور دیگر ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجیز کے ذریعے مالیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے تازہ ترین نتائج بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 74.83 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ مالیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا گہرا انضمام اقتصادی سرگرمیوں کی کارکردگی اور مالیاتی خدمات کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہے، جبکہ 80.86 فیصد نے نشاندہی کی کہ اے آئی مالیاتی شعبے کی ساخت اور طریقۂ کار کو نئی شکل دینے والا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین کا مالیاتی شعبہ کھولنے کا عمل عالمی معیشت کو گورننس کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ () تجارتی کشیدگی میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں بے یقینی کے تناظر میں فنانشل اسٹریٹ فورم 2026 کا سالانہ اجلاس شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان کیے گئے سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 82.98 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ فنانشل اسٹریٹ فورم کا مسلسل انعقاد مالیاتی اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تبادلوں و تعاون کو مضبوط بنانے کے چین کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عالمی معیشت کو درپیش “تحفظ اور کارکردگی” کے درمیان توازن قائم کرنے کے مسئلے کا جواب بھی ہے۔رواں سال فورم کا موضوع “کھلا پن، تعاون اور جامعیت : عالمی مالیاتی ترقی کے نئے نظام کی مشترکہ تشکیل” ہے۔ اس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک اور خطوں سے 400 سے زیادہ مہمان شریک ہیں۔ 85.25 فیصد جواب دہندگان کے نزدیک فنانشل اسٹریٹ فورم مختلف فریقوں کو مالیاتی ترقی کے تصورات پر تبادلہ خیال کرنے، تعاون پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس فورم میں “اے آئی کے دور میں اقتصادی گورننس” اور “اے آئی کے ذریعے سرمایہ جاتی منڈیوں کی ڈیجیٹل و ذہین ترقی” سمیت اہم موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اے آئی اور دیگر ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجیز کے ذریعے مالیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے تازہ ترین نتائج بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 74.83 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ مالیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا گہرا انضمام اقتصادی سرگرمیوں کی کارکردگی اور مالیاتی خدمات کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہے، جبکہ 80.86 فیصد نے نشاندہی کی کہ اے آئی مالیاتی شعبے کی ساخت اور طریقۂ کار کو نئی شکل دینے والا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ Read More »

چین کا مالیاتی شعبہ کھولنے کا عمل عالمی معیشت کو گورننس کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ () تجارتی کشیدگی میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں بے یقینی کے تناظر میں فنانشل اسٹریٹ فورم 2026 کا سالانہ اجلاس شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان کیے گئے سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 82.98 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ فنانشل اسٹریٹ فورم کا مسلسل انعقاد مالیاتی اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تبادلوں و تعاون کو مضبوط بنانے کے چین کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عالمی معیشت کو درپیش “تحفظ اور کارکردگی” کے درمیان توازن قائم کرنے کے مسئلے کا جواب بھی ہے۔رواں سال فورم کا موضوع “کھلا پن، تعاون اور جامعیت : عالمی مالیاتی ترقی کے نئے نظام کی مشترکہ تشکیل” ہے۔ اس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک اور خطوں سے 400 سے زیادہ مہمان شریک ہیں۔ 85.25 فیصد جواب دہندگان کے نزدیک فنانشل اسٹریٹ فورم مختلف فریقوں کو مالیاتی ترقی کے تصورات پر تبادلہ خیال کرنے، تعاون پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس فورم میں “اے آئی کے دور میں اقتصادی گورننس” اور “اے آئی کے ذریعے سرمایہ جاتی منڈیوں کی ڈیجیٹل و ذہین ترقی” سمیت اہم موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اے آئی اور دیگر ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجیز کے ذریعے مالیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے تازہ ترین نتائج بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 74.83 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ مالیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا گہرا انضمام اقتصادی سرگرمیوں کی کارکردگی اور مالیاتی خدمات کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہے، جبکہ 80.86 فیصد نے نشاندہی کی کہ اے آئی مالیاتی شعبے کی ساخت اور طریقۂ کار کو نئی شکل دینے والا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین کا مالیاتی شعبہ کھولنے کا عمل عالمی معیشت کو گورننس کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ () تجارتی کشیدگی میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں بے یقینی کے تناظر میں فنانشل اسٹریٹ فورم 2026 کا سالانہ اجلاس شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان کیے گئے سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 82.98 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ فنانشل اسٹریٹ فورم کا مسلسل انعقاد مالیاتی اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تبادلوں و تعاون کو مضبوط بنانے کے چین کے عزم اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عالمی معیشت کو درپیش “تحفظ اور کارکردگی” کے درمیان توازن قائم کرنے کے مسئلے کا جواب بھی ہے۔رواں سال فورم کا موضوع “کھلا پن، تعاون اور جامعیت : عالمی مالیاتی ترقی کے نئے نظام کی مشترکہ تشکیل” ہے۔ اس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک اور خطوں سے 400 سے زیادہ مہمان شریک ہیں۔ 85.25 فیصد جواب دہندگان کے نزدیک فنانشل اسٹریٹ فورم مختلف فریقوں کو مالیاتی ترقی کے تصورات پر تبادلہ خیال کرنے، تعاون پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس فورم میں “اے آئی کے دور میں اقتصادی گورننس” اور “اے آئی کے ذریعے سرمایہ جاتی منڈیوں کی ڈیجیٹل و ذہین ترقی” سمیت اہم موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اے آئی اور دیگر ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجیز کے ذریعے مالیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے تازہ ترین نتائج بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 74.83 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ مالیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا گہرا انضمام اقتصادی سرگرمیوں کی کارکردگی اور مالیاتی خدمات کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہے، جبکہ 80.86 فیصد نے نشاندہی کی کہ اے آئی مالیاتی شعبے کی ساخت اور طریقۂ کار کو نئی شکل دینے والا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ Read More »

بیرون ملک تربیت اور ڈیپوٹیشن سے واپسی پر افسران کیلئے سخت اقدامات، ڈگری تصدیق اور مالی ضمانت لازمی قرار

اسلام آباد: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بیرونِ ملک اور ملک کے اندر تعلیمی پروگراموں، وظائف اور ڈیپوٹیشن سے واپس آنے والے سول سرونٹس کیلئے ڈگریوں کی تصدیق اور مالی ضمانتوں کی کڑی نگرانی سے متعلق سخت لازمی شرائط عائد کردی ہیں۔  نئے جاری کردہ ایس او پیز  کے تحت حکومت نے واضح کردیا ہے کہ سرکاری

بیرون ملک تربیت اور ڈیپوٹیشن سے واپسی پر افسران کیلئے سخت اقدامات، ڈگری تصدیق اور مالی ضمانت لازمی قرار Read More »

وزارتِ مواصلات میں مالی سال 23-2022 کے دوران 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

وزارتِ مواصلات میں  222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے قاعدگیاں مالی سال 23-2022 میں وزارتِ مواصلات کے معاملات سے متعلق رپورٹ کی گئیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے 40 کیسز میں 4 کروڑ 88 لاکھ روپے  جبکہ بھرتیوں

وزارتِ مواصلات میں مالی سال 23-2022 کے دوران 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف Read More »

چین کی جی ڈی پی میں سال بہ سال 4.6 فیصد کا اضافہ

بیجنگ () چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں، چین کے قومی ادارہ شماریات نے اس سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے معاشی اعداد و شمار جاری کیے۔ ابتدائی اعدادو شمار کے مطابق، پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی جی ڈی پی 107.1071 ٹریلین یوآن تک پہنچی،

چین کی جی ڈی پی میں سال بہ سال 4.6 فیصد کا اضافہ Read More »

چین، سی ایم جی نیشنل شارٹ اینڈ میڈیم ڈرامہ کانفرنس کا شنگھائی میں انعقاد

بیجنگ () شنگھائی کے پھو ڈونگ نیو ایریا میں سی ایم جی نیشنل شارٹ اینڈ میڈیم لینتھ ڈرامہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جہاں مختلف موضوعات اور متنوع اقسام کے ساتھ متعدد اعلیٰ معیار کے مختصر اور درمیانی دورانیے کے ڈراموں کی نمائش کی گئی۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے نائب

چین، سی ایم جی نیشنل شارٹ اینڈ میڈیم ڈرامہ کانفرنس کا شنگھائی میں انعقاد Read More »

چین، شنگھائی میں بین الاقوامی آڈیو ویژول آرٹس نائٹ کا انعقاد

بیجنگ () بین الاقوامی آڈیو ویژول آرٹس نائٹ کا انعقاد شنگھائی ایگزیبیشن سینٹر میں کیا گیا، جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کو آرٹ کے ساتھ مربوط کرنے والے آڈیو ویژول ثمرات کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے نائب سربراہ اور چائنا میڈیا گروپ کے صدر شین ہائی

چین، شنگھائی میں بین الاقوامی آڈیو ویژول آرٹس نائٹ کا انعقاد Read More »

چین تاجکستان تعلقات کی اعلیٰ معیار کی ترقی برقرار رہی ہے ، چینی وزیر اعظم

دوشنبہ () چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ اور تاجکستان کے وزیر اعظم قاہر رسول زادہ کی ملاقات ہوئی ہے ، پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی تزویراتی رہنمائی میں چین تاجکستان تعلقات کی اعلیٰ معیار کی ترقی برقرار رہی

چین تاجکستان تعلقات کی اعلیٰ معیار کی ترقی برقرار رہی ہے ، چینی وزیر اعظم Read More »

چین میں بزرگوں کی دیکھ بھال اور خدمات کے نظام میں مسلسل بہتریبیجنگ () چین میں چونگ یانگ فیسٹیول منایا جاتا ہے، جو بزرگوں کے احترام کا قومی دن بھی ہے۔ بزرگ شہریوں کو خوش حال اور مطمئن زندگی فراہم کرنا ہمیشہ صدر شی جن پھنگ کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بزرگوں کا احترام چینی قوم کی روایتی خوبی ہے، جبکہ ان کی دیکھ بھال اور مدد کرنا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد کی مختلف ضروریات پوری کرنا اور آبادی میں بڑھتی عمر کے باعث پیدا ہونے والے سماجی مسائل کو مناسب طور پر حل کرنا قومی ترقی کے مجموعی تناظر اور عوامی فلاح و بہبود سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔2025 کے اختتام تک چین میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 32 کروڑ 33 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 23 فیصد ہے۔پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے میں آبادی کی بڑھتی عمر سے فعال انداز میں نمٹنے کی قومی حکمتِ عملی پر گہرائی سے عمل درآمد، بزرگوں کی فلاح و بہبود کی خدمات اور متعلقہ صنعتوں کی مربوط ترقی کے لیے پالیسی نظام کو بہتر بنانے، اور بزرگ شہریوں کے لیے دیکھ بھال، معاشرتی کردار ادا کرنے اور خوشگوار زندگی گزارنے کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔اصلاحاتی اقدامات کے مسلسل نفاذ کے ساتھ چین میں بزرگوں کی دیکھ بھال اور خدمات کا نظام مزید بہتر ہو رہا ہے۔ زندگی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والے چینی بزرگ اب نئے مواقع اور مختلف انداز کی زندگی کو اپنا رہے ہیں۔

Date.18/Oct/2026

چین میں بزرگوں کی دیکھ بھال اور خدمات کے نظام میں مسلسل بہتریبیجنگ () چین میں چونگ یانگ فیسٹیول منایا جاتا ہے، جو بزرگوں کے احترام کا قومی دن بھی ہے۔ بزرگ شہریوں کو خوش حال اور مطمئن زندگی فراہم کرنا ہمیشہ صدر شی جن پھنگ کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بزرگوں کا احترام چینی قوم کی روایتی خوبی ہے، جبکہ ان کی دیکھ بھال اور مدد کرنا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد کی مختلف ضروریات پوری کرنا اور آبادی میں بڑھتی عمر کے باعث پیدا ہونے والے سماجی مسائل کو مناسب طور پر حل کرنا قومی ترقی کے مجموعی تناظر اور عوامی فلاح و بہبود سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔2025 کے اختتام تک چین میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 32 کروڑ 33 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 23 فیصد ہے۔پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے میں آبادی کی بڑھتی عمر سے فعال انداز میں نمٹنے کی قومی حکمتِ عملی پر گہرائی سے عمل درآمد، بزرگوں کی فلاح و بہبود کی خدمات اور متعلقہ صنعتوں کی مربوط ترقی کے لیے پالیسی نظام کو بہتر بنانے، اور بزرگ شہریوں کے لیے دیکھ بھال، معاشرتی کردار ادا کرنے اور خوشگوار زندگی گزارنے کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔اصلاحاتی اقدامات کے مسلسل نفاذ کے ساتھ چین میں بزرگوں کی دیکھ بھال اور خدمات کا نظام مزید بہتر ہو رہا ہے۔ زندگی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والے چینی بزرگ اب نئے مواقع اور مختلف انداز کی زندگی کو اپنا رہے ہیں۔ Read More »

Scroll to Top