News

جاپانی سیاست دانوں کی “یاسوکونی وار شرائن” پر حاضری مذموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے، چینی میڈیا

ٹو کیو () جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے یاسوکونی شرائن پر حاضری کی فیس ادا کی۔ ساتھ ہی جاپانی کابینہ کے کئی عہدیداروں اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی یاسوکونی شرائن پر حاضری دی۔ ٹوکیو ٹرائلز کے 80 سال مکمل ہونے کے اس خصوصی موقع پر جاپانی سیاست دانوں کے […]

جاپانی سیاست دانوں کی “یاسوکونی وار شرائن” پر حاضری مذموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے، چینی میڈیا Read More »

چین اور بلغاریہ کے درمیان ایک مضبوط سیاسی بنیاد ہے، چینی وزیر خارجہ

صوفیہ () بلغاریہ کی صدر الیانا یوتووا اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی۔منگل کے روز یوتووا نے کہا کہ بلغاریہ اور چین کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور 2019 میں بلغاریہ چین تزویراتی شراکت داری بھی قائم کی گئی، جو مساوات اور باہمی مفادات کی بنیاد پر

چین اور بلغاریہ کے درمیان ایک مضبوط سیاسی بنیاد ہے، چینی وزیر خارجہ Read More »

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیچیدہ ہے، چینی وزیر اعظم

اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے، لی چھیانگ دوشنبے () شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے پچیسیوں اجلاس کے موقع پر دوشنبے میں چینی وزیر اعظم لی چھیانگ اور ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف کے درمیان ملاقات ہوئی۔منگل کے روز لی چھیانگ

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیچیدہ ہے، چینی وزیر اعظم Read More »

چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں ، چینی وزیر اعظم

دوشنبے () چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے پچیسویں اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر اعظم الیگزینڈر ٹرچن سے ملاقات کی۔منگل کے روزلی چھانگ نے کہا کہ چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں جو

چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں ، چینی وزیر اعظم Read More »

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔

Date . 19/Oct/2026

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔ Read More »

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔

Date . 19/Oct/2026

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔ Read More »

کینٹن فیئر کا سترسالہ سفر چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ عالمی تعاون کے دروازے کھول رہی ہے، چینی میڈیابیجنگ () چین کے شہر گوانگ چو میں ایک سو چالیسواں چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر (کینٹن فیئر) منعقد ہو رہا ہے۔ سروس روبوٹس کے سیکشن میں غیر ملکی تاجروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ وینزویلا کے ایک تاجر رافیل نے بیٹ ہاتھ میں لیا اور انسان نما روبوٹ کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلا۔ کچھ راؤنڈز کے بعد، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جس ٹیکنالوجی کو صرف تصور کیا جا سکتا تھا ، اب اسے آزمایا جا سکتا ہے، اور وہ اس پراڈکٹ کو اپنے ساتھیوں کو تجویز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نمائش کنندہ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ روبوٹ صرف اسٹیج پر پرفارم کرنے والا نہیں، بلکہ صنعتی معائنے اور عوامی رہنمائی جیسے حقیقی کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ کے بہت سے خریداروں نے میلے کے پہلے دن ہی بڑی مقدارمیں خریداری پر بات چیت شروع کی ہے۔ یہ منظر ایک سو چالیسویں کینٹن فیئر کی سب سے زندہ مثال ہے۔اس سال کینٹن فیئر کے قیام کے ستر سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اپنے آغاز میں کینٹن فیئر میں صرف 9600 مربع میٹر کا ہال تھا اور 1200 غیر ملکی خریدار ، نمائش میں ہلکی صنعت اور روزمرہ استعمال کا سامان تھا۔ آج اس میلے کا کل رقبہ 15.5 لاکھ مربع میٹر ہے، جس میں 32 ہزار کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار غیر ملکی خریدار کاروبار کے لیے موجود ہیں۔ چین کی وزارت تجارت اورریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ میلے میں نئی مصنوعات کا تناسب 23.2 فیصد اور سبز مصنوعات کا تناسب 26 فیصد ہے اور یہ دونوں نئے ریکارڈز ہیں۔ 64 فیصد نمائش کنندہ کمپنیوں نے صنعتی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو عملی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ خصوصی اورجدید مصنوعات کے حامل اداروں، اختراعی، سنگل آئٹم چیمپئن، اور ہائی ٹیک انٹرپرائزز کی تعداد 11,000 سے زیادہ ہے۔ ماضی کی چین کی روایتی مینو فیکچرنگ اب نئی معیار ی پیداواری قوتوں کے اظہار والی “ذہین مینوفیکچرنگ میں تبدیل ہو گئی ہے ۔مصنوعی ذہانت کے بارے میں لوگ عام طور پر بڑے ماڈلز اور کمپیوٹیشنل طاقت کے مقابلے جیسے موضوعات پر توجہ دیتے ہیں۔ موجودہ کینٹن فیئر میں مصنوعی ذہانت تحقیقی اداروں سے نکل کر ایسی حقیقی پراڈکٹ بن گئی ہے جس پر معاہدے کیے جا سکتے ہیں،اس کی ترسیل ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ اسمبلنگ اور چھانٹنے کا کام کرنے والا انسان نما روبوٹ ہو، یا اسمارٹ گلاسز ، یہ سب ایک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف چند بڑی ٹیک کمپنیوں کا کھیل نہیں رہی۔ چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کا بنیادی مقصد صرف ذہین ڈیوائسز بنانا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پوری پیداواری چین کو تبدیل کرنا ہے۔ مصنوعات کے ڈیزائن، سافٹ پراڈکشن سے لے کر بیرون ملک گاہکوں کے لیے حسب ضرورت تیاری تک، پوری چین میں معیار اور کارکردگی دونوں کی بہتری کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانے مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری لائنوں کو بہتر بناتے ہیں اور بیرونی مارکیٹ کے مطابق مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ جامع فوائد پر مبنی یہ ڈیجیٹل تبدیلی ہی چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی بین الاقوامی مسابقتی طاقت کی بنیاد ہے۔ ٹیکنالوجی اب صرف شاندار مظاہروں کے لیے نہیں، بلکہ عالمی مارکیٹ میں مختلف ممالک اور شعبوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرتی ہے اور اختراعی صلاحیت کو قابل تجارت مصنوعاتی حل میں بدل رہی ہے۔کینٹن فئیر میں نمائشی ہال میں مختلف ممالک کے تاجروں کی مسلسل آمد عالمگیریت پر بحث کے لیے ایک زندہ وضاحت فراہم کرتی ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ میں “ڈی کپلنگ” اور “ڈی رسکنگ” جیسے بیانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں، لیکن آرڈرز جھوٹ نہیں بولتے۔ تقریباً 200 ممالک اور علاقوں کے خریداردوردور سے گوانگ چو پہنچے ہیں۔ وہ اسٹالز پر پیرامیٹرز پوچھتے ہیں، ماڈلز طے کرتے ہیں اور طویل مدتی تعاون پر بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے عملی انتخاب سے باہمی فائدے والے تجارتی تعاون کی توثیق کر رہے ہیں۔ کینٹن فیئر ستر سال کی مشکلات کے باوجود کبھی بند نہیں ہوا جو خود کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا زندہ ثبوت ہے۔سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کرنے والا یہ دو طرفہ تعاون، بیرونی دنیا کے لیے چین کے کھلے پن کا مستقل عمل ہے۔ ستر سال کے دوران کینٹن فیئر نے صرف اشیا کا لین دین ہی نہیں دیکھا، بلکہ چین کے عالمگیریت کو قبول کرنے اور تمام ممالک کے ساتھ اختراعی فوائد بانٹنے کے مستقل عزم کو بھی دیکھا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اس سال کے کینٹن فیئرکے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ اپنے قیام کے گزشتہ ستر سال میں کینٹن فئیر نے چین اور بیرونی دنیا کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ چین کے اعلیٰ معیارکی کھلے پن کو وسعت دینے اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ نئی صورتحال میں، چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ہاتھ ملا کر کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا تحفظ کرنے، عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم اور ہموار بنانے، بین الاقوامی تجارت میں باہمی فائدے کے تعاون کے دائرے کو بڑھانے، جامع اور سب کے لیے فائدہ مند اقتصادی عالمگیریت کوفروغ دینے اور دنیا کی ترقی و خوشحالی کے لیے مسلسل نئی طاقت فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔ایک روبوٹ جو بیڈمنٹن کھیل سکتا ہے اور کارخانے میں کام بھی کر سکتا ہے، اس کے پیچھے عوامی جمہوریہ چین کے ستر سال کی بیرونی تجارتی کوششوں اور کھلے پن کے جذبے کی وراثت ہے ۔کینٹن فیئر کی تبدیلیاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ چین کی نئے معیارکی پیداواری قوت بند کمرے میں خود کو بہتر کرنے کا عمل نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لئے باہمی فائدے پرمبنی اختراعی طاقت ہے۔ تبدیلیوں سے بھرپور اس دنیا میں اگر تمام فریق میلے کو ایک پل اور ذہین مینوفیکچرنگ کو ایک ذریعہ کے طور پردیکھتے ہیں، اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو برقرار رکھتے ہیں، تو ہم یقیناً تکنیکی ترقی کے فوائد کا اشتراک کر سکیں گے اور مل کر ترقی کے مزید مواقع پیدا کر سکیں گے۔

Date . 19/Oct/2026

کینٹن فیئر کا سترسالہ سفر چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ عالمی تعاون کے دروازے کھول رہی ہے، چینی میڈیابیجنگ () چین کے شہر گوانگ چو میں ایک سو چالیسواں چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر (کینٹن فیئر) منعقد ہو رہا ہے۔ سروس روبوٹس کے سیکشن میں غیر ملکی تاجروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ وینزویلا کے ایک تاجر رافیل نے بیٹ ہاتھ میں لیا اور انسان نما روبوٹ کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلا۔ کچھ راؤنڈز کے بعد، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جس ٹیکنالوجی کو صرف تصور کیا جا سکتا تھا ، اب اسے آزمایا جا سکتا ہے، اور وہ اس پراڈکٹ کو اپنے ساتھیوں کو تجویز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نمائش کنندہ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ روبوٹ صرف اسٹیج پر پرفارم کرنے والا نہیں، بلکہ صنعتی معائنے اور عوامی رہنمائی جیسے حقیقی کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ کے بہت سے خریداروں نے میلے کے پہلے دن ہی بڑی مقدارمیں خریداری پر بات چیت شروع کی ہے۔ یہ منظر ایک سو چالیسویں کینٹن فیئر کی سب سے زندہ مثال ہے۔اس سال کینٹن فیئر کے قیام کے ستر سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اپنے آغاز میں کینٹن فیئر میں صرف 9600 مربع میٹر کا ہال تھا اور 1200 غیر ملکی خریدار ، نمائش میں ہلکی صنعت اور روزمرہ استعمال کا سامان تھا۔ آج اس میلے کا کل رقبہ 15.5 لاکھ مربع میٹر ہے، جس میں 32 ہزار کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار غیر ملکی خریدار کاروبار کے لیے موجود ہیں۔ چین کی وزارت تجارت اورریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ میلے میں نئی مصنوعات کا تناسب 23.2 فیصد اور سبز مصنوعات کا تناسب 26 فیصد ہے اور یہ دونوں نئے ریکارڈز ہیں۔ 64 فیصد نمائش کنندہ کمپنیوں نے صنعتی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو عملی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ خصوصی اورجدید مصنوعات کے حامل اداروں، اختراعی، سنگل آئٹم چیمپئن، اور ہائی ٹیک انٹرپرائزز کی تعداد 11,000 سے زیادہ ہے۔ ماضی کی چین کی روایتی مینو فیکچرنگ اب نئی معیار ی پیداواری قوتوں کے اظہار والی “ذہین مینوفیکچرنگ میں تبدیل ہو گئی ہے ۔مصنوعی ذہانت کے بارے میں لوگ عام طور پر بڑے ماڈلز اور کمپیوٹیشنل طاقت کے مقابلے جیسے موضوعات پر توجہ دیتے ہیں۔ موجودہ کینٹن فیئر میں مصنوعی ذہانت تحقیقی اداروں سے نکل کر ایسی حقیقی پراڈکٹ بن گئی ہے جس پر معاہدے کیے جا سکتے ہیں،اس کی ترسیل ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ اسمبلنگ اور چھانٹنے کا کام کرنے والا انسان نما روبوٹ ہو، یا اسمارٹ گلاسز ، یہ سب ایک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف چند بڑی ٹیک کمپنیوں کا کھیل نہیں رہی۔ چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کا بنیادی مقصد صرف ذہین ڈیوائسز بنانا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پوری پیداواری چین کو تبدیل کرنا ہے۔ مصنوعات کے ڈیزائن، سافٹ پراڈکشن سے لے کر بیرون ملک گاہکوں کے لیے حسب ضرورت تیاری تک، پوری چین میں معیار اور کارکردگی دونوں کی بہتری کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانے مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری لائنوں کو بہتر بناتے ہیں اور بیرونی مارکیٹ کے مطابق مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ جامع فوائد پر مبنی یہ ڈیجیٹل تبدیلی ہی چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی بین الاقوامی مسابقتی طاقت کی بنیاد ہے۔ ٹیکنالوجی اب صرف شاندار مظاہروں کے لیے نہیں، بلکہ عالمی مارکیٹ میں مختلف ممالک اور شعبوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرتی ہے اور اختراعی صلاحیت کو قابل تجارت مصنوعاتی حل میں بدل رہی ہے۔کینٹن فئیر میں نمائشی ہال میں مختلف ممالک کے تاجروں کی مسلسل آمد عالمگیریت پر بحث کے لیے ایک زندہ وضاحت فراہم کرتی ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ میں “ڈی کپلنگ” اور “ڈی رسکنگ” جیسے بیانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں، لیکن آرڈرز جھوٹ نہیں بولتے۔ تقریباً 200 ممالک اور علاقوں کے خریداردوردور سے گوانگ چو پہنچے ہیں۔ وہ اسٹالز پر پیرامیٹرز پوچھتے ہیں، ماڈلز طے کرتے ہیں اور طویل مدتی تعاون پر بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے عملی انتخاب سے باہمی فائدے والے تجارتی تعاون کی توثیق کر رہے ہیں۔ کینٹن فیئر ستر سال کی مشکلات کے باوجود کبھی بند نہیں ہوا جو خود کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا زندہ ثبوت ہے۔سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کرنے والا یہ دو طرفہ تعاون، بیرونی دنیا کے لیے چین کے کھلے پن کا مستقل عمل ہے۔ ستر سال کے دوران کینٹن فیئر نے صرف اشیا کا لین دین ہی نہیں دیکھا، بلکہ چین کے عالمگیریت کو قبول کرنے اور تمام ممالک کے ساتھ اختراعی فوائد بانٹنے کے مستقل عزم کو بھی دیکھا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اس سال کے کینٹن فیئرکے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ اپنے قیام کے گزشتہ ستر سال میں کینٹن فئیر نے چین اور بیرونی دنیا کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ چین کے اعلیٰ معیارکی کھلے پن کو وسعت دینے اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ نئی صورتحال میں، چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ہاتھ ملا کر کثیرالطرفہ تجارتی نظام کا تحفظ کرنے، عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم اور ہموار بنانے، بین الاقوامی تجارت میں باہمی فائدے کے تعاون کے دائرے کو بڑھانے، جامع اور سب کے لیے فائدہ مند اقتصادی عالمگیریت کوفروغ دینے اور دنیا کی ترقی و خوشحالی کے لیے مسلسل نئی طاقت فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔ایک روبوٹ جو بیڈمنٹن کھیل سکتا ہے اور کارخانے میں کام بھی کر سکتا ہے، اس کے پیچھے عوامی جمہوریہ چین کے ستر سال کی بیرونی تجارتی کوششوں اور کھلے پن کے جذبے کی وراثت ہے ۔کینٹن فیئر کی تبدیلیاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ چین کی نئے معیارکی پیداواری قوت بند کمرے میں خود کو بہتر کرنے کا عمل نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لئے باہمی فائدے پرمبنی اختراعی طاقت ہے۔ تبدیلیوں سے بھرپور اس دنیا میں اگر تمام فریق میلے کو ایک پل اور ذہین مینوفیکچرنگ کو ایک ذریعہ کے طور پردیکھتے ہیں، اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو برقرار رکھتے ہیں، تو ہم یقیناً تکنیکی ترقی کے فوائد کا اشتراک کر سکیں گے اور مل کر ترقی کے مزید مواقع پیدا کر سکیں گے۔ Read More »

Scroll to Top