News

چین اور برازیل کا جامع تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقدو نوں مما لک انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں، چینی صدربیجنگ ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔پیر کے روزشی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تعمیر اور دونوں ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کیا بلکہ موجودہ غیر یقینی بین الاقوامی صورتحال میں استحکام بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، برازیل کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے مثبت عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔شی جن پھنگ نے زور دیا کہ نئی صورتحال اور نئے چیلنجز کے پیشِ نظر چین اور برازیل، گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان کی حیثیت سے، تاریخ کے درست رخ اور انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں، عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات، بین الاقوامی عدل و انصاف کے فروغ میں مزید تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر وسیع تر برکس تعاون کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے، تعاون کی درست سمت برقرار رکھنے، اتحاد کو مضبوط بنانے اور مزید عملی نتائج حاصل کرنے چاہییں تاکہ گلوبل ساؤتھ کے اتحاد اور خود انحصاری کا نیا باب رقم کیا جا سکے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین برازیل کے بین الاقوامی مقام اور اثر و رسوخ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، برازیل کی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے، بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے برازیل کے کردار کو سراہتا ہے۔صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا کہ زیادہ منصفانہ دنیا اور زیادہ پائیدار کرۂ ارض کی تعمیر کے لیے چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تشکیل میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔برازیل مصنوعی ذہانت، توانائی اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، زیادہ سے زیادہ چینی کمپنیوں کی برازیل میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کا تعاون مزید متنوع اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔

DATE . 27/July/2026

چین اور برازیل کا جامع تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقدو نوں مما لک انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں، چینی صدربیجنگ ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔پیر کے روزشی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تعمیر اور دونوں ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کیا بلکہ موجودہ غیر یقینی بین الاقوامی صورتحال میں استحکام بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، برازیل کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے مثبت عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔شی جن پھنگ نے زور دیا کہ نئی صورتحال اور نئے چیلنجز کے پیشِ نظر چین اور برازیل، گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان کی حیثیت سے، تاریخ کے درست رخ اور انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں، عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات، بین الاقوامی عدل و انصاف کے فروغ میں مزید تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر وسیع تر برکس تعاون کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے، تعاون کی درست سمت برقرار رکھنے، اتحاد کو مضبوط بنانے اور مزید عملی نتائج حاصل کرنے چاہییں تاکہ گلوبل ساؤتھ کے اتحاد اور خود انحصاری کا نیا باب رقم کیا جا سکے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین برازیل کے بین الاقوامی مقام اور اثر و رسوخ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، برازیل کی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے، بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے برازیل کے کردار کو سراہتا ہے۔صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا کہ زیادہ منصفانہ دنیا اور زیادہ پائیدار کرۂ ارض کی تعمیر کے لیے چین۔برازیل ہم نصیب معاشرے کی تشکیل میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔برازیل مصنوعی ذہانت، توانائی اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، زیادہ سے زیادہ چینی کمپنیوں کی برازیل میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کا تعاون مزید متنوع اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ Read More »

مٹی سے تہذیب تک، جِنگ دہ زن کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت، باہمی ثقافتی سیکھ کی طاقت کی عکاس

بیجنگ () جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کے 48ویں عالمی ثقافتی ورثہ اجلاس میں چین کی جانب سے پیش کیے گئے ’’جِنگ دہ زن کے روایتی چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت کے آثار‘‘ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ

مٹی سے تہذیب تک، جِنگ دہ زن کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت، باہمی ثقافتی سیکھ کی طاقت کی عکاس Read More »

چائنا کوسٹ گارڈ کے جہازوں نے مزید 2 ویتنامی شہریوں کو کامیابی سے بچا لیا

بیجنگ () چائنا کوسٹ گارڈ کے جہازوں نے بحیرہ جنوبی چین کے جزائر نانشاکے قریب سمندری علاقے میں خطرے سے دوچار 2 ویتنامی شہریوں کو کامیابی سے بچا لیا۔ دونوں کی زندگی کی علامات معمول کے مطابق ہیں۔ اب تک چین مجموعی طور پر 47 ویتنامی شہریوں کو کامیابی سے بچا چکا ہے۔25 جولائی کو

چائنا کوسٹ گارڈ کے جہازوں نے مزید 2 ویتنامی شہریوں کو کامیابی سے بچا لیا Read More »

چین، بین الاقوامی مینگروو مرکز باضابطہ طور پر فعال

مرکز میں 8 رکن ممالک اور 13 دستخط کنندہ ممالک شامل ہو چکے ہیں بیجنگ () چین کے قومی محکمہ برائے جنگلات و سبزہ زار سے موصولہ اطلاع کے مطابق، بین الاقوامی مینگروو مرکز کی پہلی کونسل کا اجلاس اور افتتاحی تقریب صوبہ گوانگ دونگ کے شہر شین زین میں منعقد ہوئی، جس سے ظاہر

چین، بین الاقوامی مینگروو مرکز باضابطہ طور پر فعال Read More »

چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدردونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں، شیبیجنگ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے جمہوریہ مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے نام ایک تہنیتی پیغام میں انہیں مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔اتوار کے روزشی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران دونوں ممالک نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں صدر محمد معیزو کے دورۂ چین کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی اتفاق سے چین اور مالدیپ کے تعلقات کو جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی سطح تک بلند کرنے اور چین۔مالدیپ ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ صدر محمد معیزو کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔مالدیپ جامع تزویراتی شراکت داری کو مسلسل آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔اسی روز چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بھی مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مالدیپ کی وزیرِ خارجہ اروتشام آدم کو تہنیتی پیغام ارسال کیا۔

چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدردونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں، شیبیجنگ()چین کے صدر شی جن پھنگ نے جمہوریہ مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے نام ایک تہنیتی پیغام میں انہیں مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔اتوار کے روزشی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 54 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران دونوں ممالک نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں صدر محمد معیزو کے دورۂ چین کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی اتفاق سے چین اور مالدیپ کے تعلقات کو جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی سطح تک بلند کرنے اور چین۔مالدیپ ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ صدر محمد معیزو کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی روایتی دوستی کو مزید فروغ دینے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔مالدیپ جامع تزویراتی شراکت داری کو مسلسل آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔اسی روز چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بھی مالدیپ کے 61ویں یومِ آزادی کے موقع پر مالدیپ کی وزیرِ خارجہ اروتشام آدم کو تہنیتی پیغام ارسال کیا۔ Read More »

متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائجچین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہےبیجنگ ()امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق متعدد ممالک کے عوام کی نظر میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا رجحان سامنے آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور طرزِ حکمرانی کو بین الاقوامی برادری میں مسلسل وسیع پذیر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔اس سروے میں 36 ممالک اور خطوں سے 42 ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک، جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، وہاں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے چین کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں چین زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین کو استحکام کی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق شامل 36 ممالک اور خطوں میں سے 27 میں عوام کی چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جن میں امریکہ کے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو بھی شامل ہیں۔اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے بارے میں رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد یہ سمجھنے لگے کہ امریکہ عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تعداد میں جواب دہندگان نے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ چین عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

DATE . 26/July/2026

متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائجچین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہےبیجنگ ()امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق متعدد ممالک کے عوام کی نظر میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا رجحان سامنے آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور طرزِ حکمرانی کو بین الاقوامی برادری میں مسلسل وسیع پذیر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔اس سروے میں 36 ممالک اور خطوں سے 42 ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک، جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، وہاں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے چین کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں چین زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین کو استحکام کی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق شامل 36 ممالک اور خطوں میں سے 27 میں عوام کی چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جن میں امریکہ کے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو بھی شامل ہیں۔اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے بارے میں رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد یہ سمجھنے لگے کہ امریکہ عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تعداد میں جواب دہندگان نے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ چین عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ Read More »

چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدمپاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، چینی سفیربیجنگ ()پاپوا نیو گنی کی حکومت نے”پاپوا نیو گنی میں تائی پے اکنامک آفس” بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاپوا نیو گنی میں تعینات چین کے سفیر یانگ شیاو گوانگ نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ “ایک چین کے اصول” پر عمل درآمد بین الاقوامی برادری کا مشترکہ رجحان اور وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، جو چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور عوام کے مثبت عزم اور دوستانہ رویے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی تائیوان سے متعلق اداروں کے معاملات نمٹانے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاپوا نیو گنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو پچاس برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاپوا نیو گنی کا یہ فیصلہ چین اور پاپوا نیو گنی کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

DATE . 26/July/2026

چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدمپاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، چینی سفیربیجنگ ()پاپوا نیو گنی کی حکومت نے”پاپوا نیو گنی میں تائی پے اکنامک آفس” بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاپوا نیو گنی میں تعینات چین کے سفیر یانگ شیاو گوانگ نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ “ایک چین کے اصول” پر عمل درآمد بین الاقوامی برادری کا مشترکہ رجحان اور وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاپوا نیو گنی کی حکومت نے تاریخ کے دھارے سے ہم آہنگ فیصلہ کیا ہے، جو چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور عوام کے مثبت عزم اور دوستانہ رویے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی تائیوان سے متعلق اداروں کے معاملات نمٹانے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاپوا نیو گنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو پچاس برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاپوا نیو گنی کا یہ فیصلہ چین اور پاپوا نیو گنی کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ Read More »

Scroll to Top